Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

نصف صدی بعد دائمی کھانسی کی نئی دوا متعارف ہونے کا امکان۔۔

By Akhtar Rasool
اکتوبر 12, 2022 2 Min Read
0

دمہ، پھیپھڑوں کے مسائل اور دائمی کھانسی کو قابو کرنے والی تیار کردہ نئی دوا کے ابتدائی حوصلہ کن نتائج سے نصف صدی بعد دنیا میں نئی دوا متعارف ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں

تفصیلات کے مطابق برطانوی ماہرین کی جانب سے آزمائی گئی نئی دوا ’گیفاپکسنٹ‘ (gefapixant) کے ابتدائی ٹرائل کے حوصلہ کن نتائج کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے آزمانے کے لیے وسیع تجربات شروع کیے جائیں گے

نئی دوا کو ماہرین نے ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے دنیا کو نصف صدی بعد دائمی کھانسی کی ایک اور بہترین دوا ملنے کی امید ہے

نئی دوا پر ماہرین نے دائمی کھانسی کے شکار افراد پر آزمائش کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ دوا بعض مریضوں کو 70 فیصد تک فائدہ پہنچا رہی ہے

طبی جریدے ’دی لانسٹ‘ میں شائع تحقیق کے مطابق مذکورہ دوا کے ٹرائلز متعدد ممالک میں کیے گئے اور اس میں شامل رضاکاروں کی عمریں اٹھارہ سال سے لے کر انسٹھ سال تک تھیں اور تمام افراد دائمی کھانسی کا شکار تھے

دائمی کھانسی عام طور پر اس کھانسی کو قرار دیا جاتا ہے جو کہ تین سے چار ماہ تک جاری رہتی ہو، یہ کھانسی عام طور پر دمے اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا افراد کو ہوتی ہے

ماہرین نے آزمائش کے دوران مرد و خواتین رضاکاروں کو یومیہ نئی دوا کھانے کا کہا، تمام رضاکاروں کو ان کی عمر کے حساب سے کم اور زیادہ خوراک دی گئی اور رضاکاروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، جس میں سے ایک گروپ کو فرضی دوائی دی گئی

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو تیار کی گئی نئی دوا کے ڈوز باقائدہ دیے گئے، ان میں سے بعض افراد کو دوا نے 70 فیبصد تک فائدہ دیا، یعنی ان کی دائمی کھانسی کی شکایت ختم ہو گئی

ماہرین نے ٹرائل کے دوران مریضوں سے سوالات کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیسٹس بھی کیے اور ان کی صحت کا جائزہ بھی لیا

دوا کے پہلے ٹرائل کے کامیاب نتائج کے بعد اب ماہرین کو امید ہے کہ اس کے مزید ٹرائلز کے نتائج بھی حوصلہ کن ہوں گے اور ممکنہ طور پر دنیا میں دائمی کھانسی سے محفوظ رکھنے کی نئی دوا متعارف ہوگی

اگر مذکورہ دوا کو عام افراد میں استعمال کی اجازت مل گئی تو یہ دوا نصف صدی میں تیار ہونے والی دائمی کھانسی کی نئی دوا ہوگی۔

Tags:

chronic coughcoughMedicine
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

واٹس ایپ گروپس میں ایک ہزار سے زائد افراد کو شامل کرنے کا فیچر

Next

”نیب ترامیم سے منظم کرپشن کو فروغ ملے گا“ جسٹس اعجاز الاحسن

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme