Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

پی ٹی آئی کو مہر ستار مبارک!

By Akhtar Rasool
اپریل 23, 2023 4 Min Read
0

انجمن مزارعین پنجاب والے مہر ستار کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے پر پہلے خیال آیا کہ مہر ستار کو مبارکباد دوں، آخر گرائیں بھی ہے، بھائی بھی کہتا ہے، پھر خیال آیا: نہیں مبارکباد پی ٹی آئی کو بنتی ہے، جس نے ہماری نئی نسل کو نئے خواب دکھا کر پرانے چودھریوں کی چاکری میں دھکیلا تھا۔۔ اس پی ٹی آئی کو نئی نسل کا زمین سے جڑا ایسا لیڈر ملا ہے، جو وہ سب کچھ بھگت چکا ہے، جو آج کل پی ٹی آئی بھگت رہی ہے

کوئی بائیس، پچیس سال پہلے سکون سے بی بی سی کے لندن والے نیوز روم میں بیٹھا تھا تو آبائی شہر اوکاڑہ سے کسانوں کے احتجاج کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ غور سے سنا تو پتہ لگا کہ میرے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں میں مزارعوں کی تحریک اُبھر رہی ہے۔ میرے زیادہ تر صحافی دوست چیتے رپورٹر ہیں اور دور دور کی خبریں نکال لیتے ہیں

میں بچپن سے ہی سست مزاج ہوں لیکن اپنے ساتھ والے گاؤں میں بغاوت کی خبر سُن کر خیال آیا کہ یا تو گاؤں بدل لو یا پیشہ یا پھر رپورٹر کی طرح اُٹھو اور پتہ کرو کہ چل کیا رہا ہے؟

لندن سے سیدھا اپنے گاؤں پہنچا۔ اپنے باپ جیسے بڑے بھائی سے کہا کہ ملٹری فارمز والے گاؤں جانا ہے، کوئی واقف ہے تو ملوا دیں۔۔ انہوں نے کہا کہ سب اپنے واقف ہیں اور ساتھ ہی زندگی میں پہلی اور آخری دفعہ کہا کہ تم اس گاؤں نہیں جانا۔۔ فوج کے ناکے ہیں، ہر آنے جانے والے کی ٹھکائی کرتے ہیں۔۔ وہ تم سے تمہارا بی بی سی کا کارڈ بعد میں پوچھیں گے، پہلے ٹھکائی کریں گے۔۔

میرے گاؤں اور مہر ستار کے گاؤں کے بیچ صرف ایک سڑک تھی، پہرا اتنا سخت تھا کہ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ پاکستان میں لیٹ کر کہنیوں کے بل سڑک پار کرنی پڑی۔ دوسری طرف فصلوں میں موٹر سائیکل لٹا کر چھپے لڑکوں نے مجھے مہر ستار تک پہنچایا

مہر ستار یونیورسٹی سے فارغ نوجوان تھا، جو اپنے ان گھروں اور زمینوں کو بچانے کے لیے لوگ اکٹھے کر رہا تھا، جو سو سال زمین کاشت کر رہے تھے۔ مجھے لگا کہ یہ چھوٹا سا مہر ایک بڑا پھڈا لے بیٹھا ہے۔۔ اللہ خیر کرے۔۔

دو، چار گھنٹے کی رپورٹنگ وغیرہ کے بعد مجھے جب کہانی سمجھ آ گئی اور میں واپس جانے کی کوشش میں تھا تو اس نے کہا ’نہیں، مجھے آپ کو اور گاؤں بھی دکھانے ہیں۔۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ بی بی سی کا رپورٹر آیا اور مہر نے ہم سے ملوایا ہی نہیں۔‘ ہم اس کی موٹر سائیکل پر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں، ایک کے بعد دوسری پنچایت۔۔ ایسی پنچایتیں بھی، جن میں عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔۔ ایسے گاؤں بھی، جن کے چودھری مسیحی ہیں۔۔

ملٹری فارمز کے گاؤں والوں اور فوج کی آنکھ مچولی پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک چلی، آخر مہر ستار کو اٹھا لیا گیا۔ دہشت گردی، غنڈہ گردی، غیر ملکی کرنسی قسم کے کیس ملا کر کوئی چھتیس مقدمے بنے اور مہر ستار پَیروں میں بیڑیوں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیوں کے ساتھ ساہیوال کی ہائی سکیورٹی جیل میں پہنچ گیا

وہ ساری سیاسی جماعتیں، جو مزارعوں کے ووٹوں کے لالچ میں ساتھ دینے کا وعدہ کرتی آئی تھیں، منظر سے غائب ہو گئیں۔ پیچھے کچھ وکیل جن میں عاصمہ جہانگیر پیش پیش تھیں اور کچھ انسانی حقوق والے ان کے مقدمے لڑتے رہے۔ ورنہ کچھ سالوں تک لگا کہ اب باقی عمر مہر ستار جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی گزارے گا

ہمارے ادارے کو زمینوں کا بہت شوق ہے، جو اپنی زمینوں پر بیٹھ کر ادارے کو للکارے گا، ’مالکی یا موت‘ کا نعرہ لگائے گا، تو کیا ادارہ خاموش بیٹھا رہے گا

مہر ستار جیل میں تھا، اور جب سب نے ساتھ چھوڑ دیا تو مزارعوں نے ساتھ نہیں چھوڑا، اداروں کو اپنے کھیتوں کھلیانوں میں گھسنے نہیں دیا۔۔ میں نے اوکاڑہ کے ایک بزرگ سیاسی کارکن چوہدری سجاد سے پوچھا: ’مزارعوں اور اداروں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟‘ انہوں نے کہا: ’اگر بلوچستان ہوتا تو ٹینک آ جاتے، ہیلی کاپٹر پرواز کرتے، علاقہ خالی ہو جاتا۔۔ یہ مسئلہ دو چار سو بندے مار کے حل ہو سکتا ہے لیکن اداروں میں اتنی ہمت نہیں کہ سینٹرل پنجاب کے دیہاتوں میں ٹینک لے کر گھس جائیں۔۔‘

مہر ستار کوئی ساڑھے چار سال بعد جیل سے رہا ہوا اور اب بھی کئی سیاسی کارکن، جن کی اپنی قیادت کو اداروں کو مائی باپ بنانے سے فرصت نہیں، وہ اسے ہیرو سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے اداروں سے ٹکر لی اور ابھی بھی آزاد گھوم رہا ہے

پی ٹی آئی کے نقاد بھی تعریفیں کر رہے ہیں کہ نئی نئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوئی پی ٹی آئی نے ایک ایسے شخص کو ٹکٹ دیا ہے، جو واقعی ٹکر کا آدمی تھا۔۔ لیکن میرے گرائیں کے کندھوں پر اپنی ساری خواہشوں کا بوجھ مت ڈالیں۔ وہ ’مالکی یا موت‘ کا نعرہ لے کر چلا تھا۔ موت سے اللہ نے بچائے رکھا، مالکی ہمارے اصل مالکوں نے نہیں دی، لیکن نہ دو چار سو بندہ پنجاب میں مرا، نہ مزارعوں نے اپنی زمینیں چھوڑیں

اگرپی ٹی آئی کا ہدف سویلین بالادستی ہی ہے، تو عمران حان کو چاہیے کہ وہ گجرات کے چوہدریوں کو اپنا آئیڈیل نہ بنائیں بلکہ خود چھوٹا موٹا مہر ستار بننے کی کوشش کریں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

14 august whatsapp status songabdul sattarattack on imran khanattorney generalchief justic athar minallahimran khan attackjustice babar sattarmehar abdul sattarmehar abdul sattar okaramehr abdul sattar casemehr abdul sattar in high courtmehr abdul sattar latestmehr abdul sattar storymehr abdul sattar vs armystory behind mehr abdul sattar casesupreme court hears case of mehar abdul sattar of okarawhat is mehr abdul sattar case
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تاریک پہلو: زرق برق لباس اور اندھیروں میں ڈوبی زندگیاں۔۔

Next

فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (پہلا حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme