Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کیا آپ کو میجک شو دیکھنے کا مزہ آتا ہے؟

By Akhtar Rasool
ستمبر 12, 2022 4 Min Read
0

آج تک دل چاہتا ہے کہ میرے پاس ایک جادوئی چادر ہو، جسے اوڑھوں تو میں غائب ہو جاؤں۔ غائب ہونے کے بعد کرنا کیا ہے، آف کورس اتنا سارا کچھ تو نہیں بتایا جا سکتا

جادوگر اپنی ٹوپی میں سے کبوتر نکالتا ہے تو بچے اسے کتنی حیرت اور دلچسپی سے دیکھتے ہیں، ہم کیوں نہیں دیکھتے؟

یاد ہے بچپن میں کتنے شوقین تھے ہم لوگ جادوئی کرتب دیکھنے کے؟

تاش کے پتوں سے ٹرِکس ہوتی تھیں، جادوگر کوٹ کی جیب یا منہ سے جو ایک کپڑا نکالتا، وہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا تھا اور اس طرح کی بے شمار بلکہ ان گنت چیزیں تھیں

اب کبھی میجک شو دیکھنا پڑ جائے تو نوٹ کیجیے گا کہ آپ باقاعدہ گھڑی دیکھتے رہتے ہیں کہ یار اس چکر سے جان کب چھوٹتی ہے۔۔ جو چیز بچپن میں اتنی پسند تھی کہ اس کے لیے ہم پیسے چرانے کا بھی سوچ سکتے تھے، وہ اب اتنی بور کیوں لگتی ہے؟

اب ہمیں علم ہے کہ یہ نظر کا دھوکا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے اس طرح کرسٹل کلئیر ہے، جیسے میں کہوں کہ آسمان کا رنگ نیلا ہے۔ آسمان کبھی آتشیں گلابی نہیں ہو سکتا اور جادوئی کرتب کبھی اصل نہیں ہو سکتے یہ بات ہمارے دماغوں میں رچ بس چکی ہے

کیا حرج ہے اگر ہم اتنی گنجائش نکال لیں کہ آسمان آتشیں گلابی ہو سکتا ہے۔ اسے یوں سمجھ لیں کہ جسے میں نیلا سمجھتا اور دیکھتا ہوں کیا پتہ کسی دوسرے کو وہ رنگ آتشیں گلابی لگتا ہو

ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اب آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ بندہ پاگل واگل ہے؟ حق ہے، ایسا ہی ہوگا۔۔ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ آسمان کے رنگ کا سوچتے ہوئے ایک چھوٹے سے امکان کی گنجائش لیں تو کیا حرج ہے؟

ہر چیز پہ سو فیصد جم جانا اصل میں بندے کی مت مار دیتا ہے۔ یقین کا تالا اتنا پکا ہوتا ہے کہ بعد میں اپنی چابی سے بھی نہیں کُھلتا۔ اسے زنگ سمجھ لیں، ہتھوڑے سے توڑا جا سکتا ہے لیکن بند ہو جائے تو بندہ سمجھیں، گیا!

ایک کام اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ جادوئی کرتب نہ دیکھیں بلکہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کسی بچے کو دیکھیں۔ اس کی آنکھیں دیکھیں، اس کے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھیں، شوق کی کیفیت دیکھیں، اسے تالیاں بجاتا دیکھیں، جب وہ پورا شو دیکھ لے تو اس سے پوچھیں کہ تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند آئی۔ اس کا جواب سنیں گے تو سمجھ آ جائے گی کہ کھلا ہوا تالا کیسا ہوتا ہے

بچے کے لیے کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ وہ بڑا ہوتا ہے تو اس پہ حیرانی کے یہ دروازے ہم خود ہی بند کر دیتے ہیں۔ ہم اسے پڑھاتے ہیں کہ دیکھو یہ بات بالکل پکی ہے، اس بات میں شک کی گنجائش نشتہ اور باقی اپنے بڑوں کو دیکھ کے وہ خود ہی سمجھ جاتا ہے۔ بے شک سارے اچھے بچے ایسے ہی ہوتے ہیں

کوئی بچہ اگر کہے کہ ’میں جادو کے زور سے آپ کو غائب کر دوں گا‘ تو آپ خوش ہوں گے، اسے پیار سے دیکھیں گے، اس کے ساتھ کھیلیں گے لیکن یہی بات کوئی بیس سال کا بندہ کرے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ کھسکا ہوا ہے

یہ والی جو ’سمجھ‘ ہے، یہ ہمیں دوسروں کا مذاق اڑانے پہ آمادہ کرتی ہے، ان کے کسی خیال کو ’بچگانہ‘ سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور ہم کسی بھی ایسی بات کو، جو ہمارے یقین پہ ٹھا کر کے وجتی ہو، اسے ایک دم رد کر دیتے ہیں

فوراً رجیکٹ کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ڈائیلاگ کا دروازہ بند کر دیا اور اگر بات کی تو بھی اگلے بندے کی اصلاح کا ٹھیکا لے لیا۔ اصلاح کیا ہے؟ وہ بات جسے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں

ہماری ٹھیک بات ہمیں کہاں سے ملی؟ میڈیا سے؟ کتابوں سے؟ اخبار سے؟ کسی دوسرے کے تجربے سے؟

زندگی میں کتنے حقائق ایسے ہیں، جو آپ نے خود طے کیے ہیں اور دوسرے انہیں فالو کرتے ہیں؟ کوئی تھیوری، جس پر آپ کا یقین پکے والا ہے اور اسے پیش بھی آپ نے کیا ہو؟ یقیناً ایک بھی نہیں۔ سوچ کا مکمل دائرہ طے شدہ آپ نے وصول کیا ہے!

غور کریں، موبائل کیمرہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ دو بندوں کی لڑائی سڑک پہ ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آپ کا دوست ہے۔ جس وقت وہ دوسروں کو پھینٹ رہا ہے تب آپ اس کی وڈیو نہیں بناتے لیکن جیسے ہی اسے کُٹ پڑنی شروع ہوتی ہے، آپ کیمرہ آن کر دیتے ہیں۔ گھر آ کے اس وڈیو کو آپ چلا دیتے ہیں، وہ وائرل ہو جاتی ہے۔ دنیا والے کس چیز کا یقین کریں گے؟ آنکھوں دیکھی کا؟ لیکن وہ کس کی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے؟ آپ کی آنکھ سے، آپ کے کیمرے سے، آپ کے اینگل سے، آپ کی ادھوری وڈیو سے۔۔۔ تو یہی معاملہ دنیا بھر کے سارے حقائق کا ہے

وہ چیز، جو ہم اپنے دماغ میں ایک بار ’طے‘ کر لیتے ہیں، اس سے الگ کچھ بھی سامنے آتا ہے تو انجوائے کرنا یا سوچنا دور کی بات، ہم باقاعدہ مخالفت کرنے اور لڑنے بھڑنے پہ تُل جاتے ہیں۔ یہ سب نہیں تو بار بار گھڑی دیکھتے ہیں کہ اس چکر سے جان کب چھوٹے گی، وہی میجک شو والا سین۔۔

میجک شو ہو یا کچھ بھی اور، تالا چونکہ لگ گیا تو بس اب مزے ختم۔ اب مخالفت ہوگی یا بوریت!

آسان ترین حل یہ ہے کہ جو بات بھی عقل سے ٹکراتی نظر آئے، اس میں کیمرے کا اینگل ڈھونڈیں۔ سوچیں کہ آخر یہ بات آئی تو کہاں سے آئی۔ جب مخالفت کی جگہ دماغ میں سوال ابھرنا شروع ہو جائیں گے تو شاید کچھ اور ہو نہ ہو لیکن میجک شو والے دو نمبر جادوگر پہ آپ کو پیار ضرور آنا شروع ہو جائے گا

پیار سے اگلا مرحلہ دلچسپی، تحقیق اور بالاخر حیرت کا ہوتا ہے!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

Hussnain JamalMagic Showmind Glow
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

موسمیاتی تبدیلی اڑتے جہازوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

Next

خدا ترسی بھی سائنس ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme