Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کینسر کی جگہ پر براہِ راست دوا ڈالنے والی خردبینی روبوٹ مچھلی

By Akhtar Rasool
نومبر 20, 2021 1 Min Read
0

لندن : تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اب بھی کینسر کے حقیقی مقام تک دوا کی رسائی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے

یہی وجہ ہے کہ کیموتھراپی میں بھی دوا کی بڑی مقدار کینسر زدہ حصے تک نہیں پہنچ پاتی جس کے شدید منفی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں

اب اس چیلنج سے نمٹتے ہوئے سائنسدانوں نے خردبینی روبوٹ مچھلی اور کیکڑا بنایا ہے، جو عین کینسر والے مقام پر خوراک پہنچاتا ہے

تھری ڈی پرنٹر سے تیارشدہ جانور کی شکل والے روبوٹ مقناطیس سے جسم کے اندر دھکیلے جاتے ہیں اور انہیں باہر سے کنٹرول کرتے ہوئے کینسر سے متاثرہ حصے تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں وہ اپنی دوا انڈیل سکتے ہیں

مچھلی، تتلی اور کیکڑے جیسی شکل والے روبوٹ ہائیڈروجل سے بنائے گئے ہیں۔ جسم کے باہر سے مقناطیسی قوت پھیرتے ہوئے روبوٹ کو رسولیوں تک دھکیلا جاسکتا ہے۔ روبوٹ کو جیسے ہی کینسر کی رسولی کے اطراف تیزابی ماحول ملتا ہے، وہ دوا انڈیل دیتے ہیں

روبوٹ کو تیرانے کے لیے آئرن آکسائیڈ نینوذرات والا مائع درکار ہوتا ہے، کیونکہ اسی طرح بیرونی مقناطیسی میدان سے انہیں خاص سمت میں دھکیلا جاسکتا ہے۔ اب جوں ہی روبوٹ کینسر کے قریب جاتا ہے اسے پی ایچ میں تبدیلی محسوس ہوتی ہے اور وہ دوا خارج کرتا ہے

ماہرین نے روبوٹ کو تجربہ گاہ اور پیٹریائی ڈشوں میں آزمایا ہے اور اس کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سعودی عرب کے ستر سالہ شہری نے اسکول میں داخلہ لے لیا

Next

دو حیرت انگیز ایجادات: باتیں کرتے کپڑے اور سونگھنے والے ڈرونز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme