Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

وزیرستان: ”غگ رواج“ کا شاخسانہ، نوجوان بھتیجے سمیت قتل

By Akhtar Rasool
جنوری 18, 2022 5 Min Read
0

وزیرستان – پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں رواں ہفتے ایک نوجوان کو بھتیجے سمیت مخالفین نے ”غگ رواج“ کے نتیجے میں اس وقت قتل کر دیا، جب وہ گھر سے باہر نکل رہے تھے

واضح رہے کہ غگ ایک ایسا رواج ہے جس میں ایک مرد اسلحہ لے کر متعلقہ خاتون کے دروازے پر جاکر فائرنگ کرکے اس کے حوالے سے ایک اعلان کرتا ہے، جس کے بعد اس لڑکی کو کوئی نہیں اپناتا اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی خواتین گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں

تھانہ اعظم ورسک پولیس نے دہرے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے، جس کے بعد ملزمان کی تلاش کی جاری ہے

تھانہ اعظمم ورسک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس معمول کے گشت پر تھی کہ انہیں موبائل فون پر دو افراد کو قتل کیے جانے کی اطلاع ملی

جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ مقتولین عمر خان اور یوسف خان تھے، جن کا تعلق غلام خیل قبیلے سے تھا

مقتولین کے ورثا نے وہاں زبانی طور پر پولیس کو چند افراد کے نام لے کر بتایا کہ دونوں کو انہوں نے قتل کیا ہے، تاہم ورثا نے قبائلی رواج کی وجہ سے اس واقعے کی رپورٹ یا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا

پولیس کے مطابق چونکہ جرم قابل دست اندازی ہے، لہٰذا ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا

جنوبی وزیرستان کے ایک پولیس افسر کے مطابق، شکایت کنندہ خاندان کو چاہیے تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے ملزم کو قانون کے حوالے کر دیتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم عمر کے ساتھ قتل ہونے والا ان کا بھتیجا یوسف بے قصور مارا گیا

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ہیں، اور ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے

واقعہ کے پس منظر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 2020 میں مقتول عمر خان کے خلاف اس وقت ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا ، جب انہوں نے وانا سب ڈویژن کے علاقے بومائی کی ایک سولہ سالہ لڑکی کے گھر جاکر دروازے کے باہر فائرنگ کر کے کہا کہ ’اس لڑکی پر میرا غگ ہے‘ اور وہ اس کی شادی کہیں اور نہیں ہونے دے گا اور اگر معاملہ اس کی مرضی کے برعکس ہوا تو وہ ’سب کو قتل کر دے گا۔‘

اس واقعے کے بعد لڑکی کے والد اپنی بیٹی کے ہمراہ تھانے گئے اور ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کا رشتہ پہلے ہی ان کے بھتیجے کے ساتھ طے ہو چکا ہے

انہوں نے ایف آئی آر میں یہ بھی لکھوایا کہ ان کی بیٹی اپنے چچازاد کے ساتھ رشتے پر خوش ہے اور وہ کسی طور پر عمر خان کے ساتھ شادی کے لیے تیار نہیں ہے

انہوں نے پولیس سے عمر خان پر اپنے مکان کے دروازے پر ڈرانے دھمکانے کی خاطر فائرنگ کرنے اور بیٹی پر رشتے کا غگ کرنے کے خلاف غگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا، جس نے جج کے سامنے اقبال جرم بھی کیا

دو سال جیل میں گزارنے کے بعد عمر کو ڈیرہ اسماعیل خان ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ تاہم پولیس کے بقول، رہا ہونے کے بعد بھی عمر خان اپنی ضد پر قائم رہا اور لڑکی کے خاندان کو دھمکیاں دیتا رہا

2020 میں بھی بعض علاقہ مکینوں نے عمر خان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے علاقے کے لوگوں سے عمر خان کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی تھی

اس معاملے پر ایس ایچ او ذبیح اللہ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا تھا ”ہم اس طرح کی بدمعاشی یا زبردستی کی اجازت نہیں دیں گے۔ کان کھول کر سن لیں کہ کسی کو علاقہ اعظم ورسک میں حکومتی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔“

قبائلی علاقوں میں عموماً لڑکیوں کی شادی زیادہ تر چھوٹی عمر میں ہی کردی جاتی ہے اور اگر کسی لڑکی کے ساتھ غگ جیسا معاملہ ہوجائے تو گھر کے بڑے اس کی جلد از جلد شادی کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ پشتون معاشرے میں اگر کسی غیر شادی شدہ لڑکی کا کسی لڑکے کے ساتھ نام آجائے، تو اس کے لیے جہاں رشتے آنا بند ہوجاتے ہیں، وہیں ایسی لڑکی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا

یہاں یہ ذکر بھی بے مہل نہیں ہوگا کہ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل پر ڈراما ’سنگ ماہ‘ میں بھی اسی رواج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاہم پہلی دو اقساط میں ڈرامے کے مصنف مصطفیٰ آفریدی نے ناظرین کو کنفیوز رکھتے ہوئے تاحال ’غگ‘ اور ’محبت‘ کا فرق واضح نہیں کیا ہے

جہاں ایک جانب ایک لڑکے سبز علی کو غگ پر جرگے میں سزا سنائی جاتی ہے، وہیں اسی جرگے کے سربراہ (اداکار نعمان اعجاز) سزا کے خوف سے گھبرا جانے والے سبز علی کو ’بزدل عاشق‘ کا نام دیتے ہیں

غگ کے پیچھے اسباب چاہے محبت یا بدمعاشی ہو، بہرحال اس کو پشتون معاشرے میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اب کافی ناپید ہوگیا ہے مگر پھر بھی یہ رواج کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی صورت آج بھی موجود ہے

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ 2013ع میں خیبر پختونخوا حکومت کی کوششوں سے غگ ایکٹ کا قانون بھی پاس کیا گیا تھا ، جس میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کے لیے سات سال قید، پانچ لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں تجویز کی گئیں۔ مزید برآں اس قانون کے تحت پولیس کو اس طرح کے کیسز میں کسی وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ موقع پر ہی ایسے افراد کو گرفتار کرسکتی ہے

غیر سرکاری ادارے بلیو وینز سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ثنا احمد کہتی ہیں کہ قانون تو بن گیا، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور اس کے قواعد (رولز آف بزنس) بھی نہیں بنائے گئے، یہی وجہ ہے کہ غگ جیسا بدترین رواج جو کہ ایک زبردستی ہے، معاشرے میں موجود ہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے بھی۔ اگر اس قانون کے حوالے سے شعور پھیلایا جاتا اور اس کا صحیح معنوں میں نفاذ ہوتا تو لوگ خود انصاف کرنے نہ بیٹھے ہوتے۔ ‘

ثنا احمد نے کہا کہ ہر سال مختلف قسم کے تشدد کے اعداد وشمار کی رپورٹس آتی ہیں، لیکن غگ کے حوالے سے کوئی ڈیٹا سامنے نہیں آتا، جو کہ سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے.

Tags:

Honor KillingMurderMurder CasePakistanWaziristan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان کے 29 بڑے شہروں کا پانی پینے کے لیے غیرمحفوظ: رپورٹ

Next

لاپتہ افراد کیس: ’ریاست خود ملوث ہو تو تفتیش کون کرے؟‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme