Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا بھارت منشیات اور شراب نوشی کے بحران کے دہانے پر ہے؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 30, 2022 4 Min Read
0

بھارت میں ایک قومی سطح کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شراب، بھنگ یا افیون کی لت میں مبتلا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ منشیات کے عادی چار میں سے تین کا علاج تک نہیں کیا جاتا ہے

بھارتی حکومت نے رواں ماہ کے وسط میں سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملک میں دس سے سترہ برس کی عمر کے ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ بچے نشے کے عادی ہیں۔ یہ ملک میں منشیات کے استعمال کی حد اور نمونوں کے بارے میں پہلے جامع سروے ہے۔ ‘نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر’ نے منشیات مادے کے استعمال کے عوارض سے متاثر ہونے والوں کی ایک بڑی آبادی کا پتہ کیا ہے

یہ سروے سن 2017ع اور 2018ع کے درمیان کیا گیا تھا اور اسے سن 2019ع میں عوام کے لیے جاری کیا گیا اور اسی ماہ سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ یہ سروے ملک کی تمام چھتیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں این جی اوز کے تعاون سے کیا گیا تھا

قومی سروے کے مطابق بھارت میں الکوحل لوگوں کے ذریعہ سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا مادہ ہے، اس کے بعد بھنگ اور افیون ہیں۔ جن ریاستوں میں بھنگ کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، ان میں اتر پردیش، پنجاب، سکّم اور چھتیس گڑھ شامل ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے ”تین کروڑ سے زائد افراد بھنگ کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور تقریباً ڈھائی کروڑ افراد بھنگ پر منحصر رہتے ہیں“ رپورٹ میں مزید کہا گیا ”22.6 ملین لوگ افیون استعمال کرتے ہیں اور تقریباً پونے ایک کروڑ افراد کو افیون استعمال کرنے کے مسائل کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے“

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افیون استعمال کرنے والے ملک کی آبادی کا تقریباً ً2.06 فیصد ہیں، اور یہ کہ 1.7 فیصد بچے اور نو عمر اور 0.58 فیصد بالغ افراد کش لگاتے یا پھر نشہ آور اشیا سونگھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی ادویات پر انحصار کرنے والے افراد میں سے چار میں سے تین کا علاج بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں منشیات کے استعمال کے اعداد و شمار حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہیں

ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ منشیات پر قابو پانے کے سخت قوانین اور ملک بھر میں منشیات کی سپلائی پر کنٹرول کے لیے کام کرنے والی ایجنسیوں کی ایک بڑی تعداد کے باوجود، اب بھی ممنوعہ نشہ آور مادوں کی وسیع تر اقسام کا استعمال کیا جا رہا ہے

وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ”نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نشہ آور مادوں کی مانگ میں روایتی، کم طاقت اثر والے، پودوں پر مبنی افیون جیسی مصنوعات سے زیادہ موثر اور ہیروئن جیسے پروسیسڈ مصنوعات میں اضافہ ہو رہا ہے“

بہت سی ریاستوں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے پالیسیوں کا فقدان ہے۔ حکومت کے زیر انتظام اسکول عام طور پر منشیات کے استعمال کے بارے میں حساس نہیں ہیں اور وہاں اس سے متعلق آگاہی کے پروگرام منعقد نہیں کیے جاتے ہیں

بچوں کے حقوق کی تنظیم ’بچپن بچاؤ آندولن‘ کے وکیل ایچ ایس پھولکا کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ قومی سروے کے نتائج سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اسی تنظیم نے بچوں میں منشیات کے استعمال کے خدشات پر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی

پھولکا کا کہنا ہے ”بڑی تعداد میں ایسے بچے ہیں، جو متاثر ہیں اور جن کا اس سروے میں شمار نہیں کیا گیا ہے… وہ نشے کے عادی ہیں۔ اسکولوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں منشیات کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے اور آخر کار وہ خود یہی مادہ بیچنے والے بن جاتے ہیں۔“

شمالی ریاست پنجاب میں منشیات کے استعمال کی تشویشناک سطح دیکھی جا رہی ہے۔ پچھلے چھ مہینوں میں صوبے کے ‘آؤٹ پیشنٹ اوپیئڈ اسسٹڈ ٹریٹمنٹ’ کلینکس میں مریضوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ سے بڑھ کر آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے

چنڈی گڑھ کے ایک کونسلر ہرپریت سنگھ نے بتایا ”یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ نشے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ منشیات کی آسانی سے دستیابی بھی ہے اور اس کا نتیجہ براہ راست معاشرے، محلوں اور خاندانوں پر پڑتا ہے“

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ افیون کا غلط استعمال کئی ریاستوں میں صحت عامہ کا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے

ریاست پنجاب میں کی گئی ایک الگ تحقیق کے مطابق صوبے کے 75 فیصد سے زیادہ نوجوان منشیات کے استعمال سے نبرد آزما ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جیل کے اندر کم از کم 30 فیصد قیدی وہ ہیں جنہیں منشیات سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے

تازہ ترین اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے، سماجی انصاف اور با اختیار بنانے کی وزارت نے کئی دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر منشیات کی طلب میں کمی کے لیے ایک قومی ایکشن پلان بھی تیار کیا ہے۔

Tags:

a and ea gallon of wine a dayalcohol addictionalcohol and anxietyalcoholiccag report on debt payment of indian statesdebt crisis of indian statesdrug abusedrug abuse interventiondrug addictdrug addictionDrugseditorial analysis of the hinduindia on israel palestine clashindia on israel palestine conflictindian states face economic crisisjackie’s drinking a gallon of wine a daythe battle with anxiety and alcohol addiction
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا دس سے پندرہ برس میں آئرلینڈ کا دوبارہ اتحاد ہو جائے گا؟

Next

بھارتی دوائیں موت بانٹنے لگیں۔۔ کھانسی کی بھارتی دوا سے ازبکستان میں بھی اٹھارہ بچے ہلاک

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme