Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ڈاکٹر اجمل ساوند کو مرنا ہی تھا

By Akhtar Rasool
اپریل 8, 2023 5 Min Read
0

نیٹ فلیکس کی ڈاکومینٹری ’ہماری کائنات‘ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کی گریٹ بیرئیر ریف کے طویل سفید ریتلے ساحل پر سبز دھاری دار کچھوے ہزاروں کی تعداد میں ایک مخصوص موسم میں خونی مچھلیوں اور شکاری پرندوں سے بچتے بچاتے آتے ہیں اور ہزاروں انڈے ریت میں دبا کے پھر نیلگوں سمندر کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں

سورج کی گرمی سے ریت میں دبے انڈوں سے نوزائیدہ بچے نکل کے جیسے ہی سمندر کی طرف دوڑ پڑتے ہیں تو فضا میں منڈلاتے بھوکے پرندے اور ساحل سے ذرا پرے منتظر بڑی مچھلیاں ان پر ایک ساتھ یلغار کر دیتے ہیں

ہزاروں نوزائیدہ کچھوؤں میں سے بمشکل چار پانچ ہی سمندر میں اترنے کے بعد زندہ رہتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم طبعی عمر کو پہنچ پاتے ہیں

ہزاروں میں سے چار پانچ بچ جانے والے کئی کئی ہزار کلومیٹر تک سمندر چھاننے اور خطرات سے آنکھ مچولی میں ایک عمر گذارنے کے بعد دوبارہ انڈوں کا ذخیرہ پیٹ میں دبائے اپنی جنم بھومی کی جانب واپسی کا سفر شروع کرتے ہیں تاکہ یہ انڈے اسی ریت میں دبا سکیں، جس کی حدت سے انہوں نے کئی سال پہلے جنم لیا تھا۔ یہ سلسلہ لاکھوں برس سے اسی طرح چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔۔

جب مجھے ڈاکٹر اجمل ساوند کے قتل کی اطلاع ملی تو یہی کہانی یاد آ گئی۔۔ کتنی مشکل سے قبائلی ریت میں دبے ہزاروں انڈوں میں سے اجمل ساوند جیسے بچے نکلتے ہیں اور انہیں انتقام و جہالت و ذہنی پسماندگی و محرومی کے خمیر سے پیدا ہونے والے پرندے، شارکیں اور وہیل مچھلیاں چٹ کر جاتی ہیں۔

ہزاروں میں سے بمشکل پانچ دس بچے بچیاں آگے بڑھ پاتے ہیں اور ان میں سے بھی آدھے کسی حادثے یا غیر طبعی موت یا انتقام کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ مگر جو بچ جاتے ہیں، وہ جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کے دوبارہ اپنی امنگوں کے انڈے لے کر اسی ریت کی طرف دوڑتے ہیں، جس ریت سے وہ جنمے تھے۔۔

کشمور، جیکب آباد، شکارپور، گھوٹکی، سکھر ، لاڑکانہ یا شمالی سندھ کے دیگر اضلاع یا آس پاس کے اور اضلاع۔شاید ہی کوئی قبیلہ دعویٰ کر سکے کہ اس کی کسی دوسرے قبیلے سے کبھی دشمنی نہ رہی ہو اور زن، زر، زمین اور انا کے منحوس چکر نے اس کے بچے نہ کھائے ہوں

لگ بھگ پندرہ برس قبل مجھے خیرپور کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں ’غیرت کے کاروبار‘ پر بی بی سی اور یونیورسٹی کے مشترکہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ زیادہ تر لڑکے لڑکیاں مقامی یا آس پاس کے اضلاع کے تھے۔ یہ سب بچے مجھے ان نوزائیدہ کچھوؤں جیسے لگے، جو آدم خور پرندوں اور جانوروں سے بچ کے علم کے سمندر میں اپنی شناخت ڈھونڈنے کے لالچ میں غوطہ زن ہونے میں کامیاب ہو گئے

میزبانوں نے ایک درمیانے درجے کے قبائلی سردار کو بھی اس سیمینار میں بطور مرکزی مہمان مدعو کیا تاکہ کاروکاری ، سنگ چٹی (تاوان میں لڑکیوں کو دینے کا رواج)، جرگہ، فیصلہ، بدلہ۔ ان سب کی فارسی سمجھ سکیں

سردار صاحب کو لڑکوں لڑکیوں نے گھیر لیا اور وہ وہ سوالات داغے کہ جنہیں اٹھانے کی جرأت صرف جوان خون ہی کر سکتا تھا۔ سردار صاحب نے تسلیم کیا کہ یہ سب جہالت ہے، جس کی آج کے زمانے میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ خونی گرداب پوری پوری نسلیں نگل رہا ہے مگر بقول سردار صاحب یہ رواج، دشمنیاں، غیرت کا جدی پشتی تصور اگلی نسل میں بھی چلے گا

بھلے ایک عام قبائلی لڑکا اور لڑکی کتنا بھی پڑھ لکھ جائے۔بھلے سردار انگوٹھا چھاپ بھی ہو مگر رہے گا وہ سردار۔۔! بھلے اس کا بیٹا اور پوتا آکسفورڈ سے بھی پڑھ کے آ جائے، لیکن جب اپنے گاؤں آئے گا اور گدّی پر بیٹھے گا تو روشن خیالی شہر میں ہی چھوڑ کے آنا پڑے گا۔۔! ورنہ ماحول اسے اور اس کی سرداری کھا جائے گا۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور ویسے ہی ٹھیک ہو گیا جیسا آپ چاہتے ہو تو پھر سردار کو کون پوچھے گا۔۔

ڈاکٹر اجمل ساوند یا اس جیسوں کو ہوش سنبھالتے ہی اندازہ ہو جاتا ہوگا کہ انہیں انیسویں صدی پار کر کے بیسویں اور پھر اکیسویں صدی میں صرف اپنے ہی بل بوتے پر گھپ اندھیروں کو چیرتے ہوئے آگے جانا ہے

ڈاکٹر اجمل جب کیڈٹ کالج لاڑکانہ میں داخل ہوا ہوگا، جب مہران انجینئرنگ یونیورسٹی میں اپنا مستقبل کات رہا ہوگا، جب شاہ عنائت جھوکی اور لطیف، چومسکی اور ایڈورڈ گبن کو پڑھ رہا ہوگا۔ جب پیرس کی ڈیکارت یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے جن کو قابو میں لا کے اسے ڈاکٹریٹ کا لباس پہنا رہا ہوگا

اجمل جب مغرب سے حاصل کردہ سائنسی زاویہ نظر اپنے اندر سمو کر اکیسویں صدی سے واپس انیسویں صدی میں چھلانگ لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو رہا ہوگا۔۔جب اپنے اردگرد کے چھوٹے چوٹے اذہان کو جگنو بنانے کے خبط میں مبتلا ہو کر واپس اپنی جنم بھومی کی طرف لوٹا ہوگا اور آئی بی اے سکھر میں بیٹھ کر اس دھوکے میں مبتلا ہوا ہوگا کہ اسے بھلا کون مارے گا؟ اسے کون کسی اور کی دشمنی کی مشین میں ایک اور گنا سمجھ کے کیوں پیلے گا۔۔ تب اسے یہ تھوڑی معلوم ہوگا کہ جہالت کے ہاتھ میں تھمی بندوق کی ایک گولی اس کے پورے علم اور تمام خوابوں پر بھاری ہے!

ایک سندرانی نے ایک ساوند کو مار دیا۔ کوئی ساوند پھر کسی سندرانی کو مار دے گا۔ڈاکٹر اجمل کی خوش نیتی، تپسیا، درویشی، وطن پرستی اور علم شناسی گئی بھاڑ میں۔۔۔ وہ علامہ اقبال یا فراز فینن ہی کیوں نہ ہو مگر ہے تو ساوند۔۔ اور ساوند کوئی بھی ہو دشمن ہے۔۔۔ جیسے سندرانی کوئی بھی ہو، ہے تو ٹارگٹ وغیرہ وغیرہ۔۔۔!

آسمان پر منڈلاتے خونی پرندوں، ساحل کے آس پاس گشت کرتی شارکوں اور تاک میں بیٹھے مردار خور گِدھوں کے جُھنڈ کے لیے ڈاکٹر اجمل صرف ایک وقت کا رزق تھا اور بس۔۔۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ کچھوؤں کے بچے پیدا ہوتے ہی سمندر کی طرف بھاگنا بند نہیں کر سکتے۔۔ بھلے ان میں سے دو چار ہی ڈبکی لگا پائیں۔۔ خیر اور شر کا ڈرامہ یونہی چلے گا۔۔ بس کردار بدلتے رہیں گے۔۔

بشکریہ: ایکسپریس اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

bloodwar in sindhcase system in sindhcommon law admission testdifferent meanings of murderiba sukkur professor shot deadkilling of ajmal sawandmurder of ajmal sawandSindh Policesundrani sawand tribal warthe hindu analysisthe hindu editorialtribalism in sindhtribalism promotes crimes
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آٹا مہنگا، خودی سستی

Next

ایران میں اسکول کی مزید درجنوں طالبات کو زہر دینے کے واقعات

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme