Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور

By Akhtar Rasool
نومبر 14, 2022 4 Min Read
0

کتنے لوگوں کو تب معلوم تھا یا اب معلوم ہے کہ پاکستانی بری فوج کے پہلے سربراہ جنرل سر فرینک والٹر میسروی کا ملازمتی دورانیہ صرف چھ ماہ تھا اور ان کی جگہ لینے والے جنرل ڈگلس گریسی تین برس دو ماہ تک بری فوج کے سربراہ رہے۔ کشمیر سے متعلق حکومت کی عسکری پالیسی پر عمل درآمد سے صاف انکار کے باوجود گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین اور وزیرِ اعظم لیاقت علی خان جنرل گریسی کو سبکدوش نہ کر پائے

مگر دیسی حکومت قائل ہو گئی کہ ریاستی فیصلوں پر بلا چوں و چرا عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ اگلا کمانڈر انچیف بھی دیسی ہونا چاہیے۔ جنرل گریسی نے سبکدوش ہونے سے پہلے اپنے چار ممکنہ جانشینوں کی جو فہرست پیش کی، ان میں سب سے سینیئر نام میجر جنرل اکبر خان کا تھا۔ اس کے بعد میجر جنرل اشفاق المجید، میجر جنرل افتخار خان اور میجر جنرل این ایم رضا تھے

جنرل گریسی میجر جنرل افتخار خان کو اپنا جانشین بنانے کے حق میں تھے مگر وہ ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ جنرل اکبر خان نے 1948-49 کے کشمیر آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مگر شبہ تھا کہ ان کے سیاسی عزائم بھی ہیں۔ جبکہ میجر جنرل اشفاق المجید کا تعلق بنگال سے تھا

ایسے موقع پر سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا کام آئے، جنہوں نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو قائل کیا کہ میجر جنرل ایوب خان سیدھا سادہ پروفیشنل سولجر ہے اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے، لہٰذا اس کے نام پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے حالانکہ سنیارٹی لسٹ میں ایوب خان کا نام دور دور تک نہیں تھا

البتہ اسکندر مرزا وزیرِ اعظم کو بریفنگ کے دوران یہ بتانا بھول گئے کہ ان کی سیدھے سادے ایوب خان سے کتنی گاڑھی چھنتی ہے اور خود ان کے ذہن میں بھی غیر سیاسی ایوب خان کی مدد سے مستقبل کا کوئی سیاسی منصوبہ پنپ رہا ہے۔ چنانچہ ایوب خان کو اپریل 1951 میں پہلا دیسی کمانڈر انچیف بننے کا اعزاز ملا

لیاقت علی خان کی موت کے بعد نوکر شاہی کی گرفت اور مضبوط ہو گئی۔ گورنر جنرل ناظم الدین کو وزیرِ اعظم بنا کے غلام محمد کو گورنر جنرل بنایا گیا اور پھر وزیرِ اعظم ناظم الدین کو ایک کمزور قوتِ فیصلہ والی شخصیت مشہور کر کے ان کی جگہ امریکہ پلٹ بنگالی سیاستداں محمد علی بوگرہ کو وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا۔ بوگرہ نے امریکہ کی خواہش پر پاکستان کو سرد جنگ کا حصہ بنایا اور اسکندر مرزا کو اپنا وزیرِ داخلہ مقرر کیا

تاریخ میں پہلی بار یہ معجزہ بھی ہوا کہ ایک حاضر سروس کمانڈر انچیف (ایوب خان) کو وزارتِ دفاع کا قلمدان سونپ دیا گیا اور یہ مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا ہو گئی کہ کمانڈر انچیف ایوب خان وزیرِ دفاع ایوب خان کے ماتحت بھی تھے اور بطور وزیرِ دفاع کمانڈر انچیف کے باس بھی تھے

جب فالج زدہ غلام محمد کو ڈنڈہ ڈولی کر کے کراچی کے گورنر جنرل ہاؤس سے ان کی ذاتی رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا تو اسکندر مرزا گورنر جنرل ہو گئے اور ایوب خان کو بطور کمانّڈر انچیف توسیع در توسیع ملتی گئی۔ ایک کے بعد ایک وزیرِ اعظم آتا رہا مگر یہ جوڑی سلامت رہی

سنہ 1956 کا آئین نافذ ہونے سے بس یہ فرق پڑا کہ گورنر جنرل صدر کہلانے لگا۔ مگر تسلی پھر بھی نہیں ہوئی۔ اس جوڑی کو بے اختیار وزرائے اعظم بھی کھٹکنے لگے

کمانڈر انچیف ایوب خان، جنہوں نے گذشتہ چھے برس کے دوران مرزا کی اتالیقی میں تمام رموزِ مملکت ازبر کر لیے تھے، انہوں نے انتہائی مہارت سے اسکندر مرزا جیسے گرگِ باران دیدہ کو ملکی استحکام کے نام پر لولا لنگڑا پارلیمانی نظام لپیٹ کر مردِ آہن بننے کی پٹی پڑھا کے شیشے میں اتارا

استادِ محترم اسکندر مرزا کے ہاتھوں مارشل لا لگوایا۔ خود چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے اور جب اسکندر مرزا کو احساس ہوا کہ سارے اختیارات تو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ہاتھ میں ہیں تب تک مات ہو چکی تھی

شاگرد نے استاد کو آخری دھوبی پٹکا یوں دیا کہ مارشل لا لگانے کے صرف بیس دن بعد اسکندر مرزا نے ایوب خان کے بھیجے تین جنرلوں کے سپاٹ چہرے اور میز پر پڑا بھرا ہوا ریوالور دیکھ کر اپنے ہی پروانہِ سبکدوشی پر سلیپنگ سوٹ پہنے پہنے دستخط کر دیے۔ شاگرد نے استاد کو پہلی پرواز سے لندن روانہ کر دیا

یوں پاکستان باضابطہ طور پر ’صدارتی کمانڈر انچیفی‘ کے دور میں ایسا داخل ہوا کہ آج تک نظامِ ریاست کی ٹرین ایک لامتناہی بیابان میں چلتی چلی جا رہی ہے۔ ڈبوں کے مسافر چڑھتے اترتے رہتے ہیں مگر انجن وہی چونسٹھ برس پرانا ہے۔اور اب تو یہ حال ہے کہ

نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور،
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔۔

معلوم نہیں پھر کیوں ہر چار برس بعد سیاسی مسافروں میں بنا مطلب کے تھرتلی مچ جاتی ہے کہ کون آ رہا ہے، کون جا رہا ہے اور کون ابھی نہیں جا رہا ہے۔ بھائی تمہارا ان معاملات سے کیا لینا دینا۔۔ اتنی پھرتیاں کاہے کو دکھاتے ہو اور بے فضول تھکتے ہو؟

تمہارا کام تو بس اتنا ہے کہ جب کاغذ سامنے رکھا جائے تو شریف بہو بیٹیوں کی طرح تین بار قبول ہے قبول ہے کہو اور دستخط کر کے قلم واپس کر دو۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

downfallPakistanPoliticsState
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ارب پتی شخصیات کی دولت کیوں ڈوب رہی ہے؟

Next

پے اسکیل (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme