Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

گھر کی دیوار پر سبزیاں اگائیں اور گھر میں ہی موبائل فون مائکرو چپ سے میڈیکل ٹیسٹ کریں

By Akhtar Rasool
مئی 5, 2022 3 Min Read
0

اب دیوار پر لگے نظام سے تازہ سبزیاں کمرے میں اگائیں

ایک ایسا آلہ، جو گھر کے کسی بھی کمرے میں پینٹنگ کی طرح ٹانگا جاسکتا ہے، اور جو صرف پانی کی بدولت ہرے پتوں والی تازہ سبزیاں کسی کیمیائی اجزا کے بغیر کاشت کرسکتا ہے، ہے نا حیرت انگیز بات!

اسے بنانے والی کمپنی نے ’ہائیڈروآرٹ پوڈ‘ کا نام دیا ہے، جو ایک جانب تو کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے تو دوسری جانب مضر کیمیائی اجزا سے پاک روزانہ کی سبزیاں اگاتا ہے

اسے ایک خاتون ڈیزائنر نے تین سال کی محنت اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد بنایا ہے

ان کا دعویٰ ہے کہ اب سبزیاں اگانا کافی یا چائے بنانے سے بھی زیادہ آسان ہے

عموماً گھروں میں جگہ نہیں ہوتی اور اسی بنا پر پورا ہائیڈروآرٹ پوڈ کا پورا نظام تشکیل دیا گیا ہے، جسے کم جگہ پر سبزیوں کا باغیچہ قرار دیا گیا ہے۔ اپنی بہترین صلاحیت کی بنا پر یہ سارا سال تازہ سبزیاں کاشت کرتا رہتا ہے

یعنی آپ کے گھرکی دیوار سبزی کا ٹھیلا بن سکتی ہے اور بچے اور بڑے اپنی پسند کی سبزی توڑ کر اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس میں چھوٹے ٹماٹر، مرچیں، اسٹرابری، دھنیا، کھیرا، پودینہ، پالک، چولائی، کڑھی پتے اور باورچی خانے کے لیے ضروری دیگر سبزیاں آسانی سے اگائی جاسکتی ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ افزائش کا پورا نظام ہرقسم کے کیمیکل سے پاک ہے۔ ایک مرتبہ کی سرمایہ کاری سے پورے سال سبزیوں کا خرچ بچایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ فریج کے لیے 500 واٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہائیڈروآرٹ پوڈ صرف 120 واٹ بجلی صرف کرتا ہے

اس کی پشت پر 10 لیٹر پانی کی ٹنکی لگی ہے، جو ہر دو گھنٹے بعد خودکار انداز میں چند منٹوں کے لیے پانی فصلوں تک پہنچاتی ہے

ہائیڈروآرٹ پوڈ پر ہر سبزی کے لیے ایک چھوٹا خانہ بنایا گیا ہے، جس میں پہلے بیج ڈالا جاتا ہے، پھر پودوں کو غذائیت دینے والے اجزا انڈیلے جاتے ہیں اور اس کے بعد ہائیڈروآرٹ پوڈ کا سوئچ آن کردیا جاتا ہے

اس طرح آپ روزانہ اپنی سبزیوں کی تیزرفتار نشوونما دیکھ سکتے ہیں۔ ان سبزیوں میں لوبیا، اور سلاد سمیت پتوں والی کئی سبزیاں قابلِ ذکر ہیں۔ نظام کے اطراف پر لگی روشنیاں سبزیوں کی افزائش کو تیزتر کر دیتی ہیں

اسمارٹ فون کی مدد سے امراض بتانے والی انقلابی مائیکروچپ

مِنی سوٹا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نئی مائیکروچپ بنائی ہے، جو عام اسمارٹ فون کے ساتھ کام کرتے ہوئے کئی امراض کی شناخت کرسکتی ہے۔ چپ کا ڈیٹا وائرلیس کی بدولت اسمارٹ فون تک پہنچتا ہے

توقع ہے کہ اس سے گھر یا کسی بھی جگہ عام افراد بھی مرض کی تشخیص کرسکتے ہیں

ہفت روزہ تحقیقی جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق اس کے تفصیلات عام کردی گئی ہیں اور اوپن سورس کے تحت ہر کوئی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے

اسے بھی روایتی طور پر ’چپ پر شناختی تجربہ‘ گاہ قرار دیا گیا ہے اور اس کے لیے انسانی رطوبت مثلاً خون یا پیشاب کی معمولی مقدار درکار ہوگی ہے

اگرچہ اس نظام کے لیے خانے، برقی سرکٹ اور پمپ وغیرہ درکار ہوتے ہیں لیکن ماہرین نے مائیکروفیبریکیشن سے پورا نظام مختصر ترین بنایا ہے

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سینگ ہیون اوہ کے مطابق مائع کو چپ پر رکھنا اور پرکھنا ہی سب سے اہم کام تھا، جسے کامیابی اسے انجام دیا گیا ہے۔ اب چپ پر سرکٹ، مائع خانے اور پمپ سب کچھ موجود ہے

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد 2010 میں رکھی گئی تھے، جس کا پھل اب بارہ سال بعد ملا ہے

دو مربع سینٹی میٹرچوڑی اس چپ پر برقی پٹیاں (الیکٹروڈ) بہت قریب لگائی گئی ہیں اور درمیانی فاصلہ صرف دس نینو میٹر ہے۔ اس لیے درمیان کا برقی میدان (الیکٹرک فیلڈ) بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ پوری چپ کو صرف ایک وولٹ پر چلانا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔ اسی بنا نیئر فیلڈ کمیونکیشن پیدا ہوتا ہے اور یوں کانٹیکٹ لینس پیمنٹ کی طرح اسمارٹ فون سے رابطہ ممکن ہوتا ہے

ڈاکٹر سینگ کے نے گرپ مالیکیولر کمپنی کے تعاون سے چپ بنائی ہے۔ اپنی چھوٹی جسامت کے باوجود یہ خون، تھوک یا پیشاب سے وائرس، بیکٹیریا، جراثیم اور کئی طرح کے بایومارکرز کی شناخت کرسکتی ہے۔ اس طرح گھر بیٹھے امراض کی شناخت میں ایک انقلاب آجائے گا اور یوں دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو فائدہ ہوگا.

Tags:

Smart IrrigationVertical IrrigationWall Irrigation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امریکی جیل سے فرار قیدی اور گارڈ کے درمیان معاشقے کا انکشاف

Next

دریائے نیل کے کنارے آباد اہرام سے بھی قدیم تہذیب کو جاننے کے لیے کھلنے والی کھڑکی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme