Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

وہ ’انتہائی خطرناک پھل‘ جن سے ڈونلڈ ٹرمپ ڈرتے تھے

By Akhtar Rasool
اپریل 28, 2022 2 Min Read
0

پھل تو لذیذ ہوتے ہیں اور صحت افزا بھی.. لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ پھل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ڈراؤنے خواب کی طرح تھے

جی ہاں، ڈونلڈ ٹرمپ کو مظاہرین کی جانب سے انناس، ٹماٹر اور کیلے جیسے ’انتہائی خطرناک‘ پھلوں سے مارے جانے کا خدشہ تھا

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آپ ان چیزوں سے ہلاک ہو سکتے ہیں‘

سابق صدر کے اس بیان کا انکشاف منگل کو سامنے آنی والی عدالتی دستاویزات سے ہوا، جن کا تعلق نیویارک میں جاری ایک دیوانی مقدمے سے ہے

واضح رہے کہ یہ مقدمہ میکسیکن نسل سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے دائر کیا تھا، جن کا کہنا ہے کہ ان پر 2015ع میں مین ہٹن میں ٹرمپ ٹاور کے باہر ان کے سکیورٹی گارڈز نے حملہ کیا تھا

ٹرمپ نے اٹارنی بینجمن ڈِکٹر کے سوالات پر کہا تھا کہ ’میں چاہتا تھا کہ لوگ تیار رہیں کیونکہ ہمیں الرٹ کیا گیا تھا کہ وہ پھل مارنے والے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ویسے ٹماٹر خراب ہیں لیکن کچھ پھل تو بہت ہی زیادہ خراب ہوتے ہیں۔‘

بینجمن ڈکٹر نے ٹرمپ سے 2016ع میں آئیووا میں ایک ریلی میں کیے گئے ان تبصروں کے بارے میں بھی پوچھا، جب انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ٹماٹر پھینکنے والوں کی سخت پٹائی کریں

ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ سامعین کے لیے تھا اور مذاق میں کہا گیا تھا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ’لیکن شاید آپ جانتے ہیں، اس میں تھوڑی سی سچائی بھی ہے۔ یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ آپ ان چیزوں سے مارے جا سکتے ہیں۔‘

بینجمن ڈِکٹر نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا یہ ان کی ’توقع ہے کہ اگر آپ کے سیکیورٹی گارڈز کسی کو ٹماٹر پھینکتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ ان میں سے گھٹیا چیز نکال دیں؟‘

اس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہاں میں سمجھتا ہوں کہ انہیں ایسا ہونے سے روکنے کے لیے جارحانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ کیونکہ اس سے آپ کو مارا بھی جا سکتا ہے‘

ٹرمپ کے مطابق ’کسی کو انناس، ٹماٹر، کیلے، اس طرح کی چیزیں پھینکنے سے روکنے کے لیے (جارحانہ رویہ اپنایا جا سکتا ہے)، جی ہاں، یہ خطرناک ہے۔‘

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 18 اکتوبر کو رکارڈ ہونے والے اس بیان کے دوران تقریباً ساڑھے چار گھنٹے بیٹھے رہے

دوسری جانب پیر کے روز ایک امریکی جج نے ٹرمپ کو توہین عدالت کے ایک کیس میں حکم دیا کہ وہ ہر روز دس ہزار ڈالر ادا کریں، جب تک کہ وہ نیویارک ریاست کے اٹارنی جنرل کو مالی دستاویزات نہیں سونپ دیتے، جو ان کے خاندانی کاروبار میں مبینہ فراڈ کی تحقیقات کر رہے ہیں.

Tags:

BananaDonald TrumpPine AppletomatoesUS
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’چین ویٹو کی وضاحت نہ دے سکا تو پاکستان کو مشکل ہو گی‘

Next

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے نوجوان کو حراست میں لیے جانے کا معاملہ کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme