Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

چلا محسن آفس آفس ”مجھے دوبارہ زندہ کیا جائے!“ کویتی شخص کا مطالبہ

By Akhtar Rasool
دسمبر 12, 2021 2 Min Read
0

کویت سٹی – پچھلے ہفتے جب ایک کویتی شہری پر انکشاف ہوا کہ سرکاری دستاویزات میں پچیس سال پہلے ہی اسے مُردہ قرار دیا جاچکا ہے تو وہ چکرا کر گر پڑا اور ہکا بکا رہ گیا

کویت کے مشہور اخبار ’’الرائی‘‘ میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، عبدالمحسن العیدی نامی یہ شخص 1992ع سے اپنی بیوی کے معاملات میں عمومی مختار نامے (جنرل پاور آف اٹارنی) کی رُو سے قانونی طور پر ذمہ دار ہے

اپنی بیوی کے بیمار اور ضعیف ہونے کی وجہ سے وہ چند ہفتے پہلے ایک نجی کام کے سلسلے میں القرین سروس سینٹر گیا، تاکہ وزارتِ قانون سے اس مختار نامے کی تصدیق بھی کروا کر جان سکے کہ وہ آج بھی قابلِ قبول ہے یا نہیں

وہاں موجود خاتون اہلکار نے مختار نامے کی نقل اس سے لے لی اور وہ باہر انتظار کرتا رہا

خاصی دیر انتظار کے بعد اس خاتون اہلکار نے عبدالمحسن سے اس کا سرکاری شناختی کارڈ مانگا

کاؤنٹر پر موجود خاتون اہلکار بار بار سرکاری کاغذات سے اس کے دستخط اور چہرے کو ملا کر دیکھتی رہی اور ساتھ ہی ساتھ اس کی حیرانی بھی بڑھتی گئی

بالآخر خاتون اہلکار نے ان سے  پوچھا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ہی عبدالمحسن ہیں؟

جب کویتی شہری نے خاتون اہلکار کو بتایا کہ وہی عبدالمحسن ہے، تو خاتون نے انکشاف کیا کہ کویتی حکومت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ پچیس سال پہلے فوت ہو چکا ہے

اس انکشاف پر عبدالمحسن کو چکر آ گئے اور زمین پر گر پڑا۔ بعد ازاں طبیعت سنبھلنے پر انہوں نے پوچھا کہ اگر میں مر چکا ہوں تو آپ کے سامنے زندہ کیسے ہوں؟

تھوڑی دیر بعد عبدالمحسن نے خود کو سنبھالا اور خاتون اہلکار کو بتایا کہ کویتی ادارہ برائے عوامی معلومات نے چار ماہ پہلے ہی اسے ایک سرکاری سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا ہے

تاہم، اس کی ساری دلیل بے کار گئی کیونکہ قانونی طور پر وہ مردہ ہوچکا تھا اور یوں اس”مرحوم“ کے نام بنایا گیا مختار نامہ بھی غیر مؤثر ہوچکا تھا

آخرکار”سرکاری طور پر مرحوم“ عبدالمحسن نے وزارتِ انصاف میں درخواست دائر کردی کہ اسے ’’دوبارہ زندہ کیا جائے‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’موجودہ حیثیت‘‘ میں نہ تو مختار نامہ اس کے کام کا ہے اور نہ ہی وراثت کی تقسیم میں اس کا کوئی حصہ ممکن ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوادر میں جاری مسلسل احتجاج پر وزیرِ اعظم کیا کہتے ہیں؟

Next

موٹروے پر چالان کی مدد سے ایک تاجر کو ’اغوا‘ کرنے والا کیسے پکڑا گیا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme