Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

چھوٹے بچوں میں دوسروں کی مدد کرنے کے فطری جذبے پر دلچسپ تحقیق سے کیا معلوم ہوا؟

By Akhtar Rasool
فروری 20, 2023 4 Min Read
0

ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چھوٹے بچے فطری طور پر دوسروں کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، تاہم وہ ایک موقع پر اس ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں

محققین نے اپنے مطالعے کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ دوسروں کے لیے ہمدردی کا جذبہ جب خود کی قیمت پر ہو تو بچے اپنے ہمدردانہ ردعمل کو کم کر دیتے ہیں

حال ہی میں سائنسی جریدے ’رائل سوسائٹی اوپن سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چار اور پانچ سال کی عمر کے دو سو اَسی سے زیادہ بچوں میں دوسروں کی مدد کے لیے پائی جانے والی فطرت کا جائزہ لیا گیا

آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی سے وابستہ جیمز کربی سمیت سائنسدانوں نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے تجربات کیے کہ کون سے عوامل نے ان میں ہمدردانہ رویے پر اکسایا اور کون سے عوامل نے ان کو اس سے باز رکھا؟

ہمدردی ایک وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا جانے والا انسانی رویہ ہے، جو دوسروں کی مدد اور انہیں آرام پہنچانے کے جذبے سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم یہ رویہ ایک پیچیدہ محرک اور اپنی ذاتی مشکلات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے حساسیت کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، یعنی یہ پریشانی کو کم کرنے یا روکنے کے عزم کے ساتھ آتا ہے

پچھلے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں، جب بھی ہو سکے، شفقت کا مظاہرہ کرنے کا فطری رجحان پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کن حالات میں دوسروں کی مدد کرنا چھوڑ سکتے ہیں

نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ کون سے عوامل چھوٹے بچوں میں زیادہ ہمدردانہ رویے کو بڑھا سکتے ہیں اور کن حالات کی وجہ سے وہ دوسروں کے لیے کم مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

اس مطالعے میں محققین نے بچوں سے پزل گیم کھیلنے کو کہا، جس کے مکمل ہونے پر انہیں انعام کے طور پر ایک اسٹیکر ملا

گیم سے متعارف ہونے سے پہلے بچوں نے بڑے سیکشن سے اپنے تین پسندیدہ اسٹیکرز کا انتخاب کیا

وہ بڑے افراد یا ملی دا منکی، ایلی دی ایلیفینٹ اور جارج دا جراف جیسی کٹھ پتلیوں کے ساتھ کھیلے، جن کے پاس یہ ٹاسک پورا کرنے کے لیے کافی ٹکڑے نہیں تھے

بچے اسٹیکرز حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد تین مختلف طریقوں سے واضح طور پر پریشان ہوئے

سائنسدانوں نے مطالعہ میں اس رویے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ”اس سے بچوں کو دوسروں کی مدد کرنے کے تین مواقع ملے“

انہوں نے مزید کہا ”اگر کٹھ پتلی کی جانب سے پریشانی ظاہر کرنے کے بعد بچے نے ان کی مدد کی تو اسے ہمدردانہ رویے کے طور پر دیکھا گیا“

ٹاسک یا تو اس وقت ختم ہوا جب بچے نے مدد کی یا اس وقت، جب تین (پریشانی کے) اشاروں کے بعد بھی بچے نے مدد نہ کی

محققین نے پایا کہ بچوں نے تمام مطالعات میں اس وقت مدد کی، جب بھی ان کے پاس پزل کے اضافی پیسز موجود تھے

لیکن جب ان کے پاس خود پزل کو مکمل کرنے کے لیے کافی ٹکڑے نہیں تھے تو انہوں نے دوسروں کی مدد نہیں کی

محققین نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی ”ہمیں اس بات کے مضبوط ثبوت ملے ہیں کہ خود کی قیمت پر بچوں میں ہمدردانہ ردعمل کم ہو جاتا ہے“

سائنسدانوں نے یہ بھی پایا کہ ہمدردی حاصل کرنے سے بچوں کے رویے پر کوئی اثر نہیں پڑا، کیونکہ ان میں ایک بڑے آدمی اور ایک کٹھ پتلی کی مدد کرنے کا یکساں امکان موجود تھا

نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جن بچوں کی عمریں چار اور پانچ سال ہیں ان میں خود کی قیمت پر ہمدردی کے ردعمل کو کم کرنے کا زیادہ امکان ہے اس کے مقابلے میں کہ ہمدردی کا اظہار کس کے لیے کیا جانا ہے

محققین نے یہ سمجھنے کے لیے مطالعہ کے حالات کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ کون سے عوامل بچوں میں پزل اور اپنے انعام والے سٹیکر کو چھوڑنے کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں

انہوں نے یہی ٹاسک ایک الگ تجربے میں بچوں کو بتا کر کیا کہ وہ اپنے پزل پیسز کو شیئر کر سکتے ہیں اور انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ کٹھ پتلی یا بڑے افراد کے ساتھ ایک ہی ٹیم میں ہیں۔ تاہم محققین نے بتایا کہ انہیں اس میں بھی کامیابی نہیں ملی

محققین نے مزید کہا ”یہ ممکن ہے کہ بچوں نے مشترکہ باسکٹ میں دستیاب وسائل کی ‘محدود’ مقدار کو دیکھا اور محسوس کیا کہ انہیں کٹھ پتلی سے پہلے ضروری پیسز حاصل کرنا ہوں گے“

تمام تجربات کے نتائج بتاتے ہیں کہ خود کی قیمت بچوں میں ہمدردی کے جذبے کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس قیمت کو کم کرنے سے ہمدردی کے جذبے کو بڑھایا جا سکتا ہے

سائنسدانوں کے مطابق یہ نتائج چھوٹے بچوں میں ہمدردانہ رویے کو بڑھانے بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

Tags:

and covid 19 in children: update 128brain researchChildrenhow to age in reversehow to be a good parent to a toddlerhow to be a good parent to your teenagerhow to love yourselfinnate immunityinnate immunity vs adaptive immunityinnate knowledgeinterestingResearchsheldon helps his motherthere is a creatoryoung sheldonyoung sheldon clipyoung sheldon episodeyoung sheldon season 2 clipyoung sheldon season 2 episodeyoung sheldon tbs
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

خلا میں نئی قسم کے دھماکے کا مشاہدہ، تحقیق

Next

قیام پاکستان کے بعد ملیر (اربن) کی مختصر تاریخ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme