Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Pakistani-Politician-Nawaz-Sharif
کالماہم ترینتازہ ترین

’نواز شریف کو کوئی نہیں ہنسا سکتا‘

By Akhtar Rasool
مئی 19, 2024 3 Min Read
0

حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں میاں نواز شریف کے سوا کوئی تین بار وزیرِ اعظم نہیں بنا۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا وزیرِ اعظم نہیں گزرا جسے دو بار (2000 اور 2019 میں) ایسی سزا ہوئی ہو، جس میں ضمانت تو کیا پیرول پر رہائی بھی عام آدمی کے لیے ناممکن ہے

مگر دونوں بار میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے بیچ میں سے ایسے نکلے، جیسے بیسویں صدی کا عظیم شعبدہ باز ہوڈینی ہر بار پانی کے گہرے ٹینک میں زنجیر بکف قید ہونے کے باوجود باہر نکل آتا تھا۔

میاں صاحب کے خلاف جتنے بھی مقدمات بنائے گئے اور ان مقدمات میں جتنی بھی سزائیں اور جرمانے سنائے گئے، وہ ان سب سے ایسے بری ہوئے کہ خود بھی ششدر رہ گئے۔

میاں صاحب اتنے خوش قسمت ہیں کہ اس وقت ان کا بدترین سیاسی دشمن سیاست سے نااہل قرار پا کے جیل میں ہے۔ بیسیوں مقدمات اس دشمن سے آکٹوپس کی طرح لپٹے ہوئے ہیں۔

خود میاں صاحب قومی اسمبلی کے ’چنتخب‘ رکن ہیں۔ ان کے برادرِ خورد دوسری بار وزیرِ اعظم مقرر ہوئے ہیں۔ ان کے سمدھی نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ اور غیر رسمی وزیرِ خزانہ یعنی تھری ان ون ہیں۔

ان کی صاحبزادی سب سے بڑے صوبے کی وزیرِ اعلٰی ہیں اور خود میاں صاحب برسرِ اقتدار جماعت کے سپریم لیڈر ہیں۔

پھر بھی جو مل گیا اس پر خوش، مطمئن اور قانع ہونے کے بجائے وہ پہلے سے زیادہ افسردہ ہیں۔

ان کے اس غم کا مداوا دنیا کی کوئی راحت نہیں کر سکتی کہ ’مجھے تینوں بار کیوں نکالا؟‘ ۔۔۔ ’میرا قصور کیا تھا؟‘ ۔۔۔ ’مجھے نکالا تو قوم مجھے نکالنے والوں کے خلاف باہر کیوں نہیں نکلی؟‘ ۔۔۔ ’کیا میں نے موٹرویز نہیں بنائے؟ کیا ایٹمی دھماکے نہیں کیے۔ کیا میں نے اقتصادی ترقی کے بڑے بڑے منصوبے شروع نہیں کیے؟ تو پھر کیوں نکالا؟ ۔۔۔ ’ان جرنیلوں اور ججوں کو کب کٹہرے میں کھڑا کیا جاوے گا؟ جنہوں نے مجھے نکالا؟ کیوں نکالا؟ کیوں نکالا؟ آخر کیوں نکالا؟‘

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا،
ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا۔۔

میاں صاحب عمر کے اس حصے میں ہیں، جہاں اکثر انسان حال سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے ماضی کی کٹیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور خود پر ترس کھاتے رہتے ہیں۔

رفتہ رفتہ یادداشت بھی منتخب ہو جاتی ہے۔ زندگی میں جہاں جہاں جو جو سمجھوتے کیے یا جس جس کو سیڑھی سے گرایا اور جس جس کو سیڑھی بنا کے اوپر آئے اور جنہوں نے بار بار سیڑھی کھینچی، انہی کے طفیل قانونی و سیاسی و انتخابی مشکلات سے بھی نکلے۔

کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ بس ایک ’میں اور مجھے‘ ذہن میں پھانس کی طرح اٹک جاتی ہے اور اس پھانس کی ٹیس کبھی سکون سے نہیں رہنے دیتی۔

آپ کو کسی بھی وزیرِ اعظم کی دو چار قہقہہ بار تصاویر ضرور انٹرنیٹ پر مل جائیں گی۔ میاں صاحب کی کوئی کھلکھلاتی تصویر نکال کے دکھائیں تو جانیں۔ آپ کے لبوں پر کبھی کبھی جو تبسم بھی آتا ہے، اس میں بھی بے ساختگی بمشکل جگہ بنا پاتی ہے۔

جب میاں صاحب طاقت کا منبع تھے، تب بھی نہ ہی اپنا نامزد کردہ کوئی اچھا سپاہ سالار ملا اور نہ ہی کوئی اچھا جج۔۔ اور آج جب وہ سیاسی حاشیہ بن چکے ہیں، تب بھی وہ 1993، 1999، 2015 اور 2018 میں خیمہ زن ہیں مگر آٹھ فروری 2024 کے یومِ بحالیِ شریف خاندان کا ذکر نہیں کرتے۔

حیدر آباد دکن کے آخری تاجدار میر عثمان علی خان جب کم سن تھے تو ان کے والد میر محبوب علی خان روزانہ ایک طلائی سکہ دیا کرتے تھے۔ ایک دن میر محبوب علی خان دربار سے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ صاحب زادے پریشانی کے عالم میں باغ میں کچھ تلاش کر رہے ہیں اور پسینے پسینے ہو رہے ہیں۔ پتہ چلا کہ ان کا طلائی سکہ کہیں کھو گیا ہے۔ والد نے میر عثمان علی خان کو کہا کہ صاحب زادے آپ کیوں خود کو تھکا رہے ہیں، یہ لیجیے نیا سکہ اور اسے سنبھال کے رکھیے۔

سہہ پہر کو قیلولے کے بعد جب میر محبوب علی خان دوبارہ باغ سے گذرے تو دیکھا کہ صاحبزادے وہیں موجود ہیں اور کھویا ہوا سکہ بدستور ڈھونڈ رہے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

imran khan nawaz sharifimran khan vs nawaz sharifMaryam Nawazmaryam nawaz sharifNawaz Sharifnawaz sharif imran khannawaz sharif imran khan combinenawaz sharif imran khan ek saathnawaz sharif in actionnawaz sharif in londonnawaz sharif latestnawaz sharif latest newsnawaz sharif livenawaz sharif londonnawaz sharif newsNawaz Sharif Returnnawaz sharif speechnawaz sharif todaypm nawaz sharifpm shehbaz sharifShehbaz Sharif
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Imkaan-ki-sarhad-by-amar-jalil
Previous

امکان کی سرحد

The-story-of-a-scientist-who-stepped-on-snakes-thousands-of-times-for-the-experiment
Next

ایک سائنسدان کی کہانی، جس نے تجربے کے لیے سانپوں پر ہزاروں بار پیر رکھا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme