Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

والدہ کے ڈیٹا پر شناختی کارڈ کا اجرا کیسے ممکن ہوا؟

By Akhtar Rasool
جولائی 26, 2022 2 Min Read
0

پاکستان میں والدہ کے ڈیٹا پر شناختی کارڈ کا اجرا بالآخر اب ممکن ہو گیا ہے

مسلسل تین سال تک کوششوں کے باوجود ڈجیٹل کارڈ حاصل نہ کر پانے پر کراچی کی رہائشی روبینہ نے اپنا معاملہ عدالت لے جانے کا فیصلہ کیا اور کامیابی بھی حاصل کی

پاکستان میں ڈجیٹل شناختی کارڈ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ والد کا شناختی کارڈ پیش کیا جائے، جو کہ ان بہت سے لوگوں کے لیے ناممکن ہے جنہوں نے والدہ کے زیرسایہ پرورش پائی ہو اور روبینہ بھی انہی میں سے ایک ہیں

شناختی کارڈ کا ووٹ کے علاوہ حکومت کی دیگر سروسز حاصل کرنے میں بھی مرکزی کردار ہے، جن میں صحت کی سہولتیں، بینک اکاؤنٹ اور ملازمت کے لیے درخواست دینا وغیرہ شامل ہیں

اکیس سالہ روبینہ کہتی ہیں ”میری والدہ نے میری پرورش کی کیونکہ والد نے میری پیدائش کے فوراً ہم کو چھوڑ دیا تھا، اب میں ان کے شناختی کاغذات کیسے پیش کر سکتی ہوں“

روبینہ کی پریشانی اس قدر بڑھی کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی، جس کے بعد نومبر میں عدالت نے شناختی کارڈ بنانے والے ادارے کو ہدایت کی کہ روبینہ کا شناخت کارڈ والدہ کے ریکارڈ پر بنایا جائے

روبینہ کے لیے اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ اپنی والدہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جگہ پر ملازمت کے لیے درخواست دے سکیں جو کہ محکمہ تعلیم میں ملازمت کر رہی ہیں

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق روبینہ کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے ان افراد کو آئی ڈی اسکیم کے اس مرحلے سے نکال دیا ہے، جنہوں نے ماؤں کے زیرسایہ پرورش پائی

نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کے ایجنسی انچارج کا کہنا ہے، کہ ادارہ ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو اب تک اس مرحلے سے نکالا جا چکا ہے

وزیراعظم کے سٹریٹیجک ریفارمز یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’حکومت کی واضح پالیسی ہے جو لوگ ڈیٹابیس پر رجسٹرڈ ہیں، ان کو خارج نہیں کیا جائے گا۔‘

2000ع میں قائم کیے جانے والے ادارے نادرا نے بائیومیٹرک ڈیٹابیس قائم کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ اب تک اس کی جانب سے 212 ملین کی آبادی رکھنے والے ملک کے 96 فیصد بالغوں کو 120 ملین شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں

ہر کارڈ پر تیرہ ہندسوں پر مشمتل منفرد آئی ڈی موجود ہے، اس تصویر کے علاوہ حامل کے دستخط بھی ہوتے ہیں۔
آج بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے پاس شناخت کارڈ نہیں ہیں جن میں خواتین، خواجہ سرا، تارکین وطن اور خانہ بدوش کمیونیٹیز کے افراد شامل ہیں

ورلڈ بینک کے مطابق عالمی سطح پر ایسے ایک ارب کے قریب افراد موجود ہیں جن کے پاس ان کی شناخت ظاہر کے ذرائع موجود نہیں۔

Tags:

Idintity CardIssued Mother DataNADRANIC
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بال بال بچ گئے

Next

مسجد اقصیٰ کے امام نے عمران خان کو خط میں کیا لکھا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme