Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پاکستان سے چار ہزار میل کا سفر طے کرکے زہریلا سانپ برطانیہ کیسے پہنچا؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 24, 2021 2 Min Read
0

مانچسٹر – پاکستان سے چار ہزار میل کا سفر کرنے کے بعد دنیا کے سب سے خطرناک سانپوں میں سے ایک وائپر برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پہنچ گیا، جہاں اسے ریسکیو کر لیا گیا

تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مانچسٹر میں ایک فورک لفٹ ڈرائیور نے اس سانپ کو گذشتہ ماہ پاکستان سے آنے والے اینٹوں کے ایک ٹرک میں دیکھا

جس کے بعد اس چھوٹے مگر زہریلے سانپ کو جلد ہی اینٹوں کی کمپنی کے مینجر مائیکل ریگن نے ایک باکس میں بند کردیا اور ریسکیو ادارے کو اطلاع دی

کمپنی کے اسٹاف نے اس سانپ کے بارے میں ریسرچ کی، لیکن انہیں علم نہیں تھا کہ یہ کتنا زہریلا ہے

واضح رہے کہ وائپر کا شمار سانپوں کی ان چار اقسام میں ہوتا ہے، جن کے کاٹنے سے ہندوستان میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں

مائیکل ریگن کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ سانپ سے مناسب فاصلہ رکھنا ہے لیکن یہ علم نہیں تھا کہ کتنا زہریلا ہے

انہوں نے کہا کہ اگر پیچھے مڑ کر دیکھو تو یہ اچھا کام ہوا۔ کون جانتا ہے کہ کیا ہو جاتا؟ مجھے خوشی ہے کہ وہ اب نئے گھر میں محفوظ ہے

ریسکیو ادارے ’آر ایس پی سی اے‘ کے انسپکٹر ریا کنگ کا کہنا تھا کہ جب انہیں اس حوالے سے کال آئی تو پہلے لگا کہ کال جعلی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ سانپ کو ریسکیو کرنے گئے

مسٹر کنگ نے حفاظتی لباس میں ملبوس ہو کر ، زہریلے رینگنے والے جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی لائسنس کے ساتھ اس جانور کو نئے گھر میں لے جانے سے پہلے محفوظ طریقے سے سانپ کے تھیلے میں رکھا

مسٹر کنگ نے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ وہ چار ہزار میل کے سفر کرنے کے باوجود بچ گیا اور ہفتوں تک زندہ رہنے میں کامیاب رہا، اور اتنی سرد آب و ہوا میں زندہ رہ کر انگلینڈ پہنچا، جہاں اب وہ محفوظ ہے.

Tags:

Poisonous snakeViper snake
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مہربانی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

Next

اسلام آباد میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme