Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

پاکستان میں ملیریا پھیلانے والے مچھر کی جینیاتی انجینئرنگ

By Akhtar Rasool
نومبر 5, 2020 2 Min Read
0

امریکی ماہرین نے پاکستان اور بھارت میں ملیریا پھیلانے والے مچھر کو جینیاتی انجینیئرنگ سے گزارا ہے۔ اس مقصد کے تحت مچھر کو جدید ترین کرسپر سی اے ایس 9 ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا گیا جس کے بعد وہ مرض پھیلانے کے قابل نہیں رہتے۔

اس سے قبل بھی بڑے پیمانے پر جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے مچھروں کی نسل کشی اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت روکی گئی ہے تاہم اس مرتبہ کرسپر سی اے ایس 9 کی بدولت پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی وجہ بننے والے مشہور مچھر اینوفیلس اسٹیفنسائی کے کروموسوم میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جن کے بعد وہ ملیریا کی وجہ بننے والے طفییلیے کو مزید پھیلانے سے قاصر رہتے ہیں

اس عمل کو "آبادی میں تبدیلی” ( پاپولیشن موڈی فکیشن)  کہا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے، یوسی ایل اِرون، اور یوسی ایل سان دیاگو کے ماہرین نے ایسے جینیاتی مچھر بنائے ہیں جو ملیریا نہیں پھیلا سکتے

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جینیاتی تبدیلی کے بعد جیسے جیسے مادہ مچھر مزید انڈے دیتی ہے تو اگلی نسلوں میں بھی ملیریا پھیلانے کی صلاحیت مزید کم ہوتی جاتی ہے

اس تحقیق کے مرکزی سائنسداں پروفیسر اینتھونی جیمز کہتے ہیں کہ "سیکنڈ جنریشن جین ڈرائیو سسٹم” میں بہت سے جین دیکھے گئے ہیں، جنہیں سلا کر مچھروں کی نسل خیزی اور مرض بڑھانے کی صلاحیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عین اسی طریقے سے حشرات کو بدل کر لیشمینیا، سلیپنگ ڈیزیز اور دیگر امراض پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی بڑی وجہ بننے والے ایک مچھر اینوفیلس اسٹفینسائی کو مرض سے پاک کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تاہم نر مچھروں میں ان کی افادیت دیکھی گئی اور اگلی نسل تک اس کا پھیلاؤ 99 فیصد تک دیکھا گیا لیکن مادہ میں کم تھا

بعدازاں اس کمی کو دور کرنے کے لیے مزید تحقیق کی گئی اور اس میں کامیابی حاصل ہوئی، یعنی مادہ مچھر نے بیماری نہ پھیلانے والے خواص اگلی نسلوں میں بھی منتقل کئے

سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بہت جلد اسے ماحول میں موجود مچھروں پر آزمایا جائے گا کیونکہ اب یہ ٹیکنالوجی عملی آزمائش کے لیے تیار ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس، تعلیمی ادارے کھلے رکھنے اور  موسم سرما کی تعطیلات  کے حوالے سے اہم فیصلہ

Next

امریکہ، ﮔﻨﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ کا تنازع شدت اختيار کر گیا، پرتشدد ﻣﻈﺎﮨﺮﮮ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme