Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

21 مارچ کو زمین کے نزدیک سے رواں برس کا سب سے بڑا سیارچہ گزرے گا، جو خطرناک بھی ہو سکتا ہے

By Akhtar Rasool
مارچ 13, 2021 2 Min Read
0

امریکا کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے کہا ہے کہ 21 مارچ بروز اتوار 915 میٹر قطر والا سیارچہ زمین سے 20 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے گزرے گا

عالمی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق سیارچہ ’’2001 FO32‘‘ اتوار کو زمین کے نزدیک سے گزرے گا، جسے خلا باز قریب سے دیکھ سکیں گے۔ یہ سال کا سب سے بڑا سیارچہ ہوگا جو زمین سے صرف 20 لاکھ کلو میٹر کی دوری سے گزرے گا

ناسا کے اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سیارچے کو 20 کی جسامت کے برابر یا اس سے بڑے 95 فیصد سیارچوں کی فہرست تیار کی جا چکی ہے اور اگلی صدی تک ان میں سے کسی کا بھی زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے

ناسا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 1 لاکھ 24 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے گا جو رفتار زمین کے نزدیک سے گزرنے والے سیارچوں کی عمومی رفتار سے زیادہ ہے۔ اس سیارچے کو 20 سال قبل دریافت کیا گیا تھا

دوسری جانب زمین کے نزدیک سے گزرنے والی خلائی اجزا کے مطالعے کے ادارے کے ڈائریکٹر پاؤل چوڈاز کا کہنا ہے کہ جب یہ گزر رہا ہو گا تو آسمان پر موجود تمام اجزا سے زیادہ روشن نظر آئے گا۔ گو زمین اور سیارچے کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوگا تاہم اسے خطرناک قرار دیا جا سکتا ہے

ناسا کے لانس بینر نے بتایا کہ اس قدر قریب سے گزرنے سے سیارچے کی سطح سے سورج کی کرنوں کے عکس سے ہمیں اس سیارچے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا موقع ملے گا کیوں کہ فی الوقت ہمارے پاس اس کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں

اس حوالے سے مزید تفصیل بتاتے ہوئے ناسا کے سائنس دان کا مزید کہنا تھا کہ سورج کی کرنوں کے سطح سے ٹکرانے سے پتھروں میں موجود معدنیات روشنی جذب کر کے اس کا انعکاس کرتی ہیں اور منعکس کی گئی روشنی کے مطالعے سے معدنیات میں موجود کیمیکلز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﺎ ﻧﻔﺎﺫ، کفالت نظام ختم

Next

"سول ڈرون اتھارٹی” کا قیام، وزیراعظم نے منظوری دے دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme