Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Said-but-unsaid-things
کالماہم ترینتازہ ترین

کہی کہی مگر ان کہی باتیں

By Akhtar Rasool
فروری 27, 2024 3 Min Read
0

فراغت اور مصروفیات کے لمحات میں فیس بک، ٹوئٹر(X)، انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یا پھر کسی محفل یا فلم میں ہماری نظروں اور ساعتوں سے اکثر ایسی نصیحت آموز باتیں گزرتی ہیں، جو ہمیں ایک لمحے کے لئے کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور پھر ہم ان باتوں کو بھول جاتے ہیں۔

اس تحریر میں کچھ ایسی ہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ یہ باتیں کسی اور کی ہیں، میں بس توڑ مروڑ کر قلمبند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور تحریر میں ترتیب بنانا آپ پر منحصر ہے۔

ہمارے گرد ہر شخص خوش رہنے کے لئے بہت پریشان ہے۔ خوش رہنے کا فارمولا کبھی بھی یونیورسل نہیں ہو سکتا ہے۔ خوشی انفرادی شے ہے۔ اپنی خوشی خود ڈھونڈیں۔ یہ تاریخ جو آج ہمیں پڑھائی اور سنائی جاتی ہے، اس کی گاڑی سر پھروں اور پاگلوں کے دھکے سے ہی آگے بڑھی ہے۔

اگر آپ نے کسی کے کردار کا اندازہ لگانا ہو تو یہ دیکھو کہ وہ ہنستا کس بات پر ہے۔ یاد رہیں کہ دو طرفہ محبت میں شادی کا خطرہ ہوتا ہے، اس لئے محبت ہمیشہ یک طرفہ کریں۔ محبت ہو یا جدائی، خدارا وقت کی باتوں میں مت آنا۔ یہ سب سے کہتا پھرتا ہے کہ ہم تیرے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ زندگی سے ڈرتے ہو؟ میں نے ہنس کر جواب دیا کہ میں جس معاشرے میں رہتا ہوں، وہاں زندگی ہم سے ڈرتی ہے۔

سستی چائے ہمیشہ مہنگی یادیں تازہ کرتی ہے۔ اس لئے مہنگی چائے پیا کرو۔ اگر تمہارے جھک جانے سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو جھک جائیں لیکن ایسا کرنے سے کردار کا قتل ہو جائے گا۔ یاد رکھیں کہ کردار ایماندار رکھنا، جنازہ شاندار نکلے گا۔

سب سے خوبصورت جھوٹ وہی لوگ بولتے ہیں، جو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ لوگ اگر اعتبار کرنا چھوڑ دیں تو آپ کی حیثیت وہی ہو جاتی ہے جو مادے کی ہوتی ہے۔ سانئسی تعریف کی روح سے مادہ اس عنصر کو کہتے ہیں جو بس جگہ گھیرتا ہو اور وزن رکھتا ہو۔ اگر حلوہ جل جائے تو اسے جلوہ نہیں کہتے۔جب پیادہ ٹیڑھی چال چلے، تو وہ پیادہ نہیں رہتا، آگے جا کر راجہ بن جاتا ہے اور طوفان آنے سے پہلے موسم شانت ہو جاتا ہے۔

شکاری کو دیکھ کر بھاگنا، یہ خوبی کچھوے میں نہیں تھی۔ اسی لئے انہوں نے اپنے جسم پر ایک مضبوط تہہ بنا لی۔۔ اور ایک تم ہو جو لوگوں کے ایک سوال ”تم بدل کیوں گئے ہو“ کے ڈر سے شادی ہی نہیں کرتے۔ ارے بھائی شادی کے بعد بدلنا اٹل اور مثبت عمل ہے۔ البتہ اگر تم شادی کے بعد بھی نہیں بدلے تو یہ ایک لمحہِ فکریہ اور معاملہِ حیرت انگیزی ہے۔ زمین پر گھاس ختم ہوگئی تو زرافے نے اپنی گردن لمبی کر دی۔ انڈہ 18 روپے سے 35 روپے کا ہو گیا، تم نے کیا کیا؟

کچھ لوگوں کی خاموشی بھی کسی کام کی نہیں۔ انہیں اپنی اداسی بیان کر کے بتانی پڑتی ہے۔ میری یادداشت کم ہے، ورنہ زندگی تو بہت کچھ سکھا رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے وفادار عورت سے زیادہ کوئی خوبصورت چیز بنائی ہوگی، تو وہ اپنے پاس ہی رکھی ہوگی۔

پیار سے زیادہ درد لوگوں کو بدلتا ہے۔ جب آپ کی زندگی میں درد آ جائے تو آپ مکمل طور پر بدل جاتے ہو۔

کیپیٹلزم کے وجود سے پہلے محبوبہ کا بچھڑنا سب سے بڑا درد تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب اس کی جگہ تنخواہ نے لی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین نے تنخواہ دیر سے ملنے کو زندگی کا سب سے بڑا درد تسلیم کر لیا ہے۔ الہ دین کا چراغ اگر مظلوم کے ہاتھ لگ جائے تو اسے ظالم بنتے دیر نہیں لگتی۔ فطرت کا نظام چاہے کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو، مگر وہ ایک چھوٹی سے جِیْو کو کچھ طاقت ضرور دیتا ہے اور ہر طاقتور کو ایک کمزوری بھی دان کرتا ہے۔۔

پتا نہیں لوگ پھیکی چائے کیسے پیتے ہیں۔ جس زندگی میں چینی نہ ہو، ہمیں وہ زندگی جینی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی بھی جگہ نہیں ہے، جہاں سب کچھ ٹھیک ہو۔۔ ہمارے یہاں ظرف اختیار کے تابع ہے۔۔ اور طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو بتاتا چلوں کہ جو جنم لے گا، اس کی مرتیو نشچنت ہے۔

بات سمجھ میں آئی؟ نہیں آئی؟ کیسے آئی گی، جب ہم نے کوئی بات ہی نہیں کی۔۔ اپنا خیال رکھیں اور جس کو تراشا ہے، اسی بت کی پوجا کرتے رہیں۔

(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

4ever falling unsaidbetter left unsaidhall and oates some things are better left unsaidjulie and the phantoms unsaid emily lyricsleft unsaidsay the things unsaidsome things are better left unsaidsomething are better left unsaidsomethings are better left unsaidswim to me the things i've left unsaidthingsthings left unsaidthings unsaidunsaidunsaid emilyunsaid emily lyricsunsaid emily songunsaid thingsunsaid things (acoustic)
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Our-future
Previous

ہمارا مستقبل

Rizo-Baji-Selected-Fiction-from-Urdu-Literature
Next

رضو باجی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme