Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نیلسن منڈیلا کو نوبیل انعام ’عدم مساوات کو چھپانے‘ کی کوشش تھی

By Akhtar Rasool
دسمبر 15, 2022 5 Min Read
0

دو دن پہلے نوبیل پرائز ایوارڈ کی سالانہ تقریب معنقد ہوئی، جس میں اس سال کے عظیم مفکروں، امن سازوں، اور تخلیق کاروں کے اعزاز میں ایک پر وقار دعوت کا انعقاد سویڈش درالحکومت اسٹاک ہوم میں ایک شاندار اور مسحور کن جشن کے ساتھ کیا گیا

تقریباً تیس سال پہلے میرے دادا نیلسن منڈیلا نے بھی ایک ایسی ہی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کی تھی، جن کو جنوبی افریقہ میں المناک نسلی عصبیت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا

میں شکر گزار ہوں اور اس پر فخر محسوس کرتی ہوں کہ میرے دادا نے نوبیل انعام جیتا ہے لیکن جب میں دنیا کی جانب سے جنوبی افریقہ کی حالت زار پر مغرب کے سست ردعمل اور اس بات پر غور کرتی ہوں کہ کس طرح مغربی رہنماؤں کو یہاں نسلی عصبیت کے خلاف کھڑے ہونے میں برسوں لگے تو میں یہ سوچ کر ششدر رہ جاتی ہوں کہ کیا منڈیلا کو صرف نوبیل کمیٹی کی ساکھ کو اچھا دکھانے کے لیے انعام دیا گیا تھا؟

جدید زندگی کے دیگر بہت سے پہلوؤں کی طرح نوبیل انعام میں بھی دوسرے ایوارڈز کی طرح نمائندگی کا مسئلہ ہے۔ 1901ع میں پہلے نوبیل انعامات دیے گئے اور اس بات کو ایک سو اکیس سال بیت چکے ہیں، لیکن یہ انعام حاصل کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق دنیا کے شمالی خطوں سے ہے اور صرف مٹھی بھر اقلیتوں یا خواتین کو اس سے نوازا گیا ہے

اب تک نوبیل انعام جیتنے والے 954 افراد میں سے صرف 6 فیصد خواتین ہیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اگرچہ 1950ع میں پہلے سیاہ فام شخص کو یہ ایوارڈ دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد صرف 16 سیاہ فام لوگوں کو ہی اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ کسی بھی سیاہ فام شخص کو طب، طبیعیات یا کیمیا کی کیٹیگری میں اب تک ایک بھی ایوارڈ نہیں دیا گیا

بلاشبہ یہ صورت حال بذات خود وسیع تر معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں اقلیتوں اور خواتین کو اکثر نظام میں موجود مسائل کی وسیع وجوہات کی وجہ سے ان اہم سائنسی مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ نظام میں موجود مسائل میں معاشی تفاوت، صنف کے حوالے سے موجود دقیانوسی تصورات شامل ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ان شعبوں میں پہلے سے ہی خواتین یا اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کے رول ماڈلز کا فقدان ہے

اور جب کہ نوبیل انعام عالمی عدم مساوات کی محض ایک علامت ہو سکتی ہے لیکن اصل میں یہ ہے کہ یہ حقیقی دنیا کے اعمال کا انجام ہے

نوبیل انعام جیتنے والوں کو ایک بڑی رقم (ایک کروڑ سویڈش کرونا یا تقریباً نو لاکھ امریکی ڈالر) دی جاتی ہے اور ساتھ ہی انہیں اپنے شعبوں کے مستقبل کی تشکیل جاری رکھنے کے لیے تکریم اور قیادت سے بھی نوازا جاتا ہے۔ چاہے وہ امن، کیمیا یا ادب کے شعبے ہوں، نوبیل انعام جیتنے سے وہ بطور عظیم مفکرین اور رہنما سب کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں جہاں وہ دنیا بھر میں ہونے والے پروگراموں میں بات کرتے ہیں، ہم خیال لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور دوسروں کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

برسوں سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس اعزاز سے مغرب کو نوازا گیا ہے جس سے دنیا کے شمال اور جنوب کے درمیان خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔ جنوب کے لوگ خود کو تقریباً ہر عالمی مسئلے میں شمال سے متصادم پاتے ہیں

اور یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ دنیا کے آنے والے بحران جنوب کی مختلف فالٹ لائنز کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ یہ تنازعات ہوں، خوراک کی قلت ہو یا موسمیاتی تبدیلیاں، یہ تمام بحران جنوب کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہے ہیں لیکن انہیں دنیا مسلسل نظر انداز کر رہی ہے

جنوب میں ایسے لاتعداد گمنام اور فنڈ کی کمی کے شکار پروجیکٹس، ایجادات اور افراد موجود ہیں جو نمائندگی یا درست پلیٹ فارم کے ساتھ دنیا میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں

مثال کے طور پر اِدنا عدنان اسماعیل صومالیہ کی پہلی تربیت یافتہ نرس اور مڈوائف تھیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی خواتین کے ختنہ کی فرسودہ رسم کو ختم کرنے کی کوشش میں گزار دی۔ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسیٰ، جنہوں نے حال ہی میں سب سے سینیئر اسلامی وفد کے ساتھ پولینڈ میں ہولوکاسٹ کیمپ آشوٹز کا دورہ کیا، نے اپنی زندگی مسلم دنیا میں یہود مخالف اور ہولوکاسٹ سے انکار کے خلاف جنگ کے لیے وقف کر دی

اور آخر میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے انسان دوست عبدالستار ایدھی جنہوں نے ملک گیر فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز کیا۔ انہیں کئی بار نوبیل کے لیے نامزد کیا گیا لیکن وہ کبھی اسے جیت نہیں سکے

ناانصافی کی یہ مثالیں محض آٹے میں نمک کے برابر ہیں، جبکہ ’می ٹو‘ اور ’بلیک لائیوز میٹر‘ جیسی مہمات کے بعد کے سالوں میں نوبیل انعام کے عمل پر بتدریج بحث کی جا رہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں کمیٹی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کوٹہ جیسے حل کے ذریعے نمائندگی کے فرق کو دور کرے یا اپنے خفیہ انتخابی عمل کی تفصیلات کو ظاہر کرکے اور اسے جانچ پڑتال کے لیے کھولے۔ اس سب کے باوجود بھی، آج تک، کمیٹی کے عہدیدار تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں

نوبیل کو متنوع بنانا ان افراد تک پلیٹ فارمز کو پھیلانے میں اہم ہے جو عالمی نبض کو تبدیل کر سکتے ہیں اور دنیا کی سب سے سنگین ہنگامی صورت حال کا حل نکال سکتے ہیں

آخرکار میرے دادا اس انعام کے مستحق ٹھہرے لیکن ان کی نامزدگی سے ایسا محسوس نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کمیٹی کو عوامی تنقید سے بچانے اور یورپ کا غلبہ جاری رکھنے کے لیے کیا گیا۔ دنیا کے جنوب سے ایسے افراد کی عظمت کو تسلیم کرنا معمول ہونا چاہیے نہ کہ کوئی رعایت۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

class 10 nelson mandela long walk to freedom in hindiclass 10 nelson mandela long walk to freedom question answerfull explanation of nelson mandela-a long walk to freedominequalityinspirational nelson mandela quotesnelson mandelanelson mandela foundationnelson mandela inspirational quotesnelson mandela long walk to freedom class 10 in englishnelson mandela long walk to freedom class 10 in hindinelson mandela motivational quotesrace inequality and the law
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دیپیکا پڈوکون کا لباس، پٹھان کے "بیشرم رنگ” گانے کے مناظر اور لباس پر بی جے پی کا ہنگامہ

Next

اکبرِ اعظم اور لاہور کا سموگ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme