Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

چینی مہنگی کیسے ہوئی؟ کون کون ملوث؟ ﺷﻮﮔﺮ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯ مافیا کے اہم رکن  کے ﮨﻮﺷﺮﺑﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ

By Akhtar Rasool
مارچ 31, 2021 3 Min Read
0

ﺷﻮﮔﺮ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯ مافیا کے اہم رکن  نے ﮨﻮﺷﺮﺑﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯ ایک ﮐﻠﻮ ﭼﯿﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺻﻠﯽ ﮈﯾﻠﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﯾﺘﮯ، ﭼﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺍﻧﺪﻭﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﮧ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺷﻮﮔﺮﻣﻞ ﺍﯾﺴﻮﺳﯽ ﺍﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﯽ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﯿﮟ، ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻣﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﮨﯿﮟ

ﺷﻮﮔﺮ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯ مافیا کے اہم رکن ﺧﺮﻡ ﻋﺮﻑ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﻒ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻮﺷﺮﺑﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ کیے ہیں۔ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﻒ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍئے گئے اپنے بیان میں خرم عرف دوائی نے ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺍﻧﺪﻭﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﮧ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺷﻮﮔﺮﻣﻞ ﺍﯾﺴﻮﺳﯽ ﺍﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻄﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﯽ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﯿﮟ، ﺗﻤﺎﻡ ﺳﭩﮯ ﺑﺎﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭧ ﻭﺭﮎ ﮐﻮ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻮ ﭼﯿﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺻﻠﯽ ﮈﯾﻠﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﯾﺘﮯ، ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﭩﮧ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﻨﺎﮨﯽ ﭼﻨﺎﺭ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﮐﯿﺎﻧ ، ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎﺀ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﮈﺍﺭ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ ﺭﺍﺳﺖ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺣﺪﯾﺒﯿﮧ ﻣﻨﯽ ﻻﻧﮉﺭﻧﮓ ﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻣﻠﺰﻡ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﺰ ﺍﯾﺴﻮﺳﯽ ﺍﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻣﻠﺰ کے ﺑﮭﯽ ﺳﭩﮧ ﺑﺎﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﮨﯿﮟ

ﺧﺮﻡ ﻋﺮﻑ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ہے ﮐﮧ ﭼﻨﺎﺭ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻞ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﮨﯿﮟ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﺰ A-7 ﻧﯿﻮ ﻣﺴﻠﻢ ﭨﺎﻭﻥ ﺳﮯ معاملات ﺁﭘﺮﯾﭧ کرتی ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ، ﺳﭩﮧ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻠﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻔﯿﮧ ﺑﻨﮏ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺲ ﮐﮭﻮﻝ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﯿﮟ

خرم دوائی نے کہا کہ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﺳﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﮐﺎﺅﻧﭩﺲ ﮐﮭﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺷﻮﮔﺮ ﺳﭩﮧ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ کیے

ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻗﺒﻞ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﻦ ﺭﮐﻨﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﻄﺤﯽ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﭼﯿﻨﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﭘﺮ ﻭﻓﺎﻗﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﺍﯾﺠﻨﺴﯽ ‏(ﺍﯾﻒ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ) ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎﮐﮧ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻨﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ، ﻭﻓﺎﻗﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺴﺮﻭ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻧﺲ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﭙﻨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﻟﯿﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ

ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻟﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻒ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﺮﻃﺮﻑ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﯾﮉﯾﺸﻨﻞ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﺍﯾﻒ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﺳﺠﺎﺩ ﺑﺎﺟﻮﮦ ﭘﺮ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻟﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮭﺎ ، ﺳﺠﺎﺩ ﺑﺎﺟﻮﮦ ﭼﯿﻨﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﺍﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﺎ ﻓﺮﺍﻧﺰﮎ ﺍٓﮈﭦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭨﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﭘﺮ رپورٹ لیک کر کے ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻞ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ کو ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻄﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺤﮑﻤﺎﻧﮧ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﺑﭩﮭﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺳﺠﺎﺩ ﺑﺎﺟﻮﮦ ﻧﮯ ﺷﻮﮔﺮ ﻣﻞ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﮟ تھیں

دوسری جانب چینی سٹہ مافیا کے خلاف کارروائی کے لئے ایف آئی لاہور نے ایف آئی اے کراچی کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے قوی شواہد ہیں کہ چینی سٹہ مافیا نے چینی کی قیمت میں غیرقانونی طور پر اضافہ کیا

خط کے متن میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال مارچ میں ہی چینی کی قیمت میں بیس روپے سے زائد کا غیرقانونی اضافہ کیا گیا

ایف آئی اے لاہور نے اپنے خط میں کہا ہے کہ چینی کی قیمت میں اس غیرقانونی اضافے سے عوام کو 110 ارب روپے کا نقصان ہوا

خط کے متن میں ایف آئی اے لاہور نے ایف آئی اے کراچی کو شہرمیں 23 چینی سٹہ کرنے والوں کی تفصیل بھی دی ہے، اس فہرست میں چینی مافیا کے ان لوگوں کے نام شامل ہیں جو چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دار ہیں

ایف آئی اے کی فہرست میں دانش، فرقان بابا، کھیم چند دینانی، دیوی داس حیدرآباد، جے کمار، جاوید تھارا، حاجی ضمیر، ہریش کمار، مہیش کمار، ویشال کلارا، روہت چنی لالہ، ستیاپال کلارا، سنتوش کمار ہیں۔اس کے علاوہ راجہ چنی لال، جوتی پرکاش، پون سبلانی، دیال داس، پریم کمار، دلیپ دیونانی، دیوداس، روی کوریجانانک رام دینانی، روشن لال، منگارام عرف جگل کشور کے نام شامل ہے

ایف آئی اے لاہور کی جانب سے کراچی آفس کو جاری کی گئی مذکورہ فہرست میں جن 23 افراد کے نام شامل ہیں، ان کا تعلق پاکستان شوگر گروپ، شوگر مرچنٹس اور شوگر ٹریڈرز گروپ سے ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جہانگیر ترین اور اہل خانہ پر اربوں کی منی لانڈرنگ اور فراڈ کے مقدمات

Next

ﮔﻨﺪﻡ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﻓﺼﻞ کے لیے ﺍﻣﺪﺍﺩﯼ ﻗﯿﻤﺖ 1800 ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ من ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮنے کی ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme