Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نا امیدی سے خود بخود ملاقات ہوجاتی ہے..

By Akhtar Rasool
نومبر 11, 2022 5 Min Read
0

10اگست 1976 کو شمالی آئرلینڈ کے شہر بلفاسٹ کی گلیوں میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا تھا۔ ایک آدمی فرار کی کوشش میں پیچھا کرنے والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش میں اپنی گاڑی لے کر ایک گلی میں پہنچ گیا تھا۔ اچانک گولی چلنے کی آواز آتی ہے

زخمی ڈرائیور گاڑی کے اسٹیئرنگ پر گر جاتا ہے گاڑی چکرا کر ایک باڑ سے ٹکرا جاتی ہے اور ایک ماں اور تین بچوں پر چڑھ جاتی ہے ماں اگرچہ شدید زخمی ہوئی مگر بچ گئی جب کہ اس کے تینوں بچے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے ، یقینا یہ واقعہ اتنا عجیب نہیں تھا جس زمین پر بھی جنگ اپنے پنجے گاڑتی ہے خوف اور تشدد پھوٹ پڑتے ہیں

بچوں کی ہلاکت کسی طرح بھی قابل ذکر نہیں ہوتی، مگر 1976 کے اگست میں بلفاسٹ کے اس واقعے نے بالکل ہی مختلف نتیجہ پیش کیا اس علاقے میں جہاں تین بچے ہلاک ہوئے تھے ایک گھریلو خاتون رہتی تھی اس نے کار کے باڑ سے ٹکرانے کی آواز سنی اور جوں ہی وہ موقع کی طرف دوڑ کر پہنچی اس کی آنکھوں میں خوف کا پورا منظر سما گیا

اس منظر نے اس کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ مزید یہ ہوا کہ اس پر تشدد اور دہشت انگیز واقعے کے خلاف کچھ کر گذرنے کی پرجوش خواہش پر اس پر طاری ہوگئی

’’اوہ خدا! اب ہمیں کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘ مشورے کرنے کے یا منصوبے بنانے کے لیے وقت نہیں تھا۔ اس نے اس انداز میں سوچا ہی نہیں بس وجدانی کیفیت میں وہ ہی کچھ کیا، جو اس کے دل نے کہا وہ اس سڑک پر واقع ہر مکان پر گئی جہاں یہ حادثہ ہوا تھا خوف کا لبریز پیالہ الٹ چکا تھا، وقت آگیا تھا کہ ہر عام مرد اور عورت کو ایسے بے رحم تشدد پر احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہونا چاہیے

اب یہ سیاسی رویوں یا مذہبی عقائد کا معاملہ نہیں رہ گیا تھا بس اس کا ایک ہی علاج تھا عوام خود اس کے خلاف آواز اٹھائیں ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے ایک گھریلو عورت کی مہم میں کچھ دلچسپی دکھائی اور اسے دہشت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آئرش عوام کے نام ایک اپیل نشر کرنے کا موقع فراہم کیا

اس کی اپیل کا فوراً جواب ملا زیادہ سے زیادہ لوگوں نے ان کی پکار پر لبیک کہا سب سے پہلے تینوں بچوں کی خالہ آگے بڑھی اور ان دو عورتوں نے مل کر جنگ زدہ علاقے کی طرف اپنے صلح کے سادہ مگر دل کو چھو لینے والے پیغام کے ساتھ دلیری سے قدم بڑھائے ، اس مختصر سی ابتداء سے آج ساری دنیا میں وہ کچھ ہوا جس کو شمالی آئرلینڈ کی امن تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے

1976ع کا نوبیل انعام گھریلو خاتون بیٹی ولیمز اور تینوں بچوں کی خالہ مریڈ کو ریگن کو دیا گیا۔ یہ عورتیں اپنی مہم میں کیوں کامیاب ہوئیں اس کی وجہ یہ ہے کہ محاذ جنگ کے دونوں جانب اس کی آرزو نے جڑیں پکڑ لیں تھیں ان دونوں عورتوں نے جو کچھ کہا وہ ہزاروں دلوں کے خیالات کی گونج تھیں

اس لیے وہ عام ذہانت کی ترجمان بن گئیں، انہوں نے غلط سمت سے شروعات کی اوپر سے نہیں چالاک ذہنوں کے درمیان سے نہیں جو سیاسی بصیرت کے حامل تھے نہیں ، انہوں نے عام آدمی سے رابطہ کیا

ایک کھرے اور سادہ پیغام کے ساتھ۔۔ انہوں نے کبھی اپنے کام کی مشکلات کی پرواہ نہیں کی بس وہ اپنے کام میں جتی رہیں اس لیے کہ انہوں نے پورا یقین تھا کہ یہ کچھ ہے جس کی اشد ضرورت ہے ایک با ہمت ، بے غرض ، عمل جو ہزاروں کے لیے روحانی فیضان ثابت ہوا جس نے ظلمت میں ایک شمع روشن کی جس نے ان لوگوں کو نئی امید دلائی جو سمجھتے تھے کہ ساری امیدیں ختم ہوچکی ہیں

آج اگر ہم پاکستان میں امید کو ڈھونڈنے نکلیں تو ہر جگہ ہمارا استقبال مایوسی پہلے سے کر رہی ہوگی۔ ہم امید کو ملک میں کہیں بھی تلاش نہیں کر پائیں گے۔ ہاں نا امیدی ، مایوسی اور بے بسی سے ہماری ملاقات نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار خود بخود ہوتی چلی جائے گی

آج پاکستان میں سب بے بس ہیں، سب خوفزدہ ہیں بے بسی اور خوف کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ آئیں! اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس سے بھی پہلے بے بسی کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں

جب آپ کسی ایسی صورتحال سے دو چار ہوجاتے ہیں جس سے باہر نکلنے کی کوئی راہ آپ کو دکھائی اور سجھائی نہیں دے رہی ہو اور آپ کا دل اور ذہن شل ہوکر آپ کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیں۔ جب آپ کے دل اور ذہن میں ہولوں کا غبار گردش کرنے لگے جب آپ کے اعصاب، حوصلہ، جذبہ، ہمت آپ کے دشمن بن جائیں

تو آپ بے بس ہوجاتے ہیں اور جب آپ بے بس ہوجاتے ہیں تو پھر اسی لمحے آپ کی تاک میں بیٹھے خوف آپ کو دبوچ لیتے ہیں روزگار کا خوف، بے عزتی کا خوف، بے اختیاری کا خوف، مہنگائی کا خوف، پانی، بجلی، صحت کا خوف، بیماریوں کے خوف پھر آپ کے اندر ننگا ناچنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر آپ ناامیدی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، آج ہم سب کو اپنی نا امیدی کے علاوہ اور کسی بات کا ہوش نہیں۔ آج ہم سب اپنی اپنی نظروں میں بے توقیر ہیں سب سے زیادہ وحشت ناک صورتحال یہ ہے کہ ہم سب اس کو اپنی آخری منزل سمجھے بیٹھے ہیں

یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ نا امیدی کبھی آخری منزل نہیں ہوتی جب امید مرتی ہے تو نا امیدی پیدا ہوتی ہے ، جب نا امیدی مرتی ہے تو ایک بار پھر امید پیدا ہوتی ہے ، اگر یہ بات غلط ہوتی تو بیٹی ولیمز اور مریڈکو ریگن کبھی بھی اس وحشت ، دہشت اور نا امیدی کے حالات میں اپنے گھروں سے نہیں نکلتیں اورکبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتیں

کیا ہم ان دونوں گھریلو خواتین سے بھی گئے گذرے ہوگئے ہیں ، جو نا امیدی ، مایوسی کے خلاف اور اپنی بے بسی کے خلاف اپنے گھروں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کے خلاف بولنے، اٹھنے اور دوسروں کو آواز دینے کے لیے تیار نہیں ہیں

یاد رکھیں یہ زندگی آپ کو صرف ایک بار جینے کے لیے ملی ہے اگر آپ ان ہی حالات میں زندہ رہنے پر راضی ہیں تو پھر الگ بات ہے اگر نہیں تو پھر شمالی آئرلینڈ کی ان دونوں گھریلو خواتین کی طرح بس آپ کو عام لوگوں کو آواز دینے کی ضرورت ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ کس طرح عام لوگ آپ کا ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ ناامیدی کبھی آخری منزل نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں عام لوگ آپ کی آواز کے منتظر ہیں۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

IrelandNobalNobel
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جو بائیڈن اور شی جن کی ملاقات جس پر پوری دنیا کی نظریں ہوں گی

Next

کراچی میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہونے کا امکان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme