Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجی

گوگل کو ٹکر دینے والے ’چیٹ جی پی ٹی‘ میں ایسا کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
جنوری 8, 2023 5 Min Read
0

اگرچہ انٹرنیٹ پر معلومات کھوجنے کے لیے متعدد ’سرچ انجن‘ موجود ہیں، لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے گوگل اس میدان میں اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے،
تاہم گذشتہ برس کے اواخر میں لانچ ہونے والے تہلکہ خیز چیٹ باٹ کی بے پناہ مقبولیت کے باعث اب بظاہر اسے بھی خطرہ درپیش ہے

مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے نومبر کے اواخر میں ’چیٹ جی پی ٹی‘ کے نام سے ایک چیٹ باٹ لانچ کیا گیا تھا، جسے ایک ہفتے کے اندر دس لاکھ سے زیادہ صارفین نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا

تاہم کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے صارفین کو ان کے سوالات کے متنازع جوابات بھی مل سکتے ہیں اور اس کا رویہ کچھ معاملات میں متعصبانہ بھی ہو سکتا ہے

لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر نوجوان طلبا اس وقت اے آئی چیٹ بوٹ سے سب سے زیادہ خوش ہیں، کیونکہ اب انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کا ’کام کرنا‘ مزید آسان ہو جائے گا۔ اسی بات کے پیشِ نظر امریکی ریاست نیویارک کی جانب سے اسکولوں میں ’چیٹ جی پی ٹی‘ پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ بچے صرف اسی پر انحصار کرتے ہوئے کام نہ کریں

کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے ”ہم صارفین سے فیڈ بیک حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اس نظام میں بہتری لائی جا سکے“

’چیٹ جی پی ٹی‘ دراصل کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر بنائے سافٹ ویئرز میں تازہ ترین اضافہ ہے، جسے کمپنی کی جانب سے جینرویٹو پری ٹرینڈ ٹرانسفورمر یا جی پی ٹی کہا جا رہا ہے

چیٹ جی پی ٹی سے اگر آپ کوئی بھی سوال پوچھیں تو یہ آپ کو اس حوالے سے ایک مفصل اور بہتر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے

چاہے آپ اس سے کوئی نظم لکھوائیں یا اپنے اسکول کی اسائنمنٹ میں رہنمائی حاصل کریں، یہ سافٹ ویئر آپ کو اکثر مایوس نہیں کرے گا

اس کے ایک پچھلے ورژن کو انسانوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایلون مسک کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ کے مطابق اس نظام کو ٹوئٹر کے ڈیٹا کے ذریعے بھی سیکھنے کا موقع دیا گیا تھا

خیال رہے کہ اوپن اے آئی کے بانی اراکین میں ٹیسلا اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک بھی شامل تھے، تاہم اب وہ اس کے بورڈ میں شامل نہیں۔ انہوں نے بعد میں لکھا کہ انہوں نے ’فی الحال‘ ڈیٹا کی رسائی روک دی ہے

اس سے حاصل ہونے والے نتائج نے اکثر افراد کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ اوپن اے آئی چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کی ایک ٹویٹ میں چیٹ جی پی ٹی کی خامیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس میں بہتری لانے کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل بھی کی جاتی ہے

اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ اس چیٹ فارمیٹ میں مصنوعی ذہانت کو ’سوالات پوچھنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے، غلط سوچ کو چیلنج کرنے اور غیر مناسب سوالات کو مسترد کرنے کی بھی آزادی ہوتی ہے‘

میشیبل نامی ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ سے منسلک صحافی مائیک پرل نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے متنازع باتیں اگلوانا مشکل ہے

مائیک پیرل نے لکھا ’اس کا دقیانوسی باتوں سے گریز کرنے کا نظام بہت مؤثر ہے‘

تاہم اوپن اے آئی نے خبردار کیا ہے کہ ’چیٹ جی پی ٹی کبھی کبھار بظاہر درست محسوس ہونے والے لیکن غلط اور متنازع جوابات لکھ دیتا ہے‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس ماڈل کو مزید محتاط ہونے کی ٹریننگ دیں تو پھر یہ ان سوالوں کے جواب دینے سے بھی گریز کرتا ہے، جن کے درست جوابات اسے معلوم ہوتے ہیں

جب اس بارے میں خود مصنوعی ذہانت کے حامل ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے پوچھا گیا، تو اس کا جواب تھا ”میں ایک محتاط انداز میں انٹرویو دینے والا سافٹ ویئر ہوں، جو اپنی بات کو انگریزی میں واضح اور درست انداز میں بتا سکتا ہے“

جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان لکھاریوں کی نوکریوں کو خطرہ ہے تو اس کا جواب نفی میں تھا۔ اس نے کہا ”میری طرح کے مصنوعی ذہانت کے نظام لکھاریوں کو لکھنے اور سوچنے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن یہ اس لکھاری پر ہے کہ وہ اس حوالے سے حتمی چیز کیا بناتا ہے“

جب اس سے پوچھا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام کے معاشرتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں تو اس نے جواب دیا ”اس حوالے سے اندازہ لگانا مشکل ہے“

چیٹ جی پی ٹی کی سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت کے بعد متعدد صارفین یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اس میں گوگل کا متبادل بننے کی صلاحیت ہے؟

دیگر صارفین نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اب صحافیوں کی نوکریوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ٹاؤ سینٹر فار ڈجیٹل جرنلزم کی ایملی بیل اس بارے میں پریشان ہیں کہ کہیں پڑھنے والے اس سے دھوکا نہ کھا بیٹھیں

ایڈا لوولیس انسٹیٹیوٹ کی کارلی کائنڈ کا کہنا ہے ”چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعدد معاشرتی اور اخلاقی خطرات کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے. اس سے متعلق ممکنہ مسائل میں جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے اور یہ موجودہ نظام میں مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے“

مثال کے طور پر چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے ایسا مضمون یا نوکری کے لیے درخواست لکھ سکتے ہیں، جو اتنی اچھی ہو کہ آپ کو دوسروں کے مقابلے میں فوقیت مل جائے

اسی طرح کاپی رائٹس اور پرائیویسی سے متعقل خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں کیونکہ یہ نظام عام طور پرانٹرنیٹ صارفین سے غیر اخلاقی طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں

تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے دلچسپ اور تاحال نامعلوم فوائد بھی ہو سکتے ہیں

اس حوالے سے پاکستانی صارفین کی جانب سے بھی چیٹ باٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے

معاشی امور کے ماہر عزیر یونس نے چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے پاکستانی معیشت پر کہی گئی نظم کا حوالہ دیا

اسی طرح کچھ صارفین چیٹ جی پی ٹی سے یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کیا ہے

شہریار عامر نامی صارف نے لکھا کہ چیٹ جی پی ٹی کے پاس پاکستانی معیشت کو ٹھیک کرنے کے ہمارے وزرا سے بہتر حل موجود ہیں

ایک صارف نے یہ بھی گلا کیا کہ یہ ایپ تو اچھی ہے لیکن اسے فی الحال پاکستانی سیاست کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں

شہربانو خان نے لکھا کہ چیٹ جی پی ٹی پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی بالآخر سوچ رہے ہیں۔

Tags:

chat gpt googlechat gpt in hindichat gpt vs googlechat is chatgptchatgpt vs googlegoogle stock analysisis chatgpt a threat to googleis chatgpt better than google?is google stock a buyis google stock a buy nowis google stock a good investmentis google undervaluedwhat is chat gbtwhat is chat gptwhat is chat gpt open aiwhat is chatbotwhat is chatgptwhat is chatgpt and how does it workwhat is chatgpt and how you can use it
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کسی ملک کے دیوالیہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

Next

کیا ہم سبزیوں کے نام پر اپنے جسم میں پلاسٹک انڈیل رہے ہیں؟ تشویشناک سائنسی حقائق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme