
واشنگٹن کی پُرآسائش غلام گردشوں میں لیا گیا ایک غیر لچکدار فیصلہ یا تہران کے سنگلاخ ارادوں کی گونج، آپ کے کچن کے بجٹ اور گاڑی کے ایندھن کی قیمت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ یہ وہ تزویراتی پہیلی ہے جس نے اس وقت عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ امن تجویز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد، ماہرین ایک ایسے عالمی معاشی سونامی کی پیش گوئی کر رہے ہیں جسے ‘معاشی کووڈ’ (Economic Covid) کا نام دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تزویراتی تعطل (Strategic Deadlock) چند ہفتے مزید برقرار رہا، تو عالمی معیشت کا دھڑن تختہ ہونا یقینی ہے۔
مہنگائی کا طوفان: 130 ڈالر کا تیل اور مفلوج ہوتا عالمی نظام
عالمی معاشی بساط پر جو اعداد و شمار اس وقت گردش کر رہے ہیں، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے سوہانِ روح ہیں۔ ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ نہ نکلی، تو دنیا کو درج ذیل ہولناک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا:
● خام تیل کی قیمتیں: جنگ سے قبل خام تیل 75 ڈالر فی بیرل کی سطح پر تھا، جو اب غیر یقینی صورتحال کے باعث 130 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ قیمتوں میں تقریباً 71 فیصد کا براہ راست اور کمر توڑ اضافہ ہوگا۔
● ایل این جی اور گیس کا بحران: گیس کی قیمتیں 10 سے 15 ڈالر فی یونٹ سے چھلانگ لگا کر 20 سے 30 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، یعنی قیمتوں میں تین گنا اضافہ متوقع ہے۔
● ہوائی سفر کا خاتمہ: ایوی ایشن فیول کی قیمتیں اس قدر بلند ہو جائیں گی کہ بین الاقوامی ایئر لائنز کے لیے پروازیں اڑانا ناممکن ہو جائے گا، جس سے عالمی سفری نظام منجمد ہو کر رہ جائے گا۔
● بحری ناکہ بندی: خلیجِ ہرمز میں جاری تنازع کی وجہ سے عالمی تجارت کی شہ رگ کٹ جائے گی، جس سے کارگو بحری جہازوں اور کنٹینرز کی نقل و حرکت رکنے سے عالمی سپلائی چین موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عالمی متوسط طبقے کے لیے ”معاشی خودکشی“ کا پیغام ہیں۔ جب ایندھن اور توانائی اس قدر مہنگی ہوگی، تو ٹرانسپورٹ سے لے کر فیکٹریوں کی پیداوار تک، ہر چیز عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائے گی۔
کسانوں پر وار: یوریا کی قیمتوں میں 67 فیصد اضافہ
اس بحران کا سب سے ہولناک پہلو غذائی تحفظ (Food Security) پر حملہ ہے۔ یوریا، جو کہ زراعت کی روح ہے، اس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جنگ سے پہلے یوریا کی قیمت 380 ڈالر فی ٹن تھی، جو اب 750 ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے (تقریباً 67 فیصد اضافہ)۔
بھارت جیسے ممالک، جو اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال قحط کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ مغربی ماہرینِ معیشت واضح طور پر انتباہ کر رہے ہیں کہ اگر کھاد کی سپلائی بحال نہ ہوئی، تو دنیا کو نہ صرف مہنگائی بلکہ ”خشک سالی جیسی معاشی صورتحال“ اور شدید قحط کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہرمز کی حکمتِ عملی: منطق بمقابلہ انا کی جنگ
پاکستان کی ”ثالثی“ میں ایران نے ایک انتہائی منطقی اور حقیقت پسندانہ تجویز پیش کی تھی تاکہ عالمی معیشت کو سانس لینے کا موقع ملے۔ ایران کا موقف دو مراحل پر مشتمل تھا:
1. پہلا مرحلہ: خلیجِ ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر کے تیل، گیس اور کیمیکلز کی عالمی تجارت بحال کی جائے تاکہ دنیا معاشی تباہی سے بچ سکے۔
2. دوسرا مرحلہ: جب تجارتی راستہ کھل جائے، تو پرسکون ماحول میں ’نیوکلیئر ڈیل‘ کے پیچیدہ معاملات پر بات کی جائے۔
لیکن صدر ٹرمپ نے اس منطق کو اپنی سیاسی ضد کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ پہلے ’ایٹمی معاہدے‘ پر بات ہوگی، اس کے بعد ہرمز کا مسئلہ دیکھا جائے گا۔ یہ ایک ایسا تزویراتی مغلوبہ ہے جسے ماہرین ٹرمپ کی ’تزویراتی غلطی‘ قرار دے رہے ہیں، یعنی دنیا بھوک سے مرتی رہے لیکن سیاسی برتری کا جھنڈا بلند رہے۔
وائٹ ہاؤس میں بغاوت: جے ڈی ونس بمقابلہ ٹرمپ
ٹرمپ کی اس سخت گیری نے خود ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک حالیہ ہنگامی اجلاس میں نائب صدر جے ڈی ونس اور دفاعی مشیر پیٹ ہیگزتھ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
جہاں پینٹاگون کے بعض مشیر ٹرمپ کو یہ پٹی پڑھا رہے ہیں کہ ناکہ بندی سے ایران گھٹنے ٹیک دے گا، وہاں جے ڈی ونس نے سچائی کا آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ”مشیر صدر کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں۔“ ونس کی دو ٹوک وارننگ یہ تھی کہ ایرانی معیشت ٹھپ ہونے سے پہلے امریکی معیشت زمین بوس ہو جائے گی۔ امریکہ اس عالمی معاشی دباؤ کو تین ماہ سے زیادہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
ایران کا چار گنا جواب
ایران کا عسکری اور فلسفیانہ رویہ مغربی طاقتوں کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب صرف دفاع نہیں کرے گا بلکہ ”تادیبی“ کارروائی کرے گا۔ ایرانی نائب صدر محمدباقر قالیباف نے اس نئی عسکری ڈاکٹرائن کو ”کواڈرپل تھریٹ“ (1=4) کا نام دیا ہے: ”ایران نے دو ٹوک پیغام دے دیا ہے کہ اب ہماری ریاضی بدل چکی ہے تم ہمارا ایک مارو گے، ہم تمہارے چار ماریں گے۔“
لیکن سوال یہاں یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ کو اس سے کوئی فرق پڑے گا؟ کیونکہ ایرانی جوابی حملوں کا تناسب دیکھا جائے تو امریکہ احداف کے بجائے ایران نے اب تک عرب ملکوں میں زیادہ حملے کیے ہیں، اور وہ بھی اقتصادی احداف پر۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض بیان بازی نہیں بلکہ پانچ ہزار سالہ قدیم فارسی تہذیب کا غرور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ وہی ایرانی ہیں جنہوں نے ظہورِ اسلام سے قبل ایک رومی شہنشاہ کو قیدی بنا کر اپنے ہاں رکھا تھا۔ وہ خود کو عالمی بساط کے بڑے کھلاڑی سمجھتے ہیں، لہٰذا ان کے نزدیک یہ جنگ اب ”مارو یا مرو“ کا مسئلہ بن چکی ہے۔
شاہی مداخلت: شاہ چارلس کا مشورہ اور ”فیس سیونگ“
اس تاریک منظر نامے میں ایک غیر متوقع روشنی کی کرن برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس III کی صورت میں ابھری ہے۔ شاہ چارلس، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دیرینہ ذاتی دوست سمجھے جاتے ہیں، اس وقت ایک ”فَیس سیونگ“ یعنی عزت بچانے والا راستہ نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ شاہ چارلس نے ٹرمپ کو نجی طور پر سمجھایا ہے کہ عالمی ٹرانسپورٹ، گیس اور کیمیکلز کی فراہمی رکنے سے پوری دنیا میں جو دشنام طرازی شروع ہوگی، اس کا رخ براہ راست وائٹ ہاؤس کی طرف ہوگا۔ کیا شاہی سفارت کاری ٹرمپ کی ضد کو لچک میں بدل پائے گی؟ یہ اب ایک بڑا سوال ہے۔
ٹرمپ کی کرسی اور نومبر کا خوف
ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی اس سنگلاخ پالیسی کے پیچھے ایک گہرا سیاسی خوف بھی چھپا ہوا ہے۔ نومبر کے وسط مدتی (Mid-term) انتخابات قریب ہیں اور ریپبلکن پارٹی کی حالت نازک ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہ جن قابو میں نہ آیا، تو ٹرمپ کے لیے کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
اگر ریپبلکنز الیکشن ہار جاتے ہیں، تو ڈیموکریٹس کے پاس ٹرمپ کے خلاف مواخذے (Impeachment) کی تحریک چلانے کا سنہری موقع ہوگا۔ ٹرمپ اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں پھنس چکے ہیں جہاں وہ اپنی اس تزویراتی شکست کو اپنے ووٹرز کے سامنے ایک فرضی ”فتح“ بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
کیا ہم محض ’کولیٹرل ڈیمیج‘ ہیں؟
عالمی رہنماؤں کی انا اور بالادستی کی اس جنگ میں سب سے تلخ سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری کی بقا محض ’کولیٹرل ڈیمیج‘ بن کر رہ گئی ہے؟ ایسی گھاس، جو ہاتھیوں کی لڑائی میں لتاڑی جاتی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو اپنی بات پر اڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف ٹرمپ کی وہ سیاسی ضد ہے جو پوری دنیا کو معاشی اندھیرے میں دھکیل سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں کسی ایک فریق کو ”کڑوی گولی“ نگلنا ہی ہوگی۔ اگر سمجھوتہ نہ ہوا، تو آنے والے چند ماہ عالمی معیشت کے لیے اتنے تباہ کن ہوں گے کہ جس کا ازالہ شاید کئی دہائیوں تک ممکن نہ ہو۔ کیا عالمی قیادت ایک عالمی معاشی خودکشی سے پہلے ہوش کے ناخن لے گی؟ یا پھر انا کی یہ آگ سب کچھ بھسم کر دے گی؟ جواب آنے والے چند ہفتوں میں مل جائے گا۔
______________________




