Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

پاکستان میں لیشمینیا تیزی سے پھیل رہا ہے، وجہ کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
جون 10, 2023 4 Min Read
0

اگست 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد صوبہ سندھ اور بلوچستان کے گرم و مرطوب علاقوں میں لیشمینیا کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخواہ کے متعدد علاقوں میں اس بیماری کی ایک خاص قسم کو اینڈیمک قرار دیا جا چکا ہے۔ اس جلدی بیماری سے زیادہ تر سات سال سے کم عمر کے بچے اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں

لیشمینیا کو مقامی زبان میں ”کال دانہ‘‘ یا ’’کالا آزر‘‘ کہا جاتا ہے۔ لاہور یونیورسٹی میں شعبہ مائیکرو بائیالوجی اینڈ بائیو میڈیکل سائنسز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ذیشان حیدر کے مطابق لیشمینیا ایک خاص قسم کی مکھی ’سینڈ فلائی‘ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مکھی جسم کے کھلے حصوں جیسے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ پر کاٹتی ہے، جس سے دانہ نمودار ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پھیلتا جاتا ہے۔ اکثر اس جگہ پر بڑے زخم بن جاتے ہیں، جس سے جسم کا متاثرہ حصہ انتہائی بد نما دکھائی دیتا ہے

ڈاکٹر ذیشان کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیشمینیا کا مرض جان لیوا نہیں ہے لیکن بروقت اس کا علاج نہ ہونے سے مریض کی زندگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں، چہرہ یا متاثرہ حصہ بد نما دکھائی دینے اور منفی سماجی رویوں کے باعث مریض لوگوں سے ملنے میں جھجک محسوس کرتا ہے۔ لیشمینیا خاص طور پر نوجوان لڑکیوں میں نفسیاتی مسائل کا سبب بن رہا ہے

لیشمینیا کی کون سے قسم زیادہ مہلک ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر ذیشان حیدر نے بتایا کہ لیشمینیا کی تین اقسام ہیں، جن سے سب سے زیادہ مہلک ’وسیرل لیشمینیا‘ ہے، اس کی دوسری قسم ’کیوٹینس لیشمینیا‘ عام پائی جاتی ہے، جو اسکن السر کا سبب بنتی ہے، جبکہ تیسری قسم ’میوکیوٹینس‘ سے منہ، ناک اور حلق متاثر ہوتے ہیں

وہ مزید بتاتے ہیں کہ لیشمینیا سے نمودار ہونے والا دانہ دو سے آٹھ ماہ میں بھر جاتا ہے لیکن علاج میں تاخیر کی صورت میں اسے بھرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ ان کے بقول اس دوران متاثرہ حصے پر زخم بننے سے سوجن اور درد رہتا ہے جبکہ بعض اوقات اس سے متاثرہ عضو بالکل ناکارہ بھی ہوجاتا ہے

پاکستان میں لیشمینیا کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ

عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2014ء سے 2018ء کے دوران لیشمینیا کے 1 لاکھ 87 ہزار کیسز نوٹ کیے گئے تھے۔ اگلے برسوں میں ان کیسز میں بتدریج اضافہ ہوا مگر 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں لیشمینیا بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں گلگت، پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں ویسیرل لیشمینیا کو اینڈیمک قرار دیا جا چکا ہے

ڈاکٹر ذیشان حیدر کے مطابق اس کی بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں، صفائی کا ناقص نظام اور دیہی علاقوں میں حفظان ِ صحت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ لیشمینیا کا سبب بننے والی مکھی کچی مٹی یا غیر پلاستر شدہ گھروں میں اپنا مسکن بناتی ہے۔ وہ علاقےجہاں لائیو اسٹاک کو گھروں میں رکھا جاتا ہے یا جن گنجان آباد علاقوں میں گائے، بھینسوں کے باڑے ہیں، وہاں لیشمینیا کے کیسز کا تناسب بہت زیادہ ہے

ڈاکٹر ذیشان مزید بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اس بیماری کے پھیلنے کی ایک اور بڑی وجہ ادویات کی قلت بھی ہے، اس مرض کے علاج کے لیے ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں ’گلوکین ٹائم‘ نامی انجیکشن کا کورس تجویز کیا جاتا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے ابھی تک پاکستان میں گلوکین ٹائم کی فروخت کی اجازت نہیں دی۔ یہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بلا اجازت بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے۔

اس پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ، کچلاک اور پشاور میں ایم ایس ایف لیشمینیا ٹریٹمنٹ سینٹرز پر والدین کو اپنے بچوں کے علاج کے لیے کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

لیشمینیا کی روک تھام کے لیے ایم ایس ایف پاکستان کی خدمات

ایم ایس ایف ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، جو 2008ء سے پاکستان میں لیشمینیا کی روک تھام کے لیے سرگرم ہے۔ ایم ایس ایف کے فیلڈ کمیونیکیشن آفیسر شہزاد بدر نے بتایا کہ تنظیم نے اپنی سرگرمیاں بلوچستان میں کچلاک سے شروع کی تھیں۔ اس کے بعد بتدریج اپنے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے خیبر پختونخواہ میں کرم ایجنسی اور باجوڑ میں سرگرمیاں شروع کیں، جہاں وسیرل لیشمینیا کو اینڈیمک قرار دیا جا چکا ہے

وہ مزید بتاتے ہیں کہ کوئٹہ اور کچلاک میں لیشمینیا ٹریٹمنٹ سینٹرز میں مفت علاج کیا جاتا ہے اور 2022ء تک یہاں تقریبا چھ ہزار افراد کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے چند ماہ میں بنوں اور ملحقہ علاقوں میں بھی ایسے سینٹرزکھولنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے

شہزاد بدر کا کہنا ہے کہ علاج سے زیادہ مقامی افراد کو مرض کے پھیلنے کی وجوہات اور روک تھام سے متعلق آگاہی کی ضرورت ہے، سینڈ فلائی اب تیزی سے گنجان آباد علاقوں میں پھیل رہی ہیں کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ان کے قدرتی مسکن تباہ ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے پھیلاؤ کو روکنےکے لیے گھروں کی روزانہ صفائی، سپرے اورحفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے

شہزاد بدر مزید بتاتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے ایم ایس ایف لیڈی اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی ٹریننگ کے لیے پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ یہ ہیلتھ ورکرز دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر خواتین کو لیشمینیا سے بچاؤ سے متعلق تعلیم دے رہی ہیں کیونکہ اس سے سب سے زیادہ سات سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

Tags:

bds in pakistanleishmanialeishmania animationleishmania brainleishmania donovanileishmania donovani in hindileishmania in hindileishmania kya haileishmania kya hota haileishmania life cycle in hindileishmania tropica in hindileishmaniasis in hindileishmaniasis in urduleishmaniasis is endemic in which regionleishmaniasis is endemic tolife cycle of leishmania in hindiwhat is leishmania in hindiwhat is leishmaniasis disease
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اپر چترال میں نامعلوم خونخوار جنگلی جانور کی دہشت، دو سو سے زائد مویشی ہلاک

Next

ایل نینو: ریکارڈ گرمی اور مون سون میں کم بارشوں کی پیش گوئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme