Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کاسمیٹکس میں صحت کے لیے خطرناک اجزا موجود ہونے کا انکشاف

By Akhtar Rasool
جون 17, 2021 2 Min Read
0

انڈیانا : میک اپ کے سامان جیسا کہ لِپ اسٹک، مسکارا اور فاؤنڈیشن وغیرہ ایسے مضر کیمیکل سے بھرپور ہوتے ہیں جو کئی خطرناک بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتے ہیں

یونیورسٹی آف نوٹرڈیم کے سائنسدانوں نے کینیڈا اور امریکا میں عام استعمال ہونے والی میک اپ کی 200 مصنوعات یعنی لپ اسٹک، فاؤنڈیشن، مسکارا، آنکھوں اور بھنووں کے سنگھار کا جائزہ لیا۔ ان میں ’پراینڈ پولی فلوروالکائل سبسٹینسس‘ (پی ایف اے ایس) کی غیرمعمولی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ ایک زہریلا کیمیکل ہے جو کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے جن میں کینسر بھی شامل ہے.

نوٹرڈیم یونیورسٹی میں طبیعیات کے پروفیسر، گراہم پیسلے نے یہ تحقیق کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ اربوں ڈالر کی صنعت ہے، جس کی مصنوعات روزانہ لاکھوں خواتین استعمال کرتی ہیں۔ کئی میک اپ مصنوعات آنکھوں اور ہونٹوں کے اطراف لگائی جاتی ہیں جہاں وہ جذب ہوکر جسم کے اندر داخل ہوسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ پی ایف اے ایس مسلسل موجود رہتے ہوئے نہ صرف انسانوں بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصاندہ ہوتے ہیں

پروفیسر گراہم نے کہا کہ پی ایف اے ایس برتنوں، کپڑوں اور فاسٹ فوڈ کی پیکنگ میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ انہیں ’ہمیشہ رہنے والے کیمیائی اجزا‘ بھی کہا جاتا ہے جو قدرتی طور پر ختم نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ قدرتی ماحول اور آبی ذخائر کو بھی آلودہ کرتے ہیں

واضح رہے کہ میک اپ میں فلورین اور پی ایف اے ایس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو گردے کے کینسر، بلڈ پریشر، تھائرائیڈ امراض، اور کم وزنی پیدائش اور بچوں میں امنیاتی زہر کی وجہ بن رہی ہے

ماہرین نے ہونٹوں پر لگانے والے میک اپ کی 60 پراڈکٹس ٹیسٹ کیں جن میں فلورین کی 55 فیصد زائد مقدار دیکھی گئیں۔ 42 اقسام کی مائع لپ اسٹک کی 62 فیصد تعداد میں فلورین نوٹ کی گئی۔ 43 قسم کے فاؤنڈیشن میں سے 25 میں فلورین موجود تھی۔ سب سے زیادہ فلورین واٹرپروف مسکارا میں پائی گئی ہے

ماہرین نے میک اپ میں موجود خطرناک کیمیائی اجزا کا بھرپور جائزہ لینے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ بھر کے لاکھوں بلدیاتی ملازمین کا ڈیٹا نجی کمپنی کو دینے کی تیاری

Next

انٹر کے طلبا کو 4000 روپے ماہانہ وظیفہ پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme