Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

یا ﷲ یا رسول، بائیس کروڑ بے قصور

By Akhtar Rasool
نومبر 21, 2021 4 Min Read
0

لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں عدل کے سہولت کاروں (وکلا) اور عدل بانٹنے والوں کے مابین اگلے روز جس نوعیت کا مچاٹا ہوا وہ ایک صحت مند رجحان کا غماز ہے۔

ایسی ہی مباحثانہ آزادی ہم سب کو بھی درکار ہے تاکہ دلوں کا غبار ہلکا ہو اور پھر یہ دل ماضی اور حال کی نوحہ گری سے نکل کر مستقبل کا کوئی بامعنی رجز تخلیق کرنے کا سوچ سکے۔

اس کانفرنس نے یہ کلیشے بھی توڑ دیا کہ جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ اب جج بولتے ہیں اور فیصلے ججوں کو تولتے ہیں۔

مان لیا کہ عدلیہ کسی کے دباؤ میں نہیں اور اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔۔۔

تو پھر پاکستان میں نظریہ ضرورت متعارف کرانے والے جسٹس منیر، بھٹو کی متنازع سزائے موت پر آخری مہر ثبت کرنے والے جسٹس انوار الحق اینڈ برادر ججز، پی سی او کے تحت خوشی خوشی حلف اٹھانے اور نہ اٹھانے والے ضدی ججوں اور ریکوڈک اور سٹیل ملز سے متعلق قومی خزانے کو ارب ہا روپے کا دھچکا پہنچانے والے فیصلوں اور پھر ڈیم فنڈ جیسی سکیموں کے خالقوں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی آتشیں آزمائش کے بارے میں رائے عامہ الگ الگ انداز میں کیوں سوچتی ہے؟

کراچی تا خیبر اور لاہور تا کوئٹہ یہ کورس کیوں نہیں گونجتا کہ ’اس پرچم کے سائے تلے جج ایک ہیں، سب ایک ہیں۔‘

مان لیا فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ یہ سیاستداں ہیں جو فوج کو دلدل میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق، پرویز مشرف کو کس کس سیاستدان نے اس جوہڑ میں دھکا دیا؟

اور یہ جو غدار ہوتے ہیں یہ صرف عام شہری، سوچنے اور لکھنے والے اور سیاستدان ہی کیوں ہوتے ہیں۔ ’خاکی اور خاک نشین‘ کیوں نہیں ہوتے؟

آج تو بظاہر مارشل لا بھی نہیں۔ تب بھی حکومت دشمن پی ڈی ایم سے لے کر اشرف کڑاہی والے تک سب ایک ہی انترے پر کیوں کھڑے ہیں؟ ’قصور خان دا نئیں خان نو لیان والیاں دا ہے‘ یہ ’لیان والے‘ کون ہیں؟

مان لیا سب سیاستدان خراب نہیں تو جو خراب نہیں وہ قطار سے باہر نکل کر کیوں نہیں ثابت کرتے کہ ہم ان میں سے نہیں جو اینٹوں پر رکھی کرسی کی خاطر کوئی بھی قیمت دینے پر آمادہ ہوں۔ ہم ان میں سے نہیں جنھیں ریاست کے اندر ریاست کا کردار نبھانے والوں کے ہاتھوں سیاسی عمل ہائی جیک ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

ہم ان میں سے نہیں جنھیں اقتدار کے ٹکڑے ڈالنے والوں سے سوائے اس کے کوئی شکوہ نہیں کہ جب ہم جنابِ والا کی چاکری فدویانہ جذبے سے کر رہے تھے تو اس عمر میں تنہا چھوڑنے اور ایک اور عقد رچانے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمیں کم از کم حرم سے باہر تو نہ کرتے۔

کل کی سیاسی کلاس میں کوئی نہ کوئی رول ماڈل مل ہی جاتا تھا۔ آج سیاست اس کے سوا کیا ہے کہ ’حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا۔‘

ایسا ملک اور سماج جہاں یہی ٹپائی نہ دے کہ خارجہ، داخلہ اور خزانے کے فیصلے کون کر رہا ہے، ان پر عمل کون کروا رہا ہے، ان کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے اور فیصلوں کے نتائج الٹنے کی صورت میں گریبان کس کا پکڑنا ہے اور گریبان پکڑ کے پھر کرنا کیا ہے؟

اچھائی کے بارے میں تو سنا تھا کہ ایک ہاتھ سے کرو تو دوسرے کو خبر نہ ہو مگر ہم نے تو اس مقولے کو حساس فیصلہ سازی پر بھی لاگو کر لیا۔

اس ماحول میں یہ بوجھنا بھی آسان نہیں رہا کہ پارلیمنٹ واحد فیصلہ ساز ادارہ ہے یا پارلیمنٹ محض ایک بلڈنگ ہے جہاں منتخب اور چنتخب علاقہ معززین کو طلب کر کے فیصلے سنائے جاتے ہیں یا پھر حقیقی پارلیمنٹ کسی بھی گروہ کے ان پانچ ہزار ڈنڈہ برداروں کا نام ہے جو اپنے تئیں قانون بھی ہیں اور قانون ساز بھی۔

یہ کیسی ریاست ہے جو طاقت کے استعمال کا جائز حق دار ہونے کی بھی آئینی دعویدار ہے اور طاقت کی نجکاری پر بھی کوئی حقیقی تشویش نہیں۔

اٹھارویں صدی کی دلی میں بادشاہ لال قلعے میں رہتا تھا اور باقی دلی پر کبھی میواتی حملہ آور ہوتے تھے، کبھی جاٹ گھس آتے، کبھی مرہٹے نمودار ہو جاتے تو کبھی سید برادران ایک کو اتار کر دوسرا بادشاہ تخت پر بٹھا دیتے۔

صوبیداروں کا موڈ ہوا تو خراج اور لگان کا کچھ حصہ دربار روانہ کر دیا۔ موڈ بگڑا تو شاہی خزانے میں بھی سیند لگا دی۔

چنانچہ بادشاہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچتا تھا کہ وہ اہلِ حرفہ، کرخنداروں اور چونگی عبور کرنے والوں کو مزید نچوڑ کر شاہی وضع داری کی پیوندکاری کے ساتھ ساتھ انا پر پے در پے لگتے زخموں کی ٹکور کرتا رہے۔

مجھے اس آدمی کی قبر کا پتہ چاہیے جس نے یہ کہا تھا کہ تاریخ خود کو نہیں دہراتی۔

نوٹ: یہ کالم بی بی سی اردو کے شکریے کے ساتھ شایع کیا گیا، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں. آپ اس تحریر  ذیل میں موجود لنکس پر شیئر بھی کر سکتے ہیں.

Tags:

Ali Ahmed KurdAsma jahngir ConferencePakistan Justice System
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جِم جونز اور 900 سے زیادہ امریکیوں کی ’اجتماعی خودکشی‘ کا دہلا دینے والا واقعہ!

Next

ناسا کا ’خود کش خلائی جہاز‘ آسمانی چٹان پر حملہ کرنے کو تیار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme