Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پیمرا نے اے آر وائی نیوز کی نشریات کیوں بند کی؟

By Akhtar Rasool
اگست 9, 2022 5 Min Read
0

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھاری (پیمرا) نے سوموار کی شب مبینہ طور پر ”نفرت آمیز اور پاکستانی فوج کے اندر بغاوت کو اکسانے والے مواد“ کو نشر کرنے کے الزام پر مبنی شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کی نشریات معطل کر دی ہیں

پیمرا ترجمان کے مطابق ”شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا“

پیمرا نے اے آر وائی چینل کو چھ صفحات پر مشتمل ایک طویل شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، جس میں تفصیلی طور پر نشریات کو معطل کیے جانے کی وجوہات لکھی گئی ہیں

پیمرا نے اے آر وائی نیوز کو تین دن میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے ”چینل یہ بتائے کہ اس نفرت انگیز مواد پر کیوں نہ اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے“

پیر کی شام جاری ہونے والے اس شوکاز کے مطابق اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں اے آر وائی کو پیمرا قانون کی دفعہ 29، 30 کے تحت جرمانہ، معطلی اور لائسنس کی منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے

ترجمان پیمرا محمد طاہر نے بتایا ”اے آر وائی کی نشریات بغیر کسی دباؤ کے معطل کی گئی ہیں اور اس کی وجوہات شوکاز نوٹس میں درج ہیں“

پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کہتے ہیں ”بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پیمرا نے آزادانہ کوئی کارروائی عمل میں لائی ہو۔ بعض دفعہ پیمرا سے کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی عمل میں لائیں“

پیمرا ترجمان کے مطابق ”پیمرا نے قانونی طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کی اور جب ایک ایسا بیان نشر ہوا تو پھر اس پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا“

انہوں نے کہا ”شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا“

پیمرا نے اپنے شوکاز نوٹس میں کہا ہے کہ ’اے آر وائی کی اینکر صدف عبدالجبار نے 27 جون کو نشر ہونے والی ایک خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا کہ حکومت کا ایک سٹریٹجک میڈیا سیل ہے کہ جس کا مقصد فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بدنام کرنا ہے۔‘

شوکاز نوٹس کے مطابق ’اس کے بعد پروگرام میں شہباز گل کو فون پر شامل کیا گیا، جنھوں نے نفرت انگیزی اور فتنہ انگیزی پر مبنی تبصرے کیے جو فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے مترادف تھے۔‘

پیمرا کے شوکاز نوٹس کے مطابق ”شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ فوج کے بیانیے کی ترویج کے ذریعے عمران خان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں“

پیمرا کے مطابق شہباز گل کے اے آر وائی پر نشر ہونے والے بیان میں ملکی آئین کے آرٹیکل 19 اور پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی

اس شوکاز نوٹس کے ساتھ شہباز گل کے بیان کا متن بھی شیئر کیا گیا ہے

پیمرا نے اپنے شوکاز میں شہباز گل کے بیان کو انتہائی قابل اعتراض، نفرت انگیز، فتنہ انگیز، مکمل غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان واضح طور پر مسلح افواج کے اندر بغاوت کو ہوا دے کر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے کے مترادف ہے

پیمرا نے شہباز گل کے نشر ہونے والے اس بیان پر اپنے شوکاز نوٹس میں اے آر وائی کی انتظامیہ سے کہا کہ اس بیان کو نشر کرنے میں آپ کا مذموم ارادہ بھی شامل تھا، مذکورہ بالا نفرت انگیز، فتنہ انگیز اور بدنیتی پر مبنی مواد نشر کرنا آپ کے چینل کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے

اپنے شوکاز نوٹس میں پیمرا نے اے آر وائی کے سی ای او کو خود یا اپنے کسی نمائندہ کو دس اگست دن دو بجے اسلام آباد میں واقع پیمرا کے دفتر آ کر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ پیمرا نے عدم پیشی کی صورت میں چینل کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کا بھی کہا ہے

دوسری جانب اے آر وائی کے بیورو چیف خاور گھمن کا کہنا ہے کہ وہ پیمرا کے اس غیر قانونی اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے

ان کے مطابق اے آر وائی نے اپنی پروفیشنل ذمہ داری پوری کی ہے اور حقائق پر مبنی یہ خبر بریک کی۔ ان کے خیال میں شہباز گل نے اپنے بیان میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو فوج مخالف ہو

واضح رہے کہ خاور گھمن اس پروگرام میں بطور تجزیہ کار بھی موجود تھے، جس میں شہباز گل نے یہ بیان دیا تھا

خاور گھمن کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا چینل ہی اس وقت ایسا میڈیا ہاؤس ہے، جو سابق وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو بھرپور جگہ دیتا ہے تو انہیں اس کوریج کی سزا دی جا رہی ہے

ان کے مطابق اگر کسی ایک شخص نے کوئی متنازع بیان دیا بھی ہے تو پھر آپ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتے ہیں، جیسے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر کے معاملے پر کیا گیا تھا اور پھر میڈیا پر یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی ان کی تقاریر نشر نہیں کرنی

’اگر ایک مہمان نے کچھ قابل اعتراض کہا تو چینل کیوں بند کر دیا‘
اس وقت سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا پیمرا اے آر وائی کے خلاف اپنے مقدمے کا دفاع کر سکے گا؟

پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کا کہنا ہے کہ پیمرا کے اکثر احکامات کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی یعنی اسٹے آرڈر مل جاتا ہے

ان کے مطابق صرف ان مقدمات میں اسٹے آرڈر کے کم امکانات ہوتے ہیں جہاں پیمرا نے خوب حقائق کی جانچ پڑتال کے بعد کارروائی عمل میں لائی ہو یا پھر کوئی مضبوط ادارہ پیمرا کے ساتھ کھڑا ہو

ابصار عالم کے مطابق بعض دفعہ پیمرا سے کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی عمل میں لائیں تو ایسے میں پیمرا پر انحصار ہوتا ہے کہ وہ پہلے خوب چھان بین کرے یا پھر فوری کسی کی خواہش پر کارروائی عمل میں لائے گا

ابصار عالم کے مطابق بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پیمرا نے آزادانہ کوئی کارروائی عمل میں لائی ہو اور پھر عدالتوں سے ایسی کارروائی پر اسٹے نہ ملے

ایک سوال کے جواب میں سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے بتایا کہ چینل کسی بھی قابل اعتراض یا نفرت انگیزی پر مبنی بیان کو روکنے کے لیے اپنی لائیو ٹرانسمیشن کو بھی قدرے تاخیر سے چلاتے ہیں

ان کے مطابق اس عرصے میں چینل انتظامیہ کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ کیسی ایسی بات کو روک سکیں۔ اس وجہ سے پیمرا بعض دفعہ کسی ایک مہمان کے تبصرے پر بھی چینل کے خلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے ’پاکستان میں سینسر شپ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر سب سے پہلے تو خود شہباز گل نے ہی اپنے بیان پر ردعمل دیا ہے اور اپنی کہی ہوئی بات کی تشریح پیش کی

انھوں نے کہا کہ ان کا بیان یہ تھا کہ بیوروکریسی غیرقانونی احکامات نہ مانیں وہ قانون پر چلیں

واضح رہے کہ آج اسی بیان پر شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے پیمرا کی طرف سے اپنے ہی قواعد اور ضابطے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اے آر وائی کی نشریات معطل کرنے کی مذمت کی ہے

صحافی حبیب اکرم نے لکھا کہ ٹی وی چینل بند کرنے سے آواز بند نہیں ہوتی۔

Tags:

ARYMediaPakistanPEMPRA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل گرفتار، یہ گرفتای نہیں اغوا ہے۔ پی ٹی آئی

Next

پنجاب بھر کے اسکولز میں اسٹوڈنٹس کونسل سسٹم نافذ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme