پلیٹ سے کُوڑے دان تک: خوراک کے ضیاع کی خاموش عالمی کہانی

سنگت ڈیسک

دنیا اس وقت ایک عجیب اور تکلیف دہ تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف کروڑوں لوگ بھوک اور غذائی قلت کے ہاتھوں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف وہی دنیا ہر سال اتنی خوراک ضائع کر دیتی ہے جو کروڑوں انسانوں کے پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ یہ تضاد محض اعداد و شمار کی سرد حقیقت نہیں بلکہ انسانی رویوں، معاشی نظام اور وسائل کے استعمال کے طریقوں کی ایک پیچیدہ داستان بھی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب ٹن قابلِ خوردنی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ اس حیران کن حقیقت کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ضائع ہونے والی خوراک کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ گھروں میں ضائع ہوتا ہے۔ یعنی وہ خوراک جو گھروں کے کچن تک پہنچتی ہے، پلیٹ تک آتی ہے اور پھر کوڑے دان کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔

اسی سنگین مسئلے کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے ہر سال 30 مارچ کو خوراک کے ضیاع کو روکنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مرکزی پیغام بہت سادہ لیکن نہایت معنی خیز ہے: ”خوراک کے ضیاع کو روکنے کا آغاز اپنی پلیٹ سے کریں“۔

یہ پیغام دراصل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک کے ضیاع کا مسئلہ صرف حکومتوں، صنعتوں یا بڑے اداروں کا نہیں بلکہ ہر فرد کے روزمرہ طرزِ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

ایک تہائی خوراک ضائع، کروڑوں انسان بھوکے

دنیا میں پیدا ہونے والی مجموعی خوراک کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سالانہ تقریباً 1.3 ارب ٹن خوراک مختلف مراحل میں ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ وہ خوراک ہے جس کے لیے زمین کا استعمال ہوا، پانی خرچ ہوا، کھاد اور توانائی استعمال ہوئی اور لاکھوں کسانوں کی محنت شامل تھی۔

اس کے برعکس دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی اندازوں کے مطابق تقریباً 29 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاکھوں بچے ایسے ہیں جو روزانہ بھوکے سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یہ صورتحال انسانی تہذیب کے لیے ایک گہرا سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر خوراک کی پیداوار اتنی زیادہ ہے تو پھر بھوک کیوں موجود ہے؟ جواب یہی ہے کہ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ تقسیم اور استعمال کے نظام کا بھی ہے۔

گھروں میں سب سے زیادہ ضیاع

خوراک کے ضیاع کے حوالے سے ایک عام تصور یہ رہا ہے کہ زیادہ تر خوراک کھیتوں یا سپلائی چین میں ضائع ہوتی ہے، لیکن تازہ تحقیق نے ایک مختلف حقیقت سامنے رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں ضائع ہونے والی خوراک کا تقریباً 60 فیصد حصہ گھریلو سطح پر ضائع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیٹرنگ سروسز کا حصہ آتا ہے جبکہ باقی ضیاع پرچون اور سپلائی چین میں ہوتا ہے۔

گھریلو سطح پر خوراک کے ضیاع کی کئی وجوہات ہیں۔ ضرورت سے زیادہ خریداری، کھانے کو مناسب طریقے سے ذخیرہ نہ کرنا، کھانے کی میعاد ختم ہونے کا غلط اندازہ لگانا اور بچ جانے والی خوراک کو دوبارہ استعمال نہ کرنا، یہ سب عوامل مل کر ایک بڑے مسئلے کو جنم دیتے ہیں۔

شہری زندگی کے تیز رفتار انداز نے بھی اس مسئلے کو بڑھایا ہے۔ سپر مارکیٹوں میں بڑی مقدار میں خریداری اور کھانے کی بے شمار اقسام تک آسان رسائی نے صارفین کو ضرورت سے زیادہ خوراک خریدنے کی عادت ڈال دی ہے۔

خوراک ضائع کرنے والے ممالک، پاکستان سر فہرست ممالک میں شامل

حالیہ عالمی اعداد و شمار نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کن ممالک میں فی کس خوراک کا ضیاع سب سے زیادہ ہے۔

2024 کے اندازوں کے مطابق مصر اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں ہر فرد سالانہ اوسطاً 155 کلوگرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ حیران کن طور پر پاکستان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں فی کس تقریباً 122 کلوگرام خوراک سالانہ ضائع ہو جاتی ہے۔

اسی طرح نائجیریا میں یہ مقدار 106 کلوگرام، میکسیکو میں 102 کلوگرام اور برازیل میں تقریباً 95 کلوگرام ہے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خوراک کا ضیاع صرف امیر معاشروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی یہ ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔


یہ بھی پڑھیں:

فریج سے گوشت کی بدبو ختم کرنے اور فریج کے بغیر گوشت محفوظ کرنے کے طریقے

گھر کے چائے کا مرکب: منفرد چائے، صحت بخش خصوصیات اور مزیدار ذائقوں سے بھرا ہوا

زرعی ملک لیکن ضائع ہوتی پیداوار

پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے خوراک کا ضیاع ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، لیکن کھیت سے منڈی تک کے سفر میں بڑی مقدار میں پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔

فصلوں کی کٹائی کے بعد مناسب ذخیرہ نہ ہونے، ٹرانسپورٹ کے مسائل، موسمی اثرات اور منڈی تک رسائی کے ناقص نظام کے باعث کسانوں کی محنت کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں کے شعبے میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہے جہاں خراب پیکنگ، طویل فاصلے اور ناقص کولڈ اسٹوریج کی وجہ سے بڑی مقدار میں پیداوار منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف ہر سال سرکاری گوداموں میں گندم کے ضائع ہونے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

اس کے علاوہ گھریلو سطح پر بھی خوراک کے ضیاع کی ایک الگ کہانی ہے۔ شادیوں، دعوتوں اور دیگر تقریبات میں بڑی مقدار میں تیار کیا گیا کھانا اکثر استعمال کے بجائے ضائع ہو جاتا ہے۔

تقریبات اور ضائع ہوتا کھانا

پاکستانی معاشرے میں مہمان نوازی اور فراخ دلی کو ایک اہم قدر سمجھا جاتا ہے، لیکن یہی روایت بعض اوقات خوراک کے ضیاع کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

شادیوں اور بڑی دعوتوں میں سینکڑوں مہمانوں کے لیے تیار کیا جانے والا کھانا اکثر ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔

یہ صرف کھانے کا ضیاع نہیں بلکہ اس کے ساتھ پانی، توانائی، زمین اور انسانی محنت جیسے وسائل بھی ضائع ہو جاتے ہیں جو اس خوراک کی تیاری میں استعمال ہوئے تھے۔

 

 مسئلے کا حل کہاں ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

حکومتیں ایسی پالیسیاں بنا سکتی ہیں جو غذائی نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنائیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے منصوبے بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے واضح اہداف مقرر کریں اور انہیں اپنی کاروباری حکمت عملی کا حصہ بنائیں۔

لیکن سب سے اہم کردار عام صارفین کا ہے۔ اگر لوگ اپنی خریداری کی عادات میں تبدیلی لائیں، خوراک کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کریں اور بچ جانے والے کھانے کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کریں تو خوراک کے ضیاع میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

ہماری پلیٹ، ہماری ذمہ داری

خوراک کے ضیاع کا مسئلہ بظاہر عالمی سطح کا ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس کا آغاز بہت چھوٹے پیمانے سے ہوتا ہے، ہماری اپنی پلیٹ سے۔

اگر ہم اتنا ہی کھانا لیں جتنا واقعی کھا سکتے ہیں، بچ جانے والے کھانے کو محفوظ رکھیں اور خوراک کو ایک نعمت سمجھ کر اس کی قدر کریں تو یہ چھوٹے اقدامات بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی لا سکتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی اور محدود آمدنی عام لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے، خوراک کے ضیاع کو کم کرنا نہ صرف معاشی ضرورت ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک کتنی پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس خوراک کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔


اب پیاز آپ کو نہیں رُلائے گی!

مچھلی کا کانٹا گلے میں اٹک جانے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button