Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اسپورٹساہم ترینتازہ ترینخبریں

نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے مائیکل ہولڈنگ رو پڑے.

By Akhtar Rasool
جولائی 12, 2020 2 Min Read
0

ساؤتھمپٹن میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران اسکائی نیوز کے نامہ نگار مارک آسٹن کو دیے گئے انٹرویو میں نسل پرستی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ مائیکل ہولڈنگ جذباتی ہوگئے اور ان کے آنکھیں بھر آئیں.

اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے، ماضی میں دنیائے کرکٹ میں تیز بولنگ کی علامت سمجھے جانے والے مائیکل ہولڈنگ بدھ کے روز نسل پرستی کے خلاف لوگوں سے جذباتی التجا کرتے ہوئے  نظر آئے. ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.

بعد ازاں جمعرات کو اسی معاملے کے  بارے میں انٹرویو دیتے ہوئے ہولڈنگ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے بارے میں سوچ کر جذباتی ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تب اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھا، جب  میں نے اپنے والدین کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی سیاہ فام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور بدقسمتی سے وہی کچھ اب دوبارہ ہو رہا ہے. ان کا کہنا تھا کہ نسلی تعصب کی وجہ سے میں نے ذاتی طور پر بھی بہت دکھ جھیلے ہیں.

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے والدین کن حالات سے گزرے ہیں۔ میری والدہ کے گھر والوں نے اس سے بات کرنا اس لئے چھوڑ دی کہ اس کے شوہر کی رنگت گہری سیاہ تھی۔”

رپورٹر نے مائیکل سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حالت بہتر  ہو سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے ، یہ ایک سست عمل ہوگا ، لیکن مجھے امید ہے۔ یہاں تک کہ فی الحال یہ  ایک معمولی سا اقدام ہے اور بہت سست رفتار بھی۔ لیکن مجھے امید ہے کہ بہتری کا یہ سفر صحیح سمت جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ “مجھے امید ہے کہ لوگ ٹھیک سے سمجھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ، میں 66 سال کا ہوں۔ میں نے اس اذیت کو دیکھا ہے ، اور میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔ اب یہ سب کچھ اسی طرح جاری نہیں رہ سکتا – ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انسان انسان ہے اور زندگی سب کی قیمتی ہے پھر چاہے وہ سیاہ فام ہی کیوں نہ ہو.”

Tags:

AfricanCricketHumenPeaceRacism
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چین کی طرف سے ڈجیٹل کرنسی کے اعلان نے امریکہ کو چکرا کر رکھ دیا

Next

مصر میں پارلیمنٹ نے انوکھا قانون پاس کر لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme