Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ہاں جی نگل لیں آنکھوں دیکھی مکھی

By Akhtar Rasool
فروری 28, 2022 3 Min Read
0

بعض لوگ جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسے آتے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ آپ سب جانتے ہیں، پھر بھی آپ کو دھوکہ دیتے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ انہیں علم ہوتا ہے کہ وہ آپ کو پیارے ہیں، تو انہیں معاف کر دیں۔

شک کا فائدہ لیں اور دل کی عدالت سے ملزم کو بری کر دیں۔

زندگی میں جہاں ہر قدم پہ ان جانے میں دھوکے کھانے ہیں تو جانتے بوجھتے ہوئے کسی پیارے کی خاطر دھوکا کیوں نہیں کھایا جا سکتا؟

پیارا چوڑا ہو جائے گا، دلیر ہو گا؟

نئیں ہو گا، وہ ڈرا رہے گا، وہ دبا رہے گا، اسے پتہ ہو گا کہ میں اگلے کی برداشت کا امتحان لے رہا ہوں، وہ ظرف کی آنچ پر تپ کے واپس آ جائے گا لیکن ملزم کو آپ نے اگر مجرم بنا دیا تو بس وہ گیا۔

کیا ملے گا معاف نہ کرکے؟ دل کا سکون؟ انا کی بڑائی؟ انتقام کی آگ ٹھنڈی ہو جائے گی؟ یہ سب ہو گیا اس کے بعد کیا ہوگا؟ لامحدود اداسی، اندھیرے، چمکتی دھوپوں میں گھومتی راتیں، ان گنت سوچیں؟ ایسا نہ کرتے تو شاید ویسا ہو جاتا، ویسا نہ ہوتا تو کیسا اچھا ہوتا؟

اتنا وقت ہے کہ یہ سارے لانجھے پالیں؟ اور کس کے لیے؟ اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے؟ دس منٹ کی ٹھنڈک؟ جو بعد میں دھوئیں نکلنے ہیں، تندور جلنا ہے وہ کدھر جائے گا؟

آپ ہارتے نہیں ہیں شک کا فائدہ دینے سے، آپ بس اپنی لائف لائن کو بڑھا دیتے ہیں۔ زندگی نارمل رکھتے ہیں اور کام چلتا رہتا ہے۔

دیکھیں فرض کیا ایک دوست نے آپ کے پرس سے ہزار روپے چرا لیے یا اس سے بہت زیادہ قیمتی کوئی چیز پار کرلی، آپ کے سامنے ہوا سب کچھ لیکن وہی دوست آپ کے دکھ درد میں واحد آسرا بھی تھا، اب کیا کریں گے؟

اس کان سے زیادہ قیمتی کیا ہے جو چوبیس گھنٹے آپ کا برا بھلا سن سکتا ہے؟ کیا خبر اگلے بیس سال آپ وہ ایک کان ڈھونڈتے رہیں۔ چرایا گیا کچھ بھی واپس آ سکتا ہے یار لیکن جسے دھتکارا گیا اسے کون واپس لائے گا؟

آپ؟ آپ کی تو انا اتنی ڈھیر ساری بڑی ہے، آپ کیسے لائیں گے واپس؟ آپ سے تو کسی چیز میں دھوکہ دہی برداشت نہیں ہوتی، آپ کو تو بندہ جینوئن چاہیے، خالص چاہیے، نہیں؟ ہاسیاں چے گوائے یار ہوکیاں چے نئیں لبھنے، ابرار صاب وی کہہ گئے نیں!

تو عرض کیا کہ شک کا فائدہ دیں، ثبوت ہوتے ہوئے بھی دیں، لیکن نہیں، آپ کے تو اصول ہی نئیں ٹھنڈے ہوتے!

دیکھیں، زندگی کے صفحے کتابوں جیسے نہیں ہوتے۔ کہیں روشنائی کالی ہوتی ہے، کہیں سبز، کہیں سرخ، کہیں نیلی، اکثر سرمئی اور بعض اوقات ایک دم سفید!

آپ کا فائدہ صرف یہ ہو گا کہ آپ نئی جدوجہد سے بچ جائیں گے۔ اگلا کیریکٹر اس سے بڑا چور آ گیا فلم میں تو کیا ہو گا؟ برسوں پرانا دوست چوری کرے گا بھی تو کچھ مال چھوڑ دے گا، نیا تو کاٹ کے پھینکے گا وہ دوووور!

وضع داری، اعتبار، کیمسٹری، پیار، محبت، یہ سب چیزیں برسوں میں بنتی ہیں اور آپ کا خالص پن، کھرے کھوٹے کی جانچ، اصول یا کوئی وقتی جذبہ ایک دم اس سب کچھ کا جھٹکا کرا دیتا ہے۔

آپ میں سے کئی لوگ عین اس وقت ایسے ہی کسی فیز میں ہوں گے، سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ جھوٹے کو جھوٹ بولنے دیا جائے اور آنکھوں دیکھی مکھی نگل لیں؟

ایہڈے تسی چیف جسٹس! نگل لیں بھائی نگل لیں، بعد میں ہاتھی نگلنے پڑیں گے۔

’نہیں میں بہت سٹرانگ ہوں، مجھے کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ اب یہ بات چل رئی ہو گی؟

دیکھیں سٹرانگ ہونا ایک درخت جیسا ہوتا ہے۔ جن جڑوں پر درخت کی زندگی کا انحصار ہے وہ کٹ جائیں گی تو سوکھنے سے بھی پہلے درخت گر جائے گا۔ ہزار میں سے ایک آدھا ایسا درخت بھی ہوتا ہے جو برسات میں گرتا ہے، وہ گر کے بھی جڑیں نکال جاتا ہے لیکن کیا ویسے تیر جیسا سیدھا کھڑا ہو سکے گا دوبارہ؟

انسان بڑی نازک چیز ہے۔ اپنے ہی بھلے کو اپنا نقصان کرتا ہے اور پھر نقصان میں فائدے ڈھونڈتا ہے۔ یہ ساری جدوجہد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تھوڑی سی برداشت، تھوڑا سا مٹی پاؤ پروگرام اور یہ، چٹکی برابر درگزر سے کام لیں تو بڑی ٹینشنوں سے بچ جائیں گے۔ ایک کمپرومائز ڈھیروں رپھڑوں سے محفوظ رکھ لے گا۔

باقی یہ شاعر بڑا ظالم تھا، کہتا ہے؎

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن،
بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی…

بشکریہ: انڈپینڈنٹ (عرب میڈیا)

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بے سود نہيں روس کی يہ گرمیِ رفتار

Next

سرکاری کوارٹر میں رہنے والے سابق جاسوس ولادیمیر پوتن روس کے صدر کیسے بنے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme