Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

گھر میں کام کرنے والی خاتون نے بیٹے کو اغوا کرلیا تھا، اداکار قیصر نظامانی کا انکشاف

By Akhtar Rasool
جون 2, 2023 5 Min Read
0

سندھی اور اردو ڈراموں کے سینئر اداکار قیصر خان نظامانی نے کہا ہے کہ میرے بیٹے کو گھر میں کام کرنے والی ماسی نے اغوا کر لیا تھا، اس لیے اب ہم گھر میں مدد کے لیے کسی کو نہیں رکھتے

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے قیصر نظامانی نے بتایا ”ہم نے کئی دہائیوں سے گھر میں کوئی ملازم نہیں رکھا، ہمارے گھر میں کوئی ماسی نہیں ہے بلکہ میں، فضیلہ اور دیگر لوگ گھر کے سارے کام تقریباً خود کرتے ہیں“

انہوں نے گھر میں ماسی نہ رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا ”جب ہم کمرشل ایریا کے اپارٹمنٹ میں رہتے تھے تو گھر میں ایک خاتون کام کرنے آتی تھیں، وہ چھوٹے والے بیٹے زورین کو اُس وقت اغوا کر کے لے گئیں تھیں، جب وہ آٹھ ماہ کا تھا“

قیصر نظامانی نے بتایا کہ زورین بہت پیارا سا تھا، اُس کا رنگ صاف اور آنکھیں نیلی بالکل ماں کے جیسی تھیں

انہوں نے بتایا ”ایک روز پڑوسیوں نے بتایا کہ آپ کا بچہ سیڑھیوں کے پاس پڑا ہے، کیا آپ اُسے وہاں چھوڑ کر آئے ہیں؟ ہم یہ سن کر بھاگے تو وہ سیڑھیوں پر پڑا ہوا تھا، جب واقعے کا معلوم کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ماسی بچے کو لے کر جا رہی تھی، جس سے گھر کے باہر موجود دکانداروں نے پوچھا کیونکہ وہ زورین کے بارے میں جانتے تھے“

قیصر نظامانی نے کہا کہ جب خاتون سے سوالات ہوئے تو وہ ڈر کے مارے بچے کو سیڑھیوں پر ہی چھوڑ کر چلی گئی، اس واقعے کے بعد سے ہم نے گھر میں کبھی کسی ملازم کو رکھنے کا کوئی خطرہ مول نہیں لیا

انہوں نے کہا ”میں نے فضیلہ کو کہا تھا کہ اگر یہ چلا جاتا تو تم ہر سگنل پر اسے تلاش کرتیں“

اداکار نے انٹرویو کے دوران والدین سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ مہربانی کر کے اپنے گھروں میں خود کام کریں یا پھر ایسے افراد کو گھر میں ملازم رکھیں جن کے باپ دادا کو آپ جانتے ہوں۔ ہر کوئی برا نہیں ہوتا مگر احتیاط کریں

پروگرام میں قیصر نظامانی نے بتایا کہ ان کے والد انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، جب کہ ان کے خاندان میں کوئی بھی شخص شوبز سے تعلق نہیں رکھتا اور وہ ماضی کے مقبول اداکار شفیع محمد شاہ کے توسط سے اداکاری میں آئے

انہوں نے بتایا کہ شفیع محمد شاہ کی گاڑی کو دھکا دینے کے بعد انہوں نے انہیں ٹی وی پر آنے کی دعوت دی اور پھر وہ ہدایت کار محمد بخش سمیجو سے ملے، جنہوں نے انہیں اداکاری کا موقع دیا اور وہ بیک وقت اردو اور سندھی ڈراموں میں کام کرتے رہے

ایک سوال کے جواب میں قیصر نظامانی نے بتایا کہ ہدایت کارہ سائرہ پاشا (ندا یاسر کی والدہ) نے انہیں پہلے اردو ڈرامے ’تپش‘ میں کاسٹ کرنے کے لیے ان کے 15 آڈیشن لیے اور انہیں اچھا آڈیشن دینے میں شفیع محمد شاہ نے مدد کی

پروگرام میں اہلیہ فضیلہ قاضی سے محبت اور شادی کے سوال پر بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ اہلیہ سے ان کی پہلی ملاقات ’آرزو‘ نامی ڈرامے کی شوٹنگ پر ہوئی تھی

قیصر نظامانی کے مطابق فضیلہ قاضی ان سے قبل اداکاری میں آئی تھیں اور وہ سخت مزاج ہوتی تھیں اور انہوں نے ان کے ساتھ ایک فوٹوشوٹ بھی کروانے سے انکار کر دیا تھا

انہوں نے بتایا کہ انہیں فضیلہ قاضی پہلی ہی نظر میں پسند آ گئی تھیں اور انہوں نے انہیں شادی کی پیشکش کردی لیکن ابتدائی طور پر دونوں کے اہل خانہ راضی نہیں ہو رہے تھے

اداکار نے بتایا کہ فضیلہ قاضی کا تعلق حیدرآباد کے اہم سیاسی گھرانے سے تھا، جبکہ ان کی والدہ بھی اسی علاقے کے سیاسی خاندان تالپور سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں خاندان سیاسی حوالے سے ایک دوسرے کے مخالف تھے، اس لیے ان کی شادی کے لیے کوئی رضامند نہیں ہو رہا تھا

قیصر نظامانی کے مطابق بعد ازاں ان کے والد نے ان کی شادی کے معاملے میں مداخلت کر کے ان کا رشتہ کروایا اور یہ کہ ان کی اور فضیلہ قاضی کی شادی بہت مشکلوں سے ہوئی

انہوں نے بتایا کہ شادی سے قبل ہی وہ اداکاری کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے اور ایک بار کسی خاتون نے کراچی ایئرپورٹ سے گھر فون کیا اور کہا کہ وہ دوسرے شہر سے قیصر کے لیے ہی آئی ہیں اور وہ ایئرپورٹ پر آ کر انہیں لے جائیں

اسی طرح انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ شادی کے بعد بھی خاتون مداح ان کے گھر پہنچ گئی تھیں اور ان کی اہلیہ کے سامنے ہی ان سے اظہار محبت کرنا شروع کر دیا، جس پر ان سمیت فضیلہ قاضی بھی پریشان ہو گئیں

قیصر خان نظامانی ایک تجربہ کار پاکستانی ٹی وی اداکار ہیں، جو ایک اور مشہور ٹیلی ویژن اداکارہ فضیلہ قاضی کے شوہر بھی ہیں

لوگ انہیں ایک بے باک نوجوان ہیرو کے طور پر یاد کرتے ہیں جو نوے کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی ویژن اسٹار بن گئے تھے

9 اگست 1965 کو پیدا ہونے والے قیصر کو ٹیلی ویژن میں آنے کی ترغیب مرحوم شفیع محمد شاہ نے دی، جس کے بعد انہوں نے ایک سندھی ڈرامے میں کام کیا۔ جس کے بعد ساحرہ کاظمی کے ہدایت کاری میں 1994 میں پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامے ’تپش‘ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا

اگرچہ اپنے سندھی پس منظر کی وجہ سے انہیں شوبز حلقے میں ابتدائی طور پر کچھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن قیصر نے جلد ہی سنجیدہ صلاحیتوں کے ساتھ ٹیلی ویژن اداکار کے طور پر اپنی جگہ بنا لی۔ ان کی دوسری قابل ذکر کارکردگی ایک سندھی جاگیردار کے طور پر اردو ڈرامہ سیریل ’ہوائیں‘ میں سامنے آئی، جس کی ہدایت کاری حیدر امام رضوی نے دی تھی اور فرزانہ ندیم سید نے لکھی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشہور ڈرامہ سیریل ’کسک‘ اور ‘ماروی’ میں بھی کام کیا

انہوں نے اپنی اہلیہ فضیلہ قاضی سے آرزو کے سیٹ پر ملاقات کی اور بعد میں ڈرامے کی ہدایت کاری بھی کی۔ دلچسپ سمت تلاش کرتے ہوئے، اس کے بعد انہوں نے متعدد ٹیلی ویژن ڈراموں کی ہدایت کاری کی۔ حالیہ دنوں میں، اے آر وائی ڈجیٹل پر ’تمہیں یاد ہو کی نہ یاد ہو‘ کے نام سے نشر ہونے والی ٹیلی فلم میں انہوں نے ہدایت کاری کی مہارت دکھائی

سلطانہ صدیقی کی ہدایت کاری میں بننے والی نجی پروڈکشن ’یہ زندگی‘ میں انہوں نے جو کردار ادا کیا، اسے بھی کافی پذیرائی ملی حالانکہ قیصر نے ڈرامے میں معاون کردار ادا کیا تھا

نجی چینلز کے متعارف ہونے کے بعد انہیں انڈس ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامے ‘احساس’ میں کاسٹ کیا گیا۔ ان کی دیگر قابل ذکر پرفارمنس میں ‘بری عورت’ اور ‘مکان’ شامل ہیں۔ 2010 میں، انہوں نے نجی ٹی وی کے ڈرامے ‘زینت بنت سکینہ حاضر ہو’ میں اداکاری کی جس میں سندھ جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے خواتین کو درپیش مسائل پیش کیا گیا

قیصر نظامانی کی اہلیہ فضیلہ قاضی کا شمار 1990 کی مقبول ترین اداکاراؤں میں ہوتا ہے، انہوں نے بھی سندھی زبان کے ڈراموں سے اداکاری کا آغاز کیا تھا، جس کے فوری بعد انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اردو ڈراموں میں اداکاری شروع کی

حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والی فضیلہ قاضی کی جوڑی اداکار قیصر نظامانی کے ساتھ سراہی گئی اور دونوں نے متعدد ڈراموں میں ایک ساتھ کام کرنے کے بعد جلد ہی شادی کر لی تھی اور آج وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

Tags:

best pakistani dramasdania shah mother interviewfamous masala tv chef shireen anwarfamous pakistani chef shireen anwar tragedyiffat omar emotional interview numan ejazmere ban jao pakistani dramashireen anwar cookingshireen anwar cooking showshireen anwar masala morningsunita marshall and hassan ahmedsunita marshall and hassan ahmed interviewsunita marshall in good morning pakistansunita marshall interviewsunita marshall interview about husband
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بےموسم کی بارشیں اور ژالہ باری۔۔ ’نہ آم پکے گا، نہ مٹھاس آئے گی‘

Next

خطرے کی گھنٹی: ہر چوتھا بالغ پاکستانی ذیابیطس کا شکار!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme