Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نا ملزم خالص نہ جج اصیل

By Akhtar Rasool
جنوری 3, 2022 3 Min Read
0

ہمیں یہ سوال اکثر ستاتا رہتا ہے کہ اکثر سیاسی خانوادے مشکلات و کردار کشی و بدنامی جھیلنے کے باوجود کیوں اس پیشے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ کچھ اور کیوں نہیں کرتے۔ جیسا کہ مغربی جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔

مگر ہمیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اکثر مغربی جمہوریتوں میں جو شخص وزیرِ اعظم یا وزیر یا گورنر بنتا ہے وہ یہ عہدہ حاصل کرنے سے پہلے بھی کچھ نہ کچھ کام دھندہ کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی تاجر، تو کوئی وکیل، تو کوئی اکاؤنٹنٹ، تو کوئی کاشتکار، تو کوئی مصور، تو کوئی مصنف۔

اور یہی کام سیاست میں آنے سے پہلے اور سیاست سے جانے کے بعد بھی اس کی روزی روٹی چلاتا ہے یا پھر کوئی بڑی کمپنی یا یونیورسٹی اسے ملازمت دے دیتی ہے۔

ہمارے ہاں (برصغیر) بہت سے سیاسی خانوادے جو اس وقت کارِ مملکت کی فلم میں بطور ہیرو، بطور ولن، بطور مہمان اداکار، بطور گلوکار، بطور لائٹ مین، بطور فلور بوائے، بطور اسسٹنٹ، بطور کاسٹنگ ڈائریکٹر نظر آ رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے باپ دادا یا پرکھوں میں سے کسی نے ضرور عام لوگوں کی روحانی و سماجی و سیاسی بھلائی کے خیال سے اپنی بساط سے زیادہ کچھ اچھا ضرور کیا ہوگا۔

مگر ان میں سے بیشتر بزرگوں کی نسلوں نے نہ صرف ان کے نام کی کھائی، بلکہ اس نام سے پیدا ہونے والے اثر و رسوخ اور وقار کو اپنی اور آنے والی نسلوں کے لیے الہ دین کے چراغ میں بدل ڈالا۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیاست میں رہ کر اپنے پرانے اثر و رسوخ سے کمائے جانے والے نئے رسوخ کا تحفظ نہ کریں تو کیا کریں؟

وہ میرٹ پر وفاداری کو ترجیح نہ دیں تو سنہری کرسی پر براجمان کیسے رہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر خود منظر سے ہٹ جائیں تو کوئی ان جیسا دوسرا یہ خلا فوراً پر کردے گا۔ تو پھر ہم ہی کیوں نہ رہیں؟

چنانچہ ان میں سے بہت سے خاندانی یا غیر خاندانی سیاست کار شوق میں نہیں، بلکہ بالجبر پیشہ کرنے اور اس کام سے وابستہ مجبوریاں نبھانے پر مجبور ہیں۔

کروں گا کیا جو سیاست میں ہوگیا ناکام،
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا!
(غلام محمد قاصر)

اور ان بے چارے سیاست دانوں پر میرٹ اور موروثی سیاست کے تعلق سے تنقید کون کرتا ہے؟ ہم میڈیاکرز۔۔۔ اور ہم میڈیا والے کیڑے نکالتے وقت کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ جب ہمارے ہاتھ کی ایک انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھتی ہے تو اسی ہاتھ کی کم از کم تین انگلیاں ہماری جانب اٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔

ہم موروثی یا نودولتیا یا خوشامدی یا بکاؤ سیاست باز خاندانیوں و غیر خاندانیوں کو ہدف بناتے ہوئے کبھی بھی نہیں سوچتے کہ جس اخبار یا چینل کے لیے ہم ان سیاسی مداریوں کو اچھل اچھل کے بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہیں ان کے مالکان کا ڈی این اے بھی موروثی تو نہیں۔

چلیے موروثی کاروباری ہونا کوئی عیب نہیں اور جن لوگوں کا کاروبار ہی نسل در نسل میڈیا سے جڑا ہے، انہیں ایک ہی تھان میں لپیٹنا بھی مناسب نہیں۔

مگر جب ایسے اخبار اور چینل ’ضمیر‘ کے ہاتھوں مجبور ہو کر موروثیت کی برائیاں گنواتے ہیں کہ جن کا اصل کاروبار اور کاروباری پہچان کچھ اور ہے اور انہوں نے صرف اس لیے چینل یا اخبار کھولا ہے تاکہ اس سے جنم لینے والے اثر و رسوخ کو کسی صحافتی آدرش کے حصول کے بجائے اس کے بل پر محض اپنے اصل معاشی و سماجی قد اور دھندے کو اور دوگنا تگنا کر سکیں اور جن کارکنوں کے بل پر وہ قد بڑھانا چاہتے ہیں، انہیں صرف اتنا چارہ دیں، جتنا ایک بھینس کے لیے ضروری ہے تاکہ دودھ دیتی رہے۔

چنانچہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کس پر اعتبار کیا جائے۔ نہ ملزم خالص نہ جج اصیل، تو پھر جاری نظام سے بھلے کی توقع کیوں وابستہ ہو۔ اسی لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس نظام کا انجن اب مافیائی ایندھن سے چل رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کب تک چلے ہے۔ پھر بھی ایک پرامید سالِ نو سب کو مبارک۔

حوالہ : بی بی سی اردو

Tags:

Pakistan Justice System
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

طلبا اپنا مستقبل محفوظ بنائیں

Next

شاہنواز ڈاھانی سے ملاقات، پی ایس ایل کے لئے ٹیم لانا چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme