Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Punjabi-workers-Punjabi-intellectuals-Balochistan-sarfaraz-bugti
کالماہم ترینتازہ ترین

پنجابی مزدور، پنجابی دانشور

By Akhtar Rasool
اپریل 17, 2024 3 Min Read
0

فوجی جب اپنی ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکلتا ہے، چاہے کسی سرحدی چوکی پر ہو یا ملک کے اندر کسی شورش زدہ علاقے میں، اس کی تربیت اسے یہ سکھاتی ہے کہ چوکس رہو، دشمن کسی وقت بھی وار کر سکتا ہے۔ نالائق اور سست پولیس والا بھی جب گشت پر نکلتا ہے تو آنکھیں کُھلی رکھتا ہے کہ کسی گلی کی نکڑ پر، کسی چور اچکے سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے، لیکن جب کوئی مزدور اپنا گھر چھوڑتا ہے تو اسے صرف یہی فکر ہوتی ہے کہ مزدوری ملے گی یا نہیں اور اگر ملی تو کتنی ملے گی۔

اگر مزدوری کے لیے اپنا گاؤں، اپنا صوبہ، اپنا ملک چھوڑ کر جا رہا ہو تو یہ سوچتا ہے کہ مزدوری میں سے کتنا بچا کر پیچھے گھر والوں کو بھیجے گا اور واپس آ کر اپنے پیاروں کی شکل دیکھنا کب نصیب ہو گی۔

منڈی بہاؤ الدین سے مزدوریوں کے خواب دیکھتے، رمضان کے آخری دنوں میں بسوں میں سوتے جاگتے، نوشکی کے پاس پہنچتے ہیں تو مبینہ طور پر بلوچ باغی ان کے شناختی کارڈوں سے ان کی پنجابیت ثابت کر کے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔

جن مزدور خاندانوں نے مزدوری سے پیسے بچا کر نوجوانوں کو دور دیس مزدوری کے لیے بھیجا تھا انھیں اپنے بچوں کی لاشیں عید پر ملتی ہیں۔

نوشکی میں بربریت کا نشانہ بننے والے منڈی بہاؤ الدین کے نوجوانوں نے شاید نوشکی اور بلوچستان زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا۔ نہ بلوچستان میں بغاوت کی خبریں منڈی بہاؤ الدین پہنچی ہوں گی۔ ان کی آخری سانسوں کی معصوم حیرت، دردناک ہے کیونکہ انہوں نے سوچا ہوگا کہ آخر پنجابی ہونا کب ایک قابلِ قتل جرم بن گیا؟

اگر بلوچستان میں مسئلہ پنجابی مزدوروں کو قتل کر کے حل ہو سکتا تو ابھی تک کچھ بہتری آ چکی ہوتی، کیونکہ اس سے پہلے استاد بھی مارے گئے ہیں، حجام بھی، زائرین بھی، نانبائی بھی اور مزدور اور پھر مزدور اور مزدوری کے خواب دیکھنے والے بس میں اونگھتے نوجوان۔

اگر بلوچستان کا مسئلہ ہزارہ برادری کا قتلِ عام کر کے حل ہو سکتا ہے تو وہ اتنے ہو گئے کہ اپنا ہنستا بستا کوئٹہ چھوڑ کر ہزاروں کی نسل دنیا میں دربدر ہو گئی۔

پرانے فیشن کے محب الوطن یاد دلاتے رہتے تھے کہ اگر شیعہ قتل ہو تو یہ کہو کہ مسلمان قتل ہوا، اگر بلوچ بچہ اٹھایا جائے تو کہو کہ دہشت گرد اٹھایا گیا، مسیحی بستی جلا دی جائے تو یہ کہو کہ پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں، احمدی مارا جائے تو کچھ بھی نہ کہو اور کم از کم یہ مت کہو کہ جان بحق ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے منڈی بہاؤ الدین کے مزدوروں کے ورثا سے تعزیت کی اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ پنجاب کے دانشور ابھی بھی دھوکے میں ہیں۔

سرفراز بگٹی حالیہ نگران حکومت میں نوشکی سے لے کر منڈی بہاؤ الدین اور اس سے آگے کے بھی وزیر داخلہ تھے۔ ان کے اپنے وزیراعظم لاہور کی یونیورسٹی میں بیٹھ کر طلبا کو بتا گئے تھے کہ پنجابی ہو تو بلوچستان میں مارے جاؤ گے، شیعہ ہو تو مارے جاؤ گے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھ سکا کہ اگر آپ کو یہ سب پہلے ہی سے پتا ہے تو آپ وزیراعظم کے طور پر کیا کر رہے ہیں؟ صرف ہماری موت کی پیشگوئی؟

سابق نگران وزیراعظم اور ان کے ساتھی اور اب بلوچستان کے وزیراعلیٰ ایک ہی مشن کے ساتھ آئے ہیں کہ پنجابیوں کی غیرت جگاؤ تاکہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان بلوچوں سے ہمارے مزدور بچوں کا بدلا لو۔

یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نہ کبھی پنجابی مزدور سے ملے ہیں، نہ کسی پنجابی دانشور سے۔

فوجی میسوں میں اور باہر عوام میں بھی دو ہی مستند پنجابی دانشور ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ اداکار اور ٹی وی پرسنیلٹی سہیل احمد اور شہرہ آفاق ٹی وی پرسنیلٹی آفتاب اقبال۔۔ وہ آج کل آپس میں طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصلی تے وڈا دانشور کون ہے۔

سرفراز بگٹی پنجابی دانشوروں کی طرف سے بے فکر رہیں کیونکہ وہ تو آخر میں ہاتھ باندھ کر کہہ دیں گے کہ ہمارے دل ہمارے مزدور بھائیوں کے غم میں بھرے ہیں لیکن نوشکی کی چیک پوسٹوں پر ڈیوٹی تو سہیل احمد اور آفتاب اقبال نہیں دے سکتے۔ یہ تو وہی فوجی مزدور دے گا، جو اپنی ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکلے گا۔

بشکریہ بی بی سی اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

al jazeera balochistanBalochistanbalochistan liberation armyBaluchistanforcible evicted of punjabi skilled worker from balochastanHistory of Balochistanindia balochistankilling punjabi in balochstanmurder of punjabis in balochistanpunjabi labrour forcibly evicted fom balochastanpunjabi labrour in balochastanpunjabi skilled worker in balochastanpunjabi workerpunjabis in balochastanstory of balochistantragic story of punjabi workers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Murder-in-Punjab
Previous

اقبال کی کارآمد موت کا قصہ

Agriculture-taking-its-last-breath-The-plethora-of-housing-societies-started-swallowing-up-the-countrys-agricultural-land-rapidly
Next

آخری سانسیں لیتی زراعت: ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار ملک کی زرعی اراضی کو تیزی سے نگلنے لگی۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme