Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

موٹروے: ’بیس پوائنٹس کٹ گئے تو ڈرائیونگ لائسنس منسوخ‘

By Akhtar Rasool
جون 23, 2022 4 Min Read
0

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز پولیس نے ’ڈی میرٹ پوائنٹس سسٹم‘ پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر ڈرائیور کو جرمانے کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کٹنے کا سامنا کرنا پڑے گا

موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر پوائنٹس سسٹم قانون پہلے سے موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا، تاہم اب موٹروے پولیس نے اس پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے آگہی کے لیے تشہیر بھی کی جا رہی ہے

پوائنٹس سسٹم کیا ہے؟

نیشنل ہائی وے اینڈ سیفٹی آرڈیننس کی شق نمبر 86 کے مطابق موٹروے اور ہائی ویز پر دوران ڈرائیونگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کاٹے جائیں گے

اس قانون کے مطابق پوائنٹس جب دو سالوں میں دس تک پہنچ جائیں تو ڈرائیور کو وارننگ دی جائے گی اور مزید خلاف ورزی پر جب یہ پوائنٹس بیس تک پہنچ جائیں گے تو ڈرائیور کا لائسنس چھ ماہ سے ایک سال تک کے لیے منسوخ کردیا جائے گا

یہ پوائنٹس مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں کے لیے الگ الگ ہیں۔ خلاف ورزیوں کے حوالے سے ہائی وے آرڈیننس کے شیڈول نمبر 11 میں تفصیل موجود ہے

اس شیڈول میں ہر ایک خلاف ورزی کے لیے الگ الگ پوائنٹس موجود ہیں اور متعلقہ خلاف ورزی کی صورت میں وہ پوائنٹس جمع ہوتے جائیں گے

ان خلاف ورزیوں میں سرفہرست وہ روڈ حادثہ ہے، جس میں کسی کی موت واقع ہوجائے اور اس صورت میں ڈرائیور کے خلاف پندرہ پوائنٹس کا اضافہ ہوگا اور جب یہ بیس تک پہنچ جائیں تو لائسنس چھ مہینے یا ایک سال تک منسوخ کر دیا جائے گا

اسی طرح شیڈول کے مطابق وہ حادثہ، جس میں کوئی شدید زخمی ہو جائے، تو اس صورت میں ڈرائیور کے دس پوائنٹس کاٹے جائیں گے اور اسے وارننگ بھی دی جائے گی جبکہ معمولی زخمی ہونے کی صورت میں آٹھ پوائنٹس اور حادثے میں کسی پراپرٹی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں چھ پوائنٹس کاٹے جائیں گے

اسی طرح شیڈول کے مطابق اگر ڈرائیور نے بغیر کسی وجہ کے حادثے کو روکنے کی کوشش نہیں کی تو اس کے دس پوائنٹس جبکہ منسوخ شدہ لائسنس پر گاڑی چلانے پر بھی دس پوائنٹس کاٹے جائیں گے

اوورلوڈنگ کی صورت میں چھ پوائنٹس، نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کی صورت میں آٹھ پوائنٹس، ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ پوائنٹس، حد رفتار سے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ سے زائد گاڑی چلانے کی صورت میں چھ پوائنٹس، غلط اوورٹیکنگ پر چھ پوائنٹس، یونیفارم میں پولیس کی طرف سے روکنے کی اشارے پر نہ رکنے کی صورت میں چھ پوائنٹس کاٹے جائیں گے

اسی طرح ون وے روڈ پر غلط لین پر چلنے کی صورت میں چار پوائنٹس، اسٹاپ سائن پر نہ روکنے کی صورت میں چار پوائنٹس، ریلوے ٹریکس پر غلط کراسنگ کی صورت میں چار پوائنٹس، رات کے وقت خراب لائٹ والی گاڑی چلانے کی صورت میں چار پوائنٹس، غلط یو ٹرن لینے، پیدل چلنے والوں کو راستہ نہ دینے، پچھلی اسکرین کور کرنے کی صورت میں، ہیڈ لائٹ بند نہ کرنے کی صورت میں، نئے ڈرائیورز کی حفاظت نہ کرنے، احتیاط سے گاڑی نہ چلانے کی صورت میں ڈرائیور کے خلاف دو دو پوائنٹس کاٹے جائیں گے

وہ خلاف ورزیاں جن کی وجہ سے تین پوائنٹس کا اضافہ ہوگا، ان میں خراب بریک والی گاڑی چلانا، خراب اسٹیئرنگ، خراب ٹائر، مختلف قسم کے ایکسلز کے استعمال، گاڑی کے زیادہ شور کرنے اور زیبرا کراسنگ پر نہ رکنے جیسی خلاف ورزیاں شامل ہیں

پوائنٹس سسٹم کے نفاذ کی وجہ

موٹروے پولیس کے ترجمان ياسر محمود کا کہنا ہے ”موٹروے پولیس نے پورے پاکستان سے اَسی لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنس کا ڈیٹا محفوظ کرلیا ہے اور نیشنل ہائی وے اینڈ سیفٹی آرڈیننس کے تحت اب ہر چالان کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کاٹے جائیں گے“

انہوں نے بتایا ”سابقہ تمام چالانوں کا ریکارڈ اب شناختی کارڈ، موبائل نمبر یا لائسنس نمبر کی مدد سے حاصل کیا جا سکے گا اور لائسنس کا ایک پورا ڈیٹابیس موٹروے پولیس کے پاس موجود ہوگا“

یاسر محمود نے بتایا کہ موٹروے پولیس ایک قومی سطح کی پولیس ہے اور چار ہزار سے زائد کلومیٹر کی سڑکوں پر ڈیوٹیاں سر انجام دیتی ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان، اسلام آباد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت تمام صوبوں پر پوائنٹس سسٹم کے یہ قوانین نافذ العمل ہوں گے اور تمام صوبوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے

انہوں نے بتایا ”اسلام آباد پولیس نے ڈمی پوائنٹس کا آغاز کیا ہے۔ باقی صوبے بھی اس پر جلد ہی کام شروع کریں۔ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کو یہ باور کروانا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں تاکہ ٹریفک حادثات کی شرح میں جتنا ممکن ہوسکے، کمی لائی جا سکے“

واضح رہے کہ یہ پوائنٹس سسٹم برطانیہ، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، ناروے، امریکہ کی کچھ ریاستوں، فرانس، نیوزی لینڈ، سنگاپور سمیت دنیا کے مختف ممالک میں پہلے سے نافذ ہے اور وہاں اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

Tags:

driving licenseMotorwayPakistanrevoked
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

شادی کے وعدے پر مبینہ پاکستانی جاسوسہ کو میزائلوں کی معلومات دینے والا بھارتی انجنیئر گرفتار

Next

کراچی کے ساحل پر زہریلی ’بلیو باٹل‘ سے کیسے بچا جائے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme