Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

But-it-could-not-happen
کالماہم ترینتازہ ترین

مگر یوں ہو نہ سکا

By Akhtar Rasool
مارچ 6, 2024 5 Min Read
0

یہ ایک پرانی کہانی ہے مگر اتنی پرانی بھی نہیں ہے کہ آپ مہاتما گوتم بدھ کے دور کو کھنگالنے بیٹھ جائیں۔ یہ ہماری اپنی تاریخ میں ناپید کہانی ہے۔ اس نوعیت کی نہ جانے کتنی کہانیاں تاریخ کے اوراق سے معدوم ہو چکی ہیں۔ غائب ہو چکی ہیں، گم ہو چکی ہیں۔۔

آج میں آپ کو ایسی ہی ایک گم گشتہ کہانی سنانے کہیں نہیں جا رہا۔ل، یہیں آپ کے سامنے بیٹھ کر میں آپ کو کہانی سناؤں گا۔۔ آپ مجھ سے نہیں، کسی کھوجی سے پوچھئے کہ اس نوعیت کی کہانیاں ہماری تاریخ کے پنوں سے کیوں کر غائب ہو جاتی ہیں۔ آپ مجھ سے صرف کہانی سنیں۔ کہانی کی صداقت کے بارے میں آپ مجھ سے کچھ مت پوچھیں۔ سچ اور جھوٹ کے معاملے میں میری ساکھ خاصی متنازع ہے۔ درست ہے کہ میں دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہوں۔ آپ مجھے پیدائشی جھوٹا بھی کہہ سکتے ہیں۔۔ مگر میرے بھائیو اور بہنو، میں ذائقہ بدلنے کے لئے کبھی کبھار سچ بھی بول لیتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ خدا کے نیک بندے خدا کو حاضر ناظر جان کر میری کسی بات کو سچ قبول نہیں کرتے۔ اگر آپ کا شمار ایسے لوگوں کی صفِ اول میں ہوتا ہے، جو مجھے سچ اور سچائی کا منحرف مانتے ہیں، تو پھر آپ اپنا قیمتی وقت آج کی کہانی پڑھنے میں ضائع مت کیجئے اور اسٹاک ایکسچینج جا کر شیئر خریدیں اور بیچیں۔ یہی کام کچھ عرصہ پہلے تک گھوڑا دوڑ کی طرح جوا مانا جاتا تھا اور جوا سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ دونوں کام رزقِ حلال میں شامل کئے جاتے ہیں۔ جوئے کی طرح اس کام میں کبھی آپ کا نقصان ہوتا ہے اور کبھی فائدہ۔۔ آپ ’’لے لیا اور دے دیا‘‘ کی چیخ و پکار میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ بہت بڑا فائدہ ہوا تو آپ بہت بڑا جشن مناتے ہیں۔ بہت بڑا نقصان ہوا تو آپ خود کشی کر لیتے ہیں۔۔ تمہید پر خاک ڈالتے ہیں یعنی پنجابی محاورے کے مطابق مٹی پاتے ہیں۔ آپ پرانی کہانی خندہ پیشانی سے سنیے اور مان لیجئے کہ دنیا میں ہر جھوٹا آدمی کبھی نہ کبھی سچ بولتا ہے۔۔ اور دنیا میں ہر سچا اور کھرا آدمی کبھی نہ کبھی جھوٹ بول دیتا ہے۔

ایک مرتبہ پھر سے دہرا دیتا ہوں کہ یہ پرانی کہانی گوتم بدھ کے دور کی نہیں ہے۔ گوتم بدھ کے دور میں آپ اپنے ملک پر مارشل لا نہیں لگاتے۔ لوگوں کو سرِعام کوڑے نہیں لگاتے۔۔ یہ روداد تازہ ہے، ہماری اپنی ہے۔

ہمارے ہاں آئے دن مارشل لا لگتے رہتے ہیں اور لوگوں کو نیک اور پرہیزگار بنانے کے لئے کوڑے بھی مارے جاتے ہیں۔ لوگ تیزی سے نیکو کار ہونے جا رہے ہیں۔ آپ کہانی سنیے۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی اور ریکارڈ توڑ دھاندلی جنرل ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی انتخابات کے دوران منظرِ عام پر آئی تھی۔ صدارتی انتخابات کے نتیجے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کسی نے سوچا تک نہیں تھا کہ قائداعظم کی بہن، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح پاکستان میں کسی سے الیکشن میں ہار سکتی ہیں۔۔ مگر وہ جنرل ایوب خان سے انتخابات میں ہار گئیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا حصہ مشرقی پاکستان مادرِ ملت کے ساتھ تھا۔ سندھ مکمل طور پر ان کے ساتھ تھا۔ آدھا پنجاب اور پورا بلوچستان مادرِ ملت کا حامی تھا، مگر وہ انتخابات میں ہار گئیں۔۔ حیران پریشان لوگ دنگ رہ گئے۔۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ پاکستان میں غیر متوقع، اچانک کیا ہو رہا تھا۔ کیا پاکستان میں آنےوالے وقتوں کے لئے ممکنہ داغ بیل ڈالی جا رہی تھی؟ قوم نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی۔

اس وقت میں آدھا تیتر، آدھا بٹیر تھا۔ یعنی میں افسانے اور ڈرامے لکھتا تھا اور ایک اخبار کے لئے کام کرتا تھا۔ ہمیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والے ہمیں باور کرواتے تھے کہ پاکستان جن ستونوں پر کھڑا ہوا ہے، ان میں سے ایک ستون صحافی بھائیوں کا ہے۔ یہ بات سننے کے بعد ہم اپنی اہمیت محسوس کرنے لگے۔ ہم ہڑ بڑا کر جاگ اٹھے۔ کاش کسی نے ہمیں اپنا اندازہ لگانے کے لئے تب جھنجھوڑا ہوتا، جب ایوب خان نے پہلی مرتبہ پاکستان کو مارشل لا کا مزا چکھایا تھا۔ دیر آید، درست آید۔۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ اسی دن سے ہم جنرل ایوب خان کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ جائیں گے۔ اس کو اخباروں میں کوریج Coverage نہیں دیں گے۔ اس کی خبروں کو اخبار میں جگہ نہیں دیں گے۔ اس کی آئے دن کی پریس کانفرنسوں کو اہمیت نہیں دیں گے، بلکہ اس کی پریس کانفرنسوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ہے کہ اس پر سیاستدان نسل در نسل حکومت کرتے رہیں۔

ان دنوں جنرل ایوب خان اپنے بیٹے کو یعنی گوہر ایوب خان کو مستقبل میں پاکستان کا حکمراں بنانے کے لئے سیاست میں گھسیٹ کر لے آئے تھے۔ ہم نے جنرل ایوب خان کے ساتھ ساتھ اس کے بیٹے گوہر ایوب خان کے خلاف کمانیں تان لیں۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن کا بول بالا نہیں تھا۔ لے دے کر اخبار تھے، جن کے ذریعے سیاستدان عوام تک پہنچ سکتے تھے۔ ہم نے ان کے لئے تمام راستے بند کر دیئے۔ ایوب خان اور ان کے حمایتیوں نے یعنی حمایت کرنے والوں نے طرح طرح کے حیلے بہانے بنا کر ہمیں جیتنے اور حکومت کے خلاف نرم رویہ رکھنے کے لئے تمام پتے میز پر رکھ دیئے۔۔ مگر وہ پاکستان کے ایک مضبوط ستون کو ہلانے میں ناکام رہے۔ گوہر ایوب خان کو مناسب پبلسٹی نہ مل سکی۔ وہ سیاست میں اپنے لئے کوئی جگہ بنا نہ سکے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو سیاست سے دور رکھ کر، کاروبار میں لگا دیا۔

ہم نے ثابت کر دیا کہ اگر پاکستان کا ایک ستون حکومت کو ناکوں چنے چبوانے کی کوشش کرے، تو وہ کوشش کر سکتا ہے اور اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں جب آدھا تیتر آدھا بٹیر تھا، تب ہم نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو مکمل طور پر ناکام کر دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anything could happenanything could happen ellie gouldinganything could happen lyricsbut i feel like something could happencouldellie goulding anything could happenhappeni feel like something could happen with youit could happen to youit won’t happenlet it happenlet it happen lyricsmake it happenmake it happen songmaking it happenmariah make it happensomething could happensomething could happen music videowhat would happen
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
As-temperatures-rise-the-risk-of-babies-being-born-prematurely-increases-dramatically
Previous

درجہِ حرارت میں اضافے کے ساتھ بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا خطرہ ڈرامائی طور پر بڑھ رہا ہے!

Prisoner-No.-804
Next

قیدی نمبر 804

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme