Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

مینڈکوں سے ٹرّا کر باتیں کرنے کے ماہر سائنسدان!

By Akhtar Rasool
جون 26, 2021 2 Min Read
0

وکٹوریا : آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی مینڈکوں سے باتیں کرنے کے لیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں؛ اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں

وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں

یہی مہارت استعمال کرتے ہوئے ستر سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی پندرہ مختلف اقسام بھی دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں

نیوز ایجنسی رائٹرز سے گفتگو میں پروفیسر ماہونی نے بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے. لیکن پروفیسر ماہونی نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں

ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی دو سو چالیس انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً تیس فیصد کی بقا کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے

ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019ع اور 2020ع میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے، جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے

ماہونی اپنے شاگردوں کو بھی مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھا رہے ہیں ۔ البتہ ماہونی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس قابل نہیں، کہ  مینڈکوں کی زبان سمجھ سکیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

زندگی کی روٹین بوریت توڑنی ہے؟ آؤ بیٹے ساتھ…

Next

پلاسٹک کے خطرناک دیو سے ماحول کو ہولناک خطرہ درپیش ہے.

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme