Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

چند مشہور کہاوتیں اور ان کے پس منظر میں چھپی کہانیاں-1

By Akhtar Rasool
نومبر 1, 2021 4 Min Read
1

کہاوت نمبر 1:
نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی

مطلب:
نہ سامانِ کثیر بہم پہنچے گا، نہ یہ امر ظہور پذیر ہوگا۔ کسی کام میں ایسی شرطیں لگانا جن کا پورا ہونا ناممکن یا دشوار ہو۔

پس منظر:
اس کہاوت کے تعلق سے کرشن جی اور رادھا کے قصہ کی تلمیح کچھ اس طرح مشہور ہے: ’’ایک رات کرشن جی نے اپنی محبوبہ رادھا سے ناچنے کے لیے کہا۔ رادھا نے معذرت طلب کی ، مگر کرشن جی ناچنے کے لیے مسلسل اصرار کرتے رہے۔ رادھا جی کو جب یہ محسوس ہوا کہ کرشن جی کسی طرح ماننے والے نہیں ہیں، تو انہوں نے کرشن جی سے کہا، ٹھیک ہے! میں ناچوں گی، آپ پہلے نو من تل کا چراغ جلوائیے۔ کیوں کہ میں ایسی ویسی نہیں ہوں، آپ کی محبوبہ ہوں۔ اس لیے میری بھی کچھ حیثیت ہے۔ کرشن جی یہ کہہ کر خاموش ہوگئے کہ، نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی۔‘‘

کہاوت نمبر 2:
جس کی لاٹھی، اس کی بھینس

مطلب :
طاقتور ہی کا سب کچھ ہے۔ جب کوئی طاقتور اپنے بَل بوتے پر زبردستی کسی کمزور کا مال اپنے قبضے میں کر لے، تو یہ مثل کہی جاتی ہے۔

پس منظر :
اس مثل کے وجود میں آنے کا سبب ایک دلچسپ حکایت ہے جو اس طرح ہے:
’’ایک بار کوئی شخص بازار سے ایک بھینس خرید کر اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں سنساں جنگل پڑتا تھا۔ جس وقت وہ سنسان راستے سے گزر رہا تھا، تو راستے میں ایک چور ملا۔ چور نے اس کا راستہ روک لیا اور ڈرا دھمکا کر کہا کہ بھینس میرے حوالے کردو۔ بھینس والے نے آنا کانی کی، تو چور نے لاٹھی تان کر کہا۔ اگر تم بھینس نہیں دو گے، تو اسی لاٹھی سے تمہارا سر پھاڑ دوں گا۔ پھر تم کو بھینس کے ساتھ ساتھ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اچھائی اسی میں ہے کہ بے چوں و چرا بھینس میرے حوالے کردو اور اپنے گھر کا راستہ ناپو۔ بھینس والے نے سوچا کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔ کہیں جان ہی سے نہ جاؤں۔ بھینس دینے ہی میں عافیت ہے۔ اس نے بھینس کو چور کے حوالے کر دیا اور نہایت عاجزی و انکساری سے کہا۔ اب یہ بھینس آپ کی ہے۔ راستہ سنسان ہے، اگر تم مجھے اپنی یہ لاٹھی دے دو، تو میں اس کے سہارے اپنے گھر تک پہنچ جاؤں گا۔ چور نے سوچا، قیمتی بھینس تو مجھے مل گئی ہے، اب لاٹھی دینے میں کیا مضائقہ ہے۔ اس نے بھینس والے کو اپنی لاٹھی دے دی۔ چور جوں ہی بھینس کو لے کر چلنے لگا۔ اس شخص نے لاٹھی تان کر کہا، اب کہاں جاتا ہے؟ تیری عافیت اسی میں ہے کہ بھینس کو چھوڑ کر بھاگ جا، ورنہ تیرے سر کے دو ٹکڑے کردوں گا۔ چور گھبرا گیا۔ معاملہ الٹا ہوگیا تھا۔ موقعہ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اس نے بھینس چھوڑ دی اور لاٹھی واپس مانگی۔ اس شخص نے جواب دیا، اب یہ لاٹھی تیرے ہاتھ آنے والی نہیں۔ کیوں کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔‘‘

کہاوت نمبر 3:
تین میں، نہ تیرہ میں

مطلب :
کہاوت یوں ہے: ’’تین میں نہ تیرہ میں، مردنگ بجاوے ڈیرے میں۔‘‘
ایسا شخص جو کمتر ہو یا جس کی حیثیت دوسروں کے سامنے کچھ نہ ہو۔ یہ کہاوت ایسے شخص کے لیے کہی جاتی ہے، جو اپنے آپ کو دوسرے کے برابر سمجھے۔ ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے، مگر لوگ اسے اپنے سے کمتر ہی خیال کریں۔

پس منظر :
اس مثل کے بارے میں ایک حکایت کچھ یوں بیان کی جاتی ہے:
’’ایک بار بان پور (بندیل کھنڈ) کے راجا مردن سنگھ نے دعوت کا اہتمام کیا۔ انہوں نے سبھی ٹھاکروں کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ مدعو کیا۔ ٹھاکروں میں اعلیٰ درجہ کے ٹھاکروں کے تین قبیلے بندیلے، پنوار اور گھگھنرے تھے۔ ان کے علاوہ ٹھاکروں کے تیرہ گھرانے اور تھے، جن کا شمار بھی اعلیٰ ٹھاکروں میں کیا جاتا تھا، مگر اول تین قبیلوں کو ان پر فوقیت حاصل تھی۔ بھوج (یعنی دعوت) میں شامل ہونے کے لیے سبھی تیرہ گھرانوں کے ٹھاکر تشریف لائے مگر ایک ٹھاکر وہاں بن بلائے ہی پہنچ گئے۔ اس ٹھاکر کے گھرانے کا شمار کمتر گھرانوں میں ہوتا تھا۔ اعلیٰ درجہ کے ٹھاکر کمتر درجہ کے ٹھاکروں کے ساتھ نہ تو کھاتے پیتے تھے، اور نہ ان کی عزت ہی کرتے تھے۔ بھوج کے وقت یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ ان حضرت کو کس طرح کھانا کھلایا جائے؟ کیوں کہ اعلیٰ درجہ کے ٹھاکر ادنیٰ درجہ کے ٹھاکروں کے ساتھ قطعی کھانا نہیں کھا سکتے۔ بہت سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کا کھانا ان کے مکان ہی پر بھجوا دیا جائے۔ یہ وہیں کھانا کھائیں اور وہیں مردنگ بجائیں۔ کیوں کہ یہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں، مردنگ بجاوے ڈیرے میں۔‘‘

ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی تصنیف ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ سے ماخوذ

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی جو ایک شہر تھا

Next

اسلام آباد آنے والا غیر ملکی طیارہ خوفناک حادثے سے بال بال بچ گیا

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme