Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

گلیات کی جنگلی حیات کے مسیحا پولیس کانسٹیبل محمد عمران

By Akhtar Rasool
مارچ 12, 2022 4 Min Read
0

ایبٹ آباد – صوبہ خیبر پختونخواہ پولیس کے اہلکار محمد عمران عوامی خدمت کے ساتھ گذشتہ دو مہینوں سے گلیات میں موجود بندروں کے لیے روزمرہ کی بنیاد پر خوراک کا انتظام کرتے ہیں

سانحہ مری سے قبل جہاں گلیات اور مری کی سڑکوں پر ہزاروں سیاح گھومتے پھرتے نظر آتے تھے اور وہ بندروں کو خوراک فراہم کرتے تھے، اب سیاحوں کی آمد و رفت میں واضح کمی اور شدید برف باری کے باعث یہاں کے بندروں کو مناسب خوراک نہیں مل پا رہی، جس کے باعث انہیں کئی روز بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

بحران کی اس گھڑی میں محمد عمران روزانہ آ کر کچھ خوراک بندروں کو ڈالتے ہیں

عمران بطور ہیڈ کانسٹیبل ایبٹ آباد کی ایک پولیس چوکی چھانگلہ گلی میں تعینات ہیں جہاں اپنی کم تنخواہ اور محدود سہولتوں کے باوجود وہ نہ صرف اپنا فرض نبھا رہے ہیں، بلکہ گلیات میں موجود جانوروں کے لیے مسیحا بھی بن گئے

محمد عمران کا کہنا ہے ”7 اور 8 جنوری کی درمیانی شب کو جب گلیات اور مری میں برفانی طوفان آیا اور سیاح محصور ہو کر رہ گئے تھے، تو انہوں نے پولیس چوکی چھانگلہ گلی کی حدود میں پھنسے پچاس سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کرکے قریبی ہوٹل اور چوکی میں رہائش فراہم کی“

انہوں نے بتایا ”اس دوران جب وہ پولیس ملازمین اور سیاحوں کے لیے کھانے کا سامان لے کر آ رہے تھے تو برف میں پھنسے جانوروں نے، جن میں بندر اور کتے بھی شامل ہیں، ان سے سامان چھیننے کی کوشش کی

عمران کے مطابق ”یہ صورت حال دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ سخت سردی میں یہ جانور بھی بھوکے ہیں، جس کے بعد میں نے وہ کھانا انہیں ڈال دیا اور روزانہ اپنی بساط کے مطابق انہیں کھانا فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا“

عمران کہتے ہیں”میری زندگی میں یہ اہم موڑ تھا، جس نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا اور تب سے میں جب بھی روزانہ معمول کی گشت پر نکلتا ہوں تو بندروں کے لیے کھانا جمع کر لیتا ہوں ۔ جب کہ پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی بندر میرے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور جیسے ہی میں کھانا لے کر باہر نکلتا ہوں تو بندروں کے سارے طور طریقے غائب ہو جاتے ہیں اور وہ اچھل کود کرتے ہوئے ہاتھ سے کھانا چھین کر چٹ کر جاتے ہیں“

اگرچہ بندر اور گلیات کے باقی جانور اپنی خوراک غذائی زنجیر کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، مگر عام حالات میں سیاح علاقے میں سیر و تفریح کے دوران بندروں کو کھانے پینے کی اشیا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی عادتوں میں بھی کافی فرق پڑا ہے

اس حوالے سے مقامی صحافی نوید اکرم عباسی کہتے ہیں کہ اس دفعہ شدید ترین برف باری کے باعث جب گلیات کے سیاحتی مقامات پر ہُو کا عالم تھا، تو سیاحت سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ساتھ اس خطہ میں موجود جنگلی حیات اور خاص کر بندروں کی بہت بڑی تعداد، جو سیاحوں کے محتاج تھے، نے بڑی تعداد میں خوراک کی تلاش میں آبادیوں کا رخ کیا۔ جب کہ ڈونگا گلی، توحید آباد، کوزہ گلی اور چھانگلہ گلی میں رہ جانے والے بندروں کو روشنی کے سفید مینارے کی طرح کھڑے ایبٹ آباد پولیس کے اہلکار محمد عمران نے وہاں کے مقامی ہوٹل مالکان کے مدد سے خوراک پہنچا کر سب کے دل جیت لیے

عمران نے مزید بتایا کہ بندروں کو خوراک ڈالنا ان کا روزمرہ کا معمول ہے اور وہ باقاعدگی سے انہیں دکان سے خرید کر چھلیاں، گندم، املوک اور ڈبل روٹی وغیرہ ڈالتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ’حالانکہ جنگلوں میں جاندار غذائی زنجیر کے ذریعے اپنی خوراک کا بندوبست کرتے ہیں مگر طوفانی برف باری کے باعث یہاں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا، اس لیے انسانوں کی طرح جنگلی حیات بھی سخت خوراک کی قلت کا شکار رہی اس لیے میں انسانی خدمت کے طور پر یہ کام کررہا ہوں۔‘

پولیس چوکی چھانگلہ گلی کے انچارج سب انسپکٹر حامد شاہ کا کہنا تھا کہ انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے عمران کے اس عمل پر عوام اور افسران سب ہی نے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ان کا خیال ہے کہ عمران کی یہ کہانی سن کر دیگر افراد میں بھی یہ جذبہ بڑھے گا

کراچی سے آئی ایک سیاح شہنیلہ اویس بھی محمد عمران کو بندروں کو خوراک ڈالتے دیکھ کر داد دیے بغیر نہ رہ سکیں

شہنیلہ کا کہنا تھا ”ایک پولیس اہلکار مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود دو مہینوں سے یہاں کے جنگلی حیات کا جس طرح سے خیال رکھ رہا ہے، متاثر کن ہے

انہوں نے کہا ”یہ ہمارے لیے پیغام اور ترغیب ہے کہ ہم سب بھی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور اپنے ماحول کا ایسے خیال رکھیں“

Tags:

Wildlife Pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا وزیراعلیٰ بلوچستان دوبارہ تبدیل ہو رہے ہیں؟

Next

ہندو خاندان، جو سپریم کورٹ سے کیس جیتنے کے باوجود دہائیوں سے اپنی زمینوں کا قبضہ حاصل کرنے کا منتظر ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme