Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کراچی میں مشتعل ہجوم نے ٹیلی کام کمپنی کے دو ملازمین کو ہلاک کر دیا

By Akhtar Rasool
اکتوبر 29, 2022 5 Min Read
0

کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں ایک مشتعل ہجوم نے ٹیلی کام انجینیئر اور ان کو ڈرائیور کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا

پولیس کے مطابق مقامی لوگوں نے اُنہیں بچوں کے اغواکار سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں افراد کی لاشیں کئی گھنٹے سڑک پر پڑی رہیں

یہ پرتشدد واقعہ ڈاکس تھانے کی حدود میں مچھر کالونی بنگالی محلہ میں پیش آیا ہے۔ ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیلی کام کمپنی کے ملازم تھے اور یہاں سگنلز چیک کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے

انہوں نے بتایا ’یہ پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں اچانک یہ افواہ پھیلائی گئی کہ یہ بچوں کو اغوا کر رہے تھے اور ایک ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔ پولیس واقعے کی مختلف زاویوں سے تحیقات کر رہی ہے۔‘

ایس ایچ او ڈاکس پرویز سولنگی کا کہنا ہے کہ مقتولین نے دو تین لوگوں سے راستہ پوچھا تھا، جس کے بعد علاقے میں یہ مشہور کردیا گیا کہ یہ بچے اغوا کرنے والے ہیں

جائے وقوعہ کے متعلق میڈیا رپورٹس کے مطابق تنگ گلیوں میں سے ایک گلی میں سیمنٹ کے بھاری بلاک موجود تھے، جو خون آلودہ تھے، علاقے میں معمولی چہل پہل تھی

جس گھر کے باہر یہ بلاک موجود تھے، میں نے اس کے ایک رہائشی سے واقعہ کے متعلق پوچھنے پر اس شخص نے بتایا کہ اسے معلوم نہیں وہ تو ابھی آیا ہے

ایک مقامی شخص نے اشارے سے بتایا کہ دوسری لاش کو گھیسٹ کر یہاں لایا گیا تھا۔ اسی جگہ پر کرسیوں پر دو لوگ بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا

ایک نوجوان نے بتایا کہ دونوں شخص سامنے کھڑے ہوئے تھے لوگوں نے اُنہیں کہا کہ اپنا آئی ڈی کارڈ دکھاؤ تو وہ اڑ گئے۔ ان کے پاس گاڑی میں تین بیگ بھی تھے اُنہوں نے وہ بھی چیک نہیں کروائے، جس پر عوام کو غصہ آ گیا

جہاں دونوں افراد کو ہلاک کیا گیا وہاں ایک مسجد و مدرسہ اور اس سے آگے ٹی سی ایف کا اسکول واقع ہے۔ اس علاقے کے ایک شخص نے بتایا کہ 11 بجے اس نے گلی میں دونوں لاشیں پڑی ہوئی دیکھیں اور پولیس ایک بجے کے قریب پہنچی

ایک دوسرے نوجوان نے بتایا کہ یہاں پولیو ٹیم کے ساتھ موجود پولیس اہلکار آئے اور اُنہوں نے لوگوں کو زخمی ان کے حوالے کرنے کے لیے کہا لیکن لوگ نہیں مانے جس پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی، جس کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے اور اُنہوں نے پولیس پر بھی حملہ کر دیا

مقامی لوگوں کے مطابق ایک بجے کے قریب بھاری تعداد میں پولیس اور رینجرز پہنچی، جس کے بعد وہاں سے لاشیں اٹھائی گئی ہیں

فلاحی تنظیم ایدھی اور چھیپا فاؤنڈیشن نے یہ لاشیں سول ہسپتال منتقل کیں۔ چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان شاہد چھیپا کے مطابق 11 بج کر 35 منٹ پر اُنھیں کسی شہری نے فون کال کر کے بتایا کہ عوام نے دو ڈاکو مار دیے ہیں، اس اطلاع پر ان کی ایمبولینس پہنچ گئیں لیکن لوگ مشتعل تھے گاڑی جل رہی تھی۔ جب پولیس پہنچی اور لاش اٹھانے کو کہا تو اس کے بعد لاش کی منتقلی کی گئی

دونوں افراد ایک الٹو کار میں سوار تھے، جس کو جائے وقوعہ سے تھوڑا دور جا کر نذر آتش کردیا گیا۔ ایک شہری نے بتایا کہ بچے گاڑی کو دھکیل کر اس کھلی جگہ پر لے گئے جہاں اسے جلایا گیا

ہلاک ہونے والوں کی شاخت انجینیئر ایمن جاوید اور ڈرائیور اسحاق پنہور کے نام سے ہوئی ہے۔ اس واقعے کی کئی وڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں 12 سے لے کر 70 سال تک کے عمر کے افراد اور یہاں تک کہ برقع پوش خواتین بھی ان پر پتھر برساتے ہوئے اور تشدد کرتے ہوئے نظر آتی ہیں

ایک وڈیو میں ایک نوجوان کی آواز آتی ہے: ’ان کی وجہ سے محلے والے سکون سے سو نہیں سکتے۔ صحیح ہے صحیح ہے، دوبارہ اب ایسا کوئی نہیں سوچے گا۔‘ ایک اور آواز آتی ہے ’مارو، جلاؤ جلاؤ تاکہ انہیں پتہ چلے بنگالی پاڑے میں آنے کا نتیجہ۔‘

وڈیوز میں کئی ہاتھ نظر آتے ہیں، جو وڈیوز بنا رہے ہیں اور مسلسل سنگ باری جاری رہتی ہے۔ ایک وڈیو میں نظر آتا ہے کہ دو پولیس اہلکار موجود ہیں لیکن ہجوم بغیر کسی خوف کے پتھر برسا رہا ہے، اہلکار انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو لڑکے ان کو پکڑ لیتے ہیں۔ اس وقت قمیض شلوار پہنا شخص کھڑا ہو جاتا ہے لیکن اسے لاٹھیوں سے مارا جاتا ہے اور سر پر پتھر مارنے سے وہ گر جاتا ہے

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار اہلکار پہلے پہنچے، اس وقت ایک شخص کی سانس چل رہی تھی، لوگ اسے ٹانگ سے پکڑ کر کھڑے تھے اور کہا کہ جب تک مرے گا نہیں، وہ چھوڑیں گے نہیں۔ انہوں نے چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ان پر پتھروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار اہلکار زخمی ہو گئے

کراچی پولیس ترجمان کے مطابق ڈاکس پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ وڈیوز کی مدد سے نو افراد کی نشاندہی کی ہے جن میں سے تین کو گرفتار کر لیا گیا ہے

ہلاک ہونے والے انجینیئر ایمن جاوید کے کزن عارف غوری نے بتایا کہ ستائیس سالہ جاوید ٹیلی کام میں انجینیئر تھے، وہ سائٹ ٹو سائٹ جاتے تھے اور سگنلز کی شکایات دور کرتے تھے، صبح کو بھی کمپنی کی گاڑی میں شکایت پر مچھر کالونی پہنچے تھے جہاں انھوں نے راستہ پوچھا جس پر ان پر حملہ کر دیا گیا اور وہ ہلاک ہو گئے

واضح رہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز حالیہ دنوں میں دوبارہ اسٹریٹ کرائم کا سامنا کر رہا ہے۔ چند سال قبل آپریشن کے بعد اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی مگر اب اس میں دوبارہ تیزی آ گئی ہے

اس کرائم کی وجہ سے رات کو دس بجے سے پہلے کئی علاقوں میں کاروبار بھی بند کر دیا جاتا ہے

ایک غیر سرکاری تنظیم پلس نے کراچی میں سٹریٹ کرائم پر ایک تحقیق کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان جرائم سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے

پلس کے کنسلٹنٹ کاشف حفیظ کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے کراچی کے ساتوں اضلاع میں ایک مطالعہ کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ کراچی والوں کو مزید خوفزدہ کر رہا ہے اور انھیں مزید غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے

اس سروے کے جواب دہندگان میں ہر دس میں سے سات لوگ ایسے ہیں جو خود یا ان کا کوئی قریبی رشتے دار یا جاننے والا اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوا ہے۔

Tags:

KarachiMurderTelecom
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’اپنے بھائی (ارشد شریف) کے خلاف بہیمانہ اقدام میں کوئی کردار نہیں‘ سلمان اقبال

Next

گوانتاناموبے میں قید پاکستانی شہری کی رہائی کے بعد وطن واپسی۔۔ قید سے رہائی تک کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme