Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ روس پاکستان کے لیے کتنا اہم ہوگا؟

By Akhtar Rasool
فروری 16, 2022 4 Min Read
0

اسلام آباد – وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کے آخر میں دو روزہ دورے پر روس کے شہر ماسکو روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم کا تیئیس سال کے طویل عرصے بعد روس کا پہلا دورہ ہوگا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق ’وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن سمیت دیگر معاہدوں میں پیش رفت کے امکانات ہیں۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے امن و استحکام میں روس کا اہم کردار ہے۔ روس کی افغانستان کے معاملات میں دلچسپی ہے یقیناً وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس میں افغانستان کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔ اس کے علاوہ علاقائی روابط کو فروغ دینے کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہو گا

واضح رہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات ماضی میں سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد کیا ماسکو اور اسلام آباد کے درمیاں اس سردمہری کی برف پگھلے گی؟ نیز اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

اس حوالے سے ماسکو میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور پولیٹکل آفیسر تعینات رہنے والے سابق سفیر عارف کمال کہتے ہیں کہ ”پاکستان اور روس کے درمیان سرد مہری تو ختم ہو چکی ہے، تاہم اس میں پاکستان اور روس کا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ خطے کی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔“

عارف کمال کے مطابق ’روس کا بھارت کے ساتھ تجارتی تعلق ضرور رہا ہے اور اب سرد مہری کا ماحول ختم ہونے پر پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے تعلقات بہتر کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے. روس ہو یا امریکا، دونوں ممالک اپنی مارکیٹ دیکھ کر اپنے تعلقات بناتے ہیں جبکہ امریکا مارکیٹ کے علاوہ اسٹریٹیجک طور پر بھی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بھارت اور امریکا کا ایک تعلق موجود ہے اور خطے کی نئی صورتحال کے بعد امریکا کے لیے بھارت کا ایک اہم کردار ہے۔ اس چیز کو دیکھتے ہوئے روس بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہے گا، جس میں پاکستان کے لیے تعلقات بہتر بنا کر فائدہ اٹھانے کی گنجائش موجود ہے۔‘

سکیورٹی تجزیہ کار اور تھنک ٹینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گل کے مطابق ’امریکا اور چین کے درمیان ایک سرد جنگ جاری ہے اور چین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس خطے میں موجود ممالک کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور چین نے ہی روس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرے اور اس میں دونوں ممالک کو ساتھ لانے میں چین کا اہم کردار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکا کی نظر میں بین الاقوامی سیاست کا بیڈ بوائے روس تھا، جبکہ آئندہ دہائیوں میں امریکا کی نظر میں عالمی سیاست کا بیڈ بوائے چین ہے، اسی تناظر میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان تعلقات بہتر ہونا انتہائی اہم ہیں۔‘

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ ’وزیراعظم عمران خان کا دورہ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک بلکہ اس خطے کے لیے بڑی پیش رفت ہوگی۔ پاکستان نے ماضی میں کبھی روس کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور ہماری حماقتوں کے باعث ہم روس سے دور ہوگئے لیکن دیر آئے درست آئے۔‘

کیا پاکستان روس کے بلاک میں شامل ہونے جا رہا ہے؟

اس بارے میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے کہا کہ ’پاکستان کو کبھی کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ایک دفعہ ہم نے ایک بلاک میں شامل ہو کر بھگت لیا ہے، جب ہم نئے نئے آزاد ہوئے تھے اور اپنے وجود کو یقینی بنانے کے لیے مغرب کا اتحادی بننا پڑ گیا تھا اور اس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ‘روس اور چین کے بلاک میں شمولیت کے حوالے سے بات عوامی سطح پر ضرور موجود ہے لیکن پاکستان اور روس کے تعلقات ابھی آگے بڑھیں گے تو ہی یہ معاملہ کسی طرف جائے گا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، اس وقت پاکستان کو دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔‘
شمشاد احمد کے مطابق ’یہ ایک غلط سوچ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات بہتری سے امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے اور اس بارے میں پاکستان کو ہرگز نہیں سوچنا چاہیے۔ کسی تیسرے ملک کی پالیسی کو دیکھ کر اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنانی ہوگی اور ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن رہی ہے۔‘

امتیاز گل کہتے ہیں ’اس وقت پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ چین اور روس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت دیگر ممالک سے مختلف ہونی چاہیے بالخصوص چین کے ساتھ، جبکہ پاکستان یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں ہیں تاہم پاکستان اپنے مفادات پر غور کرنے کے بعد روس کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہا ہے۔‘

Tags:

PakistanRussia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

برطانیہ: الطاف حسین ‘دہشت گردی پر اکسانے’ کے کیس میں بری

Next

سیندک معاہدے میں پندرہ سال کی توسیع، بلوچستان کو کیا ملے گا اور بلوچ قومپرست کیا کہتے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme