Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

گلیشیئر جھیلوں سے ستر لاکھ افراد خطرے میں

By Akhtar Rasool
اپریل 24, 2022 4 Min Read
0

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کے واقعات میں بہت حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور ان گلیشیئر جھیلوں کی وجہ سے پاکستان میں ستر لاکھ افراد خطرے کی زد میں ہیں

نیچر کلائمٹ چینج نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق گذشتہ تیس سالوں میں گلیشیئر جھیل کے واقعات میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے

گذشتہ ایک سو سال میں سمندر کی سطح میں جو اضافہ ہوا ہے، اس میں 35 فیصد حصہ گلیشیئرز کے پگھلنے کا ہے

 

گلیشیئر جھیلیں غیر مستحکم ہوتی ہیں اور اس سے جاری ہونے والے پانی کے ساتھ پتھر اور مٹی بھی آتی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ گذشتہ ایک صدی میں گلیشیئر جھیلوں کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، درجنوں گاؤں تباہ ہوئے، مکانات اور عمارتیں تباہ ہوئیں اور ساتھ ہی اہم تنصیبات کو بھی یا تو نقصان ہوا یا تباہ ہوئیں

حال ہی میں خیبر پختونخوا کے علاقے چترال میں گولن گول میں گلیشیئر جھیل کے پھٹنے سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا اور کئی افراد پھنس گئے۔ جام اشپر گلیشیئر ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور اسی کی جھیل اچانک پھٹ گئی۔ ایسا 2015ع کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے۔ 2015ع میں گلیشیئر جھیل کے واقعے میں تین افراد ہلاک اور پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے

قطبی علاقوں کو چھوڑ کر پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گلیشیئرز ہیں، جن کی تعداد سات ہزار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقیاتی پروگرام کے ایک اندازے کے مطابق ہندو کش ہمالیہ میں تین ہزار گلیشییر جھیلیں بنیں، جن میں سے تینتیس جھیلیں ایسی ہیں، جن سے شدید خطرہ لاحق ہے اور ان سے ستر لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں

جنوری 2020ع میں رائل میٹرولوجیکل سوسائٹی کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں درکٹ گلیشیئر جھیل میں گذشتہ دو دہائیوں میں 240 فیصد اضافہ ہوا ہے

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تین ہزار چوالیس گلیشیئر جھیلیں بن چکی ہیں، جن سے اکہتر لاکھ افراد کو خطرہ لاحق ہے

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صنعتی دور سے قبل سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر میں پہاڑی علاقے میں گرمی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی آئی ہے

ناسا کے سیٹیلائٹس سے لی گئی تصاویر پر مبنی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں گلیشیئر جھیلوں کے وولیم میں ڈیڑھ سو مکعب کلومیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 1994ع اور 2017ع کے درمیان دنیا کے گلیشیئر جھیلوں سے پینسٹھ کھرب ٹن پانی کا اخراج ہوا ہے۔ گذشتہ ایک سو سال میں سمندر کی سطح میں جو اضافہ ہوا ہے، اس میں 35 فیصد حصہ گلیشیئرز کے پگھلنے کا ہے

ایک دہائی قبل شاید گلشیئر جھیلوں کے حوالے سے معلومات پر تحقیق کرنا ناممکن تھا، لیکن اب یہ ممکن ہو چلا ہے اور اس سے حکومتوں اور سائنسدانوں کو مدد ملے گی کہ وہ ان لوگوں کی مدد کر سکیں جو گلیشیئر جھیلوں سے خطرے میں ہیں

ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ قراقرم گلیشیئرز کی گذشتہ چالیس سال کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑے ہوتے ہوئے گلیشیئرز کے گلیشیئر جھیل میں بدل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اگرچہ یہ جھیلیں تازہ پانی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، لیکن جب ان کا بند ٹوٹتا ہے تو بہت تباہی مچاتے ہیں

گذشتہ آدھی صدی میں اس علاقے میں گلیشیئر جھیلوں کے کئی واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ایک تازہ واقعے میں شسپر گلیشیئر کی وجہ سے پاکستان اور چین کو ملانے والی واحد سڑک قراقرم کو نقصان پہنچا اور یہ ہائی وے کئی روز تک بند رہی

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث گلیشییر جھیلوں میں تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر بروقت ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وقت ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان جھیلوں کے گرد ایسے انجینیئرنگ اسٹرکچر کھڑے کیے جائیں، جن سے ان سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے

موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ ان علاقوں میں جنگلات کی کمی بھی گلیشیئر جھیلوں سے ہونے والی تباہی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں کم از کم بیس لاکھ افراد ایندھن کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں اور وہ درخت کاٹتے ہیں، دوسری طرف ٹمبر مافیا بھی موجود ہے، جس کے باعث جنگلات میں کمی تیزی سے ہو رہی ہے۔

Tags:

Climate changeGlacierLakesPakistanPeople Effects
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عمران خان کی برطرفی میں امریکہ نے "اہم کردار” ادا کیا۔ سابق امریکی کانگریس ویمن

Next

نوجوان پاکستانی محقق نے مریخ کی مٹی کا نمونہ تیار کر لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme