Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کورونا کی یاد دلاتی ویب سیریز ’کالا پانی‘ میں کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 24, 2023 4 Min Read
0

کالا پانی کا لفظ سے برصغیر کی تقسیم سے پہلے کے دور کی ایک بھیانک یاد جڑی ہوئی ہے، یہ وہ وقت تھا جب راج برطانیہ کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو بطور سزا جزائر انڈمان میں قائم جیل بھیج دیا جاتا تھا اور وہاں سے واپسی ناممکن ہوتی تھی، اس سزا کو عرفِ عام میں ’کالا پانی‘ کی سزا کہا جاتا ہے

مستقبل قریب کے تناظر میں فلمائی گئی نیٹ فلیکس کی ویب سیریز ’کالا پانی‘ کی کہانی بھی انہی جزائر میں پھوٹ پڑنے والی ایک ایسی وبا کے بارے میں ہے کہ جس سے بچنا ناممکن نظر آتا ہے

ویب سیریز کی کہانی کا آغاز سال 2027 کے دوران جزائر انڈمان میں ہونے والے ایک فیسٹیول سے ہوتا ہے، جس میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ اس دوران وہاں ایک ایسی وبا پھوٹ پڑتی ہے، جس سے مقامی لوگ تیزی سے متاثر ہونے لگتے ہیں

اگرچہ ڈاکٹر سنگھ اس خطرے کو بھانپ لیتی ہے، لیکن وہ انتظامیہ کو اس بیماری کی شدت کے بارے یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی، نتیجتاً فیسٹیول منسوخ نہیں کیا جاتا اور ہزاروں افراد بے خبری میں موت کی طرف بڑھتے جاتے ہیں

ان جزائر کے انتظامی امور لیفٹیننٹ جنرل جبران قادری سنبھال رہے ہیں، جو اس کشمکش کا شکار ہیں کہ اس صورت حال کے بارے میں عوام اور دیگر ملکوں کو کس طرح آگاہ کیا جائے۔ اسی دوران یہ خبر پورے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ اب یہ تمام جزیرے حقیقت میں ’کالا پانی‘ کا روپ دھار لیتے ہیں

ایک طرف ڈاکٹروں کی ٹیم اس وبا کا علاج ڈھونڈنے میں مصروف ہے، جنہیں پتہ چلتا ہے کہ ان جزائر کے ساٹھ ہزار سال سے آباد اصل باسی ’اوراکا‘ قبیلے کے باشندے، اس بیماری کا شکار نہیں ہوئے لہٰذا ان کی تحقیق کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے

دوسری طرف ہنگامہ اور افراتفری مچنے پر تفریح کی غرض سے آئے ہوئے سنتوش سالوا کی کہانی ہے، جو اپنے بچوں سے بچھڑ جاتا ہے۔ اسی دوران فیسٹیول منعقد کرنے والی کمپنی ’ایٹم‘ وبا سے ہونے والے نقصانات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی پوری کوشش میں ہے اور کرپٹ پولیس افسر کیتن اس سلسلے میں ان کی پوری مدد کر رہا ہے

ویب سیریز میں وبا کے پھوٹ پڑنے پر مچنے والی افراتفری دیکھ کر کووڈ-19 کا زمانہ یاد آ جاتا ہے۔ احتیاطی تدابیر تقریباً ویسی ہی دِکھائی گئی ہیں، تاہم وبا کئی گنا زیادہ تیزی سے پھیلنے والی اور جان لیوا ہے

مشہور سائنسدان ڈارون کی ’تھیوری آف ایولوشن‘ کو اس ویب سیریز کی بنیاد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ زمین پر جانداروں کی کوئی بھی نسل بدلاؤ لائے بغیر بقا حاصل نہیں کر سکی۔ فطرت سب کو ایک موقع ضرور دیتی ہے۔ اگر وہ جاندار رہن سہن اور عادات و اطوار میں تبدیلی لا کر خود کو فطرت کی ’ستم ظریفی‘ سے بچا لے تو بہتر ہے ورنہ وہ سفاکیت سے اس کا نام و نشان مٹا دیتی ہے

اس ویب سیریز میں کام کرنے والے اداکاروں کی شاندار کارکردگی نے اسے کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مشہور ڈرامہ سیریل ’جسی جیسی کوئی نہیں‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ مونا سنگھ (ڈاکٹر سنگھ) نے اس ویب سیریز میں بطور مہمان اداکار کام کیا ہے

اگر کہا جائے کہ اداکار سکانت گوئل نے بطور ٹیکسی ڈرائیور ’چیرو‘ اور اداکار وکاس کمار نے بطور ایک باپ ’سنتوش سالوا‘ کے کردار کو ادا کرتے ہوئے شو کو چرا لیا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ ایسی بہترین اداکاری آج کل کے دور میں مشکل سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے علاوہ ویب سیریز ’آسور‘ سے شہرت پانے والے آمی واگھ کرپٹ پولیس افسر کیتن کے کردار میں نظر آئیں گے

’کالا پانی کی یہ کہانی‘ پانی کی طرح ہی روانی سے بہتی چلی جاتی ہے۔ پلاٹ مضبوط، تحقیق قابلِ داد اور اداکاری شاندار ہے۔ خوب صورت جزائر کی سینیماٹوگرافی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے

اس ویب سیریز کے اسکرپٹ رائٹر بسواپتی سرکار ہیں، جو خود بھی ٹی وی اور فلموں میں اداکاری کرتے ہیں۔ جبکہ ہدایت کار سمیر سکسینا ہیں جو اس سے پہلے ’پنچایت‘ نامی مشہور ویب سیریز کے تخلیق کار بھی ہیں

آئی ایم ڈی بی پر اس ویب سیریز کی ریٹنگ 10 میں سے 8.2 ہے جبکہ نیٹ فلیکس پاکستان پر اس وقت یہ نمبر 1 پر موجود ہے۔ اس شو میں انسانی شناخت، ماحولیاتی استحصال، سیاسی بدعنوانی اور مقامی لوگوں کی فطرت سے ہم آہنگی جیسے موضوعات کو تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے

کالا پانی کے یہ جزیرے اب اپنے نام کی طرح ایک جیل کی صورت اختیار کر گئے ہیں اور اس جیل کی دیواریں مٹی اور گارے سے نہیں، پانی سے بنی ہیں۔

Tags:

anne of the island (book)battle of the power toolscomedy web seriesmalta and gozo in the 90smalta in the 90sreef life of the andamantelugu latest web seriestelugu web seriesthe 22 most amazing discoveries of 2022the conference moviethe conference movie reviewthe conference reviewthe house of the seven gables (book)the hunchback of notre dame (book)the most amazing discoveries of all timeWeb Serieswirally telugu web serieswirally web series
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کرکٹ ورلڈکپ: پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات حسبِ معمول ’اگر مگر‘ کے حوالے۔۔۔

Next

ایس بی سی اے نے بحریہ ٹاؤن میں جائیداد کی خرید و فروخت این او سی کینسل کر دیا، ملک ریاض پر ایف آئی آر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme