Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

مینیملزم یا سادہ طرز زندگی کیسے اپنائی جائے؟

By Akhtar Rasool
ستمبر 9, 2023 4 Min Read
0

مینیملزم لائف اسٹائل یا سادہ طرز زندگی کے فوائد ہر فرد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں. بہت سے لوگ مینیملزم کو رفتہ رفتہ اپنا رہے ہیں تاکہ ذہنی دباؤ اور بے ترتیبی سے نکل کر پر سکون زندگی گزار سکیں۔

مینیملزم یا سادہ طرز زندگی رفتہ رفتہ ایک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ تصور جدیدیت کی ایجاد ہے جبکہ دیکھا جائے تو یہ صدیوں پرانا تصور ہے۔ ہم اگر اپنے سے پہلے کے انسانوں کی زندگی میں جھانکیں تو ان کی زندگی صرف ضروری اشیا پر محیط نظر آئے گی۔ سادہ اور تصنع سے پاک زندگی کسی بھی قسم کی پریشانی سے دور لیکن بھرپور۔

اس تصور کو روایتی طور پر آرٹ اور ڈیزائن سے جوڑا جاتا ہے جبکہ اس اصطلاح کا مطلب اور مفہوم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ تصور اس بات کی نشاندہی کرنے کا عمل ہے کہ آپ کی زندگی میں کیا ضروری ہے؟ اور کیا آپ اپنی زندگی سے غیر ضروری اشیا کو کم یا ختم کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ کیونکہ بعض اوقات بہت سی غیر ضروری اشیا صرف اور صرف اس لیے زندگی میں شامل رہتی ہیں کہ ان سے جڑی وابستگی آپ کو ان سے الگ نہیں ہونے دیتی۔

سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ بے ترتیبی کورٹیسول کی سطح کو بلند کرتی ہے۔ کورٹیسول وہ ہارمون ہے، جس کا اضافہ ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے اور اس وجہ سے توجہ کسی ایک جانب مرکوز نہیں رہ پاتی ہے۔

ہم اپنی روز مرہ زندگی میں جسمانی اور ذہنی بے ترتیبی سے بڑھتے ڈجیٹل دور کی مصروفیت کی وجہ سے مغلوب ہیں۔ اس کی وجہ سے ذہنی خلفشار اور اضطراب میں اضافہ ہو رہا ہے، جو آپ کو ڈپریشن کی جانب لے جاتا ہے۔ ہمیں نئی چیزوں کے لیے جگہ بنانا، اپنوں کے لیے وقت نکالنا، پرانی اشیا کی چھانٹی کرنا یا پھر ضروریات کو محدود کرنا مشکل لگتا ہے۔

اس بھاگ دوڑ والی اور بے ترتیب زندگی کو سادہ بنانا آسان نہیں ہے لیکن ہم اس کو کیسے سادہ بنا سکتے ہیں؟ اس عمل کو ’ڈی کلٹرنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے کچھ جانتے ہیں۔

مینیمل لائف اسٹائل کی طرف آنے کے لیے ڈی کلٹرنگ کے دو مرحلے ہیں۔ اول اپنے ارد گرد کے ماحول کو ڈی کلٹر کرنا اور دوم اپنے آپ کو ڈی کلٹر کرنا۔

بات کرتے ہیں اردگرد کے ماحول کی۔ سب سے پہلے تو اپنے ارد گرد غور کریں کہ کون سی چیز مفید ہے یا یونہی ایک عرصے سے آپ کی زندگی میں شامل چلی آ رہی ہے۔ اگر نہیں مفید تو اس سے جان چھڑوائیں۔ اور اس سوچ کا آغاز انفرادی سطح پر کریں کیونکہ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیا پھینکتے نہیں ہیں، نہ ہی ان کو ضائع کرتے ہیں۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ الماری میں کچھ ایسے کپڑے یا اشیا پڑی ہوں، جن کو آپ نے ایک سال سے زائد عرصے سے استعمال نہیں کیا ہو۔ ان سب کو نکال دیں تاکہ وہ کسی اور کے استعمال میں آ سکیں۔

اس کے بعد نمبر آتا ہے وارڈ روب کو مینیمل کرنے کا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے الماری میں موجود سب اشیا کو اپنے سامنے ڈھیر کر لیں۔ ان میں سے وہ تمام کپڑے الگ کر لیں، جن کو آپ نے اس انتظار میں رکھا ہے کہ کمر کم ہوگی، وزن کم ہوگا تو پورے آ ہی جائیں گے۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو بہت قیمتی کپڑے آپ نے اپنی الماری میں سنبھال رکھے ہیں، جن کو ایک بار پہننے کے بعد دوبارہ موقع کم ہی آتا ہے۔ ان کو یا تو بیچ دیں یا پھر کرایہ پر دے کر اسے ایک اضافی رقم کمانے کا ذریعہ بنائیں۔

اب کچھ بات ہو جائے باورچی خانے کی۔ تمام وہ برتن ہٹا دیں، جو آپ استعمال نہیں کرتے۔ چاہے وہ کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔ خراب الیکٹرک اپلائینسس جو ٹھیک ہونے کے انتظار میں ہیں، لیکن ان کا متبادل آپ کے پاس موجود ہے، ان کو بھی ہٹا دیں۔ ان سب اقدامات سے بہت سی جگہ خالی ہو جائے گی اور گھر میں کشادگی کااحساس ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں مینیمل لائف اسٹائل یا سادہ طرز زندگی کے اصل فائدے کی طرف۔ اپنے آپ کو ڈی کلٹر کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور سے آمادہ کریں۔ کیونکہ بیرونی ڈی کلٹرنگ سے زیادہ مشکل اندرونی ہے۔ اس لیے راتوں رات کسی معجزے کی توقع نہ کریں۔ جب بھی کبھی آپ اپنے آپ کو دباؤ میں محسوس کریں تو اس کا مطلب ہے آپ مینیمل نہیں سوچ رہے بلکہ اپنے ذہن پر بہت سا بوجھ ڈالے ہوئے ہیں۔ بہتر ہوگا اس سب کو ایک کاغذ پر لکھیں اور اس پر نظر ثانی کریں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کیا اضافی سوچ رہے ہیں۔ سب باتوں کو اپنے دماغ سے ریموو کریں اور ذہن کو ریلکس کریں۔ اس کے بعد اپنے سب تعلقات پر ایک نظر ڈالیں۔ جو تعلق تکلیف دہ ہو اس کو زندگی سے نکال دیں تاکہ خوامخواہ کا ڈیپریشن کم ہو۔ اس کے بعد خود کو ری یوزیبل چیزوں کے لیے آمادہ کریں جو کہ ماحول اور جیب دونوں پر بیک وقت رحم کھانے کے مترادف ہے۔

یاد رکھیں مینیملزم اور کنجوسی میں فرق ہے۔ اسی طرح تعلقات میں مینملزم اور قطع تعلقی میں فرق ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سادہ طرزِ زندگی ہی بہترین انتخاب ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

becoming minimalisthow to adopt a minimalist lifestylehow to adopt a minimalist lifestyle freehow to adopt a minimalist lifestyle videohow to be a minimalisthow to save money minimalismhow to simplify your lifeminimalismminimalism lifestyleminimalism lifestyle swapsminimalism tipsminimalistminimalist habitsminimalist homeminimalist lifeminimalist lifestyleminimalist livingminimalist tips to simple lifesimple lifesimple living
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کچے کے ڈاکو سالانہ ایک ارب روپے تاوان وصول کرتے ہیں: ایچ آر سی پی

Next

افریقہ برائے فروخت (قسط اول)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme