Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کلر بلائنڈنیس کو درست کرنے والے گلابی کانٹیکٹ لینس

By Akhtar Rasool
مارچ 8, 2021 2 Min Read
0

رنگوں کے اندھے پن (کلر بلائنڈنیس) میں مبتلا افراد کو کبھی آسمان بھورا نظر آتا ہے تو کبھی انہیں گھاس سرمئی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اب اس کمی کو دور کرنے کے لیے گلابی رنگ کے کانٹیکٹ لینس بنائے گئے ہیں جو کئی طرح کی کلر بلائنڈنیس کا ازالہ کر سکتے ہیں

اگرچہ مخصوص رنگوں والی عینک پہننے سے یہ کیفیت کم ہوسکتی ہے، لیکن وہ دھندلی بصارت کو کسی طرح بھی درست نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب رنگدار عدسے صرف سرخ کلر بلائنڈنیس کو ہی درست کر سکتے ہیں۔ لیکن اب متحدہ عرب امارات اور برطانوی ماہرین نے سونے کے نینوذرات سے بنے کانٹیکٹ لینس تیار کئے ہیں، جن کا رنگ ہلکا گلابی ہے

اے سی ایس نینو نامی جرنل میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق  ابوظہبی میں واقع خلیفہ یونیورسٹی کے احمد صالح اور ان کے ساتھیوں نے برطانوی یونیورسٹی کے اشتراک سے یہ لینس بنایا ہے

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 8 فیصد مرد اور 0.5 خواتین پیدائشی طور پر کلر بلائنڈنیس کا شکار ہوتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا اکثر افراد سرخ سبز رنگوں کو نہ پہچاننے کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں

اس کمی کو دور کرنے کے لیے احمد صالح اور حیدر بٹ نے سونے کے انتہائی باریک نینوذرات پر مبنی لینس بنائے ہیں جو روشنی کو فلٹر کرتے ہیں اور بعض رنگوں کو درست کر کے بصارت تک پہنچاتے ہیں۔ یہ لینس ایک عرصے سے رنگدار شیشے بنانے میں استعمال ہو رہے ہیں

اس کے لیے چالیس نینومیٹر تک کے نینو ذرات کو ہائیڈروجل بھرے پالیمر میں یکساں طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے لینس ہلکے گلابی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ 520 سے 580 نینومیٹر کی روشنی فلٹر کرتے ہیں۔ انہیں پہننے پر آنکھوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اگلے مرحلے میں انہیں مریضوں کو لگا کر ان کا تجزیہ کیا جائے گا.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیمیائی اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرناک اثرات کے بارے میں جدید تحقیق

Next

لاپتہ افراد کیس: بے ثمر جے آئی ٹیز کا کیا فائدہ!؟  سندھ ہائی کورٹ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme