Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

پانی میں آلودگی بتانے والا دستی ڈی این اے کمپیوٹرمتعارف

By Akhtar Rasool
فروری 24, 2022 2 Min Read
0

الینوائے: دنیا بھر میں آلودہ پانی کی شناخت کرنے والے بہت سے فلٹرموجود ہیں لیکن اب اصل ڈی این اے کی بنیاد پر ایک بہت دلچسپ واٹرسینسربنایا گیا ہے لیکن وہ آلودگی کا اظہار کمپیوٹر کی زبان میں کرتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق الینوائے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے جولیئس لکس نے ڈی این سے حیاتیاتی کمپیوٹر کے تحت کام کرنے والا سینسر بنایا ہے جو بہت کم خرچ اور سادہ ہے۔

ایک جانب تو یہ آبی آلودگی ظاہر کرنے والا سادہ سینسر ہے تو دوسری جانب اس سے حیاتیاتی کمپیوٹر سازی میں بھی پیشرفت ہوگی۔

پانی کے صرف ایک قطرے سے یہ آلودگی شناخت کرسکتا ہے۔ اس میں ایک تبدیل شدہ پروٹین کا ڈی این اے ملایا گیا ہے جو آلودہ کیمیا اجزا کی موجودگی میں روشنی کے سالمات خارج کرتا ہے۔ اس طرح صرف دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی کا نمونہ کس قدر گندا ہے۔

پہلے فلٹر میں زندہ بیکٹیریا شامل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ لیکن اس کی انجینیئرنگ سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ بیکٹیریا کو سرگرم رکھنا بہت مشکل تھا۔ اس کے بعد مصنوعی حیاتیات پرغورکیا گیا۔

اب یہ جدید ترین سینسر کمپیوٹر تبدیل شدہ ڈی این اے کی بدولت شاندار نتائج فراہم کرتا ہے اور پانی میں موجود خطرناک کیمیائی اجزا کو محسوس کرسکتا ہے۔ اسے روزالِنڈ ٹو کا نام دیا گیا ہے جس میں 8 چھوٹی ٹیسٹ ٹیوب نصب ہیں اور ہر ایک میں مختلف شدت کی آلودگیاں ناپنے والے مختلف سینسر لگے ہیں۔

اب اگر ایک ٹیوب روشنی دے تو وہ بتاتی ہے کہ اس میں ایک آلودگی ہے۔ اگر زیادہ ٹیوب روشنیاں خارج کریں تو وہ بتاتی ہیں کہ پانی قدرے آلودہ ہے۔تبدیل شدہ ڈی این اے کے ریشے ہر آلودہ شے سے چپک کر روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طرح ہر ٹیوب آلودگی کی شدت کو بتاتی جاتی ہے۔

اس طرح ٹیوب میں روشنی دیکھ کر آلودگی کی شدت کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔جب اسے آزمایا گیا تو ڈی این اے سینسر نے کامیابی سے پانی میں جست، اینٹی بایوٹکس اور صنعتی فضلے سے خارج ہونے والے کئی کیمیکل کامیابی سے شناخت کئے۔ اس سینسر کا محلول منجمند کرکے ایک سے دوسری جگہ بھیجا جاسکتا ہے۔ اب چند قطرے پانی ڈال کر اسے تیارکیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر جولیئس کے مطابق یہ سینسر بطورِ خاص پینے کے پانی کی آزمائش کے لیے بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب یہ نہایت کم خرچ اور استعمال میں آسان ہے۔

Tags:

Polluted WaterWater DNA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اسپین کے مظالم کی نشانی

Next

بھارتی سپریم کورٹ کا "گنگو بائی کاٹھیا واڑی”کا نام تبدیل کرنے کا مشورہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme