Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

عالمیاہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا ایران جنگ پر امریکہ اور اسرائیل ایک پیج پر ہیں؟

By Akhtar Rasool
مارچ 20, 2026 3 Min Read
0

گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے اہم سوالات کھڑے کر دیے

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک نئی بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا امریکہ اور اسرائیل واقعی اس جنگ میں مکمل طور پر ایک ہی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں یا نہیں۔ حالیہ واقعات، خصوصاً ایران کی اہم گیس تنصیب پر حملہ اور اس کے بعد امریکی صدر کے ردعمل نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

اسرائیل نے ایران کے جنوبی حصے میں واقع دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہونے والے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس تنصیب کا تعلق براہِ راست ایران کی توانائی پیداوار سے ہے۔

اس حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے میں ایک توانائی مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ امریکہ کو اس مخصوص حملے کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا۔ تاہم ان کے بیان کے انداز نے مبصرین کو حیران کر دیا، کیونکہ انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو غیر معمولی الفاظ میں بیان کیا۔

ٹرمپ نے ایک جانب ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دی، تو دوسری جانب اسرائیل کو اس گیس فیلڈ پر مزید حملوں سے گریز کرنے کا اشارہ بھی دیا۔ اس طرزِ بیان کو بعض ماہرین ایک طرح کی محتاط تنبیہ یا ناراضی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے سے قبل امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشاورت ہوئی تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو امریکی صدر کا لاعلمی کا دعویٰ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

  • امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بعض معاملات پر حقیقی اختلاف
  • سفارتی حکمتِ عملی کے تحت عوامی سطح پر فاصلہ ظاہر کرنا
  • یا مختلف بیانیوں کے ذریعے سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش

دونوں کے مقاصد میں فرق

اگرچہ امریکہ اور اسرائیل قریبی اتحادی ہیں، لیکن دونوں کے جنگی مقاصد میں کچھ فرق واضح نظر آتا ہے۔

امریکہ کی ترجیحات:

  • ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور کرنا
  • خلیجی سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا
  • جنگ کو وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا

اسرائیل کی ترجیحات:

  • ایران کے اندرونی نظام اور قیادت کو کمزور کرنا
  • حساس اداروں اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانا
  • ممکنہ طور پر ایران میں سیاسی تبدیلی کے حالات پیدا کرنا

گیس فیلڈ پر حملہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جنگ اب صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی کے وسائل بھی براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یہ تنازع نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ سیاسی میدان میں بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ امریکہ میں اس جنگ کے حوالے سے عوامی حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیل میں یہ صورتحال حکومتی پوزیشن کو وقتی طور پر مضبوط کر سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بنیادی طور پر اتحادی ضرور ہیں، لیکن ہر معاملے پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ بعض فیصلوں میں اختلاف یا کم از کم حکمتِ عملی کا فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان اسی پیچیدہ تعلق کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف اتحاد قائم ہے، تو دوسری طرف محتاط فاصلے کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
iran-war-usa-israel-sangat-mag
Previous

ایران جنگ کے اخراجات میں اضافہ، پینٹاگون کا وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز کا مطالبہ

Next

ایندھن مہنگا، مہنگائی میں تیزی کا خدشہ: شرح 12 فیصد سے بڑھ سکتی ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme