Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Shroud-Thief-column-story
کالماہم ترینتازہ ترین

کفن چور (کالم کہانی)

By Akhtar Rasool
دسمبر 23, 2023 5 Min Read
0

آدھی رات کا وقت تھا۔ میں قبرستان میں پرانی قبروں سے کھوپڑیاں تلاش کر رہا تھا۔ پرانی قبروں سے کھوپڑیاں چرانا میرا روز کا معمول نہیں ہے۔ میں صرف الیکشن کے موسم میں کھوپڑیاں چرانے قبرستان آتا ہوں۔ میرا روز کا معمول کچھ اور ہے۔ میں پولیس کی طرف سے عدالتوں میں جھوٹی گواہی دیتا ہوں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک ذریعے سے ملنے والی آمدنی سے آپ چولھا تو جلا سکتے ہیں لیکن جلتے ہوئے چولھے کی آگ سے آپ پیٹ کا دوزخ ٹھنڈا نہیں کر سکتے۔ چولھے پر پکانے کے لئے کچھ برتن اور دال، چاول کی ضرورت پڑتی ہے، اس لئے چولھے پر کچھ پکانے کے لئے مجھے دو ایک چھوٹے موٹے کام کرنے پڑتے ہیں۔ پولیس کی طرف سے عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے اور مخبری کرنے کے علاوہ میں ایک ستّر سالہ سنیاسی باوا کے یہاں کام کرتا ہوں۔

سنیاسی باوا تعویذ گنڈے کرنے کے علاوہ بھوت پریت اور جن اپنے قبضے میں رکھتا ہے، کالے جادو پر اس کی دسترس ہے۔ وہ مٹی، روئی اور کپڑوں کی فتیلوں سے پتلے بنا کر ان میں سوئیاں چبھو کر مجھے دیتا ہے اور میں وہ پتلے قبرستان میں الگ الگ جگہوں پر زمین میں گاڑ کر آتا ہوں۔ پتلے اور جگہ، جہاں وہ گڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اس کا پورا پورا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ کالے جادو کے وہم میں گرفتار جب کوئی مت کا مارا ہوا سنیاسی باوا کے ہاں آتا ہے تب سنیاسی باوا کی بتائی ہوئی جگہ سے کھود کر پتلا نکالنے کے بعد سنیاسی باوا کا معتقد بن جاتا ہے۔

انتخابات کے موسم میں رات کے وقت ستّر سالہ سنیاسی باوا کے ہاں جانے پہچانے سائنس دان ان سے ملنے آتے ہیں۔ ایسے میں سنیاسی باوا کو کھوپڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک مرتبہ ملک کے مشہور سائنس دان مولا جٹ مستانے کو ایک کھوپڑی دکھاتے ہوئے سنیاسی باوا نے کہا تھا ”مولا جٹ مستانے! یہ کھوپڑی انتخابات میں آپ کے مدمقابل سجن بے پروا متوالے کی کھوپڑی ہے“

”کیا بات کرتے ہو سنیاسی باوا!“ مولا جٹ مستانے نے کہا ”کل شام میں نے سجن بے پروا کو سڑکوں پر نعرے لگاتے دیکھا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا، جو ہم سے ٹکرائے گا، ضمانت ضبط کرائے گا“

”وہ کل کی بات ہے مولاجٹ مستانے!“ سنیاسی باوا نے کہا، ”یہ جو کھوپڑی تمہارے سامنے میز پر رکھی ہوئی ہے، سجن بے پروا متوالے کی ہے“

مولا جٹ مستانے نے پوچھا ”یہ کیسے ممکن ہے؟“

سنیاسی باوا نے کہا ”میرے جن سب کچھ ممکن کر سکتے ہیں“

مولا جٹ مستانے پوچھا
”تو کیا آپ کے جنوں نے سجن بے پروا کو مار ڈالا؟“

”میرے جن ایسی فاش غلطی کبھی نہیں کرتے“۔ ستّر سالہ سنیاسی باوا نے کہا ”اگر میرے جن سجن بے پروا کو مار ڈالتے تو وہ شہید کہلوانے میں آتا۔ لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کے بعد سجن بے پروا کی بیوی پاکستان کی پہلی خاتون صدر بن جاتی جو کہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوتا بلکہ ملک کے حق میں بھی اچھا نہ ہوتا“

مولا جٹ نے پوچھا ”میز پر رکھی ہوئی یہ کھوپڑی اگر سجن بے پروا کی ہے تو پھر سجن بے پروا کے کندھوں پر کس کی کھوپڑی ہے؟“

سنیاسی باوا نے کہا ”سجن بے پروا کے کندھوں پر اس بدنصیب کی کھوپڑی ہے، جو اس ملک میں کبھی الیکشن جیت نہیں سکتا، ہار اس کا مقدر بن چکی ہے“

مولا جٹ نے پوچھا ”کون ہے وہ بدنصیب؟“

سنیاسی باوا نے مسکراتے ہوتے کہا ”غریب عوام، عرف اللہ سائیں کا آدمی“

پیر سائیں کھٹپٹ شاہ کا شمار سندھ کے نمبر ٹو یعنی چھوٹے پیر سائیوں میں ہوتا ہے۔ پیر سائیں کے مریدوں کی اتنی تعداد نہیں ہے کہ ان کے ووٹوں کے بل بوتے پر قومی یا صوبائی اسمبلی تک جا پہنچے۔ یہ اعزاز صرف سندھ کے چیدہ چیدہ پیر سائیوں کو حاصل ہے، جن کے ووٹ بینک میں لاکھوں اَن پڑھ، آگاہی سے محروم، افلاس کی چکّی میں پسے ہوئے عقیدت مند سیونگ اکاؤنٹ میں پشت در پشت فکسڈ پڑے ہوئے ہیں۔

پیر سائیں کھٹپٹ شاہ نے سنیاسی باوا سے کہا ”میں نے ایک پارٹی کے صدر کو پانچ کروڑ روپے دیئے لیکن الیکشن لڑنے کا ٹکٹ انہوں نے کسی اور کو دے دیا“

سنیاسی باوا نے میز پر رکھی ہوئی کھوپڑی پر چھڑی گھماتے ہوئے جنتر منتر پڑھ کر پھونکا۔ کھوپڑی کے منہ، ناک اور دونوں کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ سنیاسی باوا نے کہا ”فلاں پارٹی کے صدر کو تم سات کروڑ روپے دو، وہ تمہیں انتخابات لڑنے کے لئے پارٹی ٹکٹ دے دے گا“

پیر سائیں کھٹپٹ شاہ چلا گیا۔ کچھ روز کے بعد روتی صورت لے کر لوٹ آیا، کہنے لگا ”اس پارٹی کے صدر کو میں نے سات کروڑ روپے دیئے لیکن انہوں نے مجھے ٹکٹ نہیں دیا“

سنیاسی باوا نے جنتر منتر پڑھ کر کھوپڑی پر پھونکا۔ کھوپڑی کے منہ، ناک اور دونوں کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ سنیاسی باوا نے کہا، ”دوسرے کسی امیدوار نے اس پارٹی کے صدر کو آٹھ کروڑ روپے دیئے تھے۔ اس مرتبہ تم اس پارٹی کے صدر کو دس کروڑ دو، ہو سکے تو بارہ کروڑ دو۔ وہ الیکشن لڑنے کے لئے صرف تمہیں ٹکٹ دے گا“

پیر سائیں کھٹپٹ شاہ گیا تو پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا۔ ایک روز میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی زیارت کرنے گیا۔ زائرین کے جوتے سنبھالنے والے کو دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ وہ پیر سائیں کھٹپٹ شاہ تھا۔ پتہ چلا کہ پارٹی ٹکٹ کے لئے بولی بڑھاتے بڑھاتے اس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا لیکن اس پارٹی کے صدر نے الیکشن لڑنے کا ٹکٹ سردار ستم خان ظلمانی کو دیا۔ سردار ستم خان ظلمانی اسلام آباد کے بے تاج بادشاہوں اور عرب شہزادوں کی مہمان داری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں قبرستان سے کھوپڑیاں کیوں چرا رہا تھا۔ پرانی قبروں سے میں نے ابھی تین چار کھوپڑیاں نکالی تھیں کہ بڑی بڑی گاڑیوں کے رکنے کی آواز آئی۔ میں دبک کر ایک قبر کے پیچھے چھپ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک پارٹی کے بیس، تیس مسٹنڈے دندناتے ہوئے قبرستان میں داخل ہوئے۔ ایک کبڑا ان کی رہنمائی کر رہا تھا، کبڑے نے اپنے ساتھیوں سے کہا ”نگراں حکومت آنے سے پہلے مردوں کے جتنے کفن چرا سکتے ہو چرا لو۔ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور اس فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا“۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ۔

Tags:

animated horror storiescliff the story guyfull story gw2gw2 full storygw2 personal storyHistoryhistory factsmmorpg full storynj historyscary horror storiesscary storiessea of thieves shroud breakersea of thieves shroud breaker playthroughsea of thieves stars of a thiefsea of thieves storysen shroudshroudshroud firstshroud first gameshroud first game valorantshroud of the avatar forsaken virtuesshroud valorantvalorant shroud
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Turbat-Long-March-They-certainly-didnt-come-with-high-expectations
Previous

تربت لانگ مارچ: ’وہ یقینی طور پر بہت زیادہ توقعات کے ساتھ نہیں آئے تھے!‘

tragic-end-story-of-India-gold-medalist-wrestler
Next

انڈیا کی گولڈمیڈلسٹ ریسلر ساکشی کے المناک انجام کی کہانی، وہ ریسلنگ چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme