پاکستان میں ذات پات کا نظام
عام خیال یہ ہے کہ ذات پات کا نظام صرف بھارت میں مضبوط رہا ہے، جہاں ہندو مت کے عقائد کے مطابق الوہی طور پر ہندو سماج کی تقسیم برہمن، کھشتری، ویش اور شودر میں ہے، جن میں برہمن کا کام مذہبی رسومات کی ادائیگی، پوجا پاٹ اور مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہے۔…
قحطِ آب میں سسکتے پرندے: سندھ میں مہمان آبی پرندوں کی اُجڑی بستیاں
کہتے ہیں جب ہوائیں بدلتی ہیں تو پرندے بھی راستہ بدل لیتے ہیں، مگر سندھ کی زمین پر جو منظر اب ابھرتا جا رہا ہے، وہ صرف ہواؤں کا قصہ نہیں، پانی کے ناپید ہوتے خوابوں کا نوحہ بھی ہے۔ 2023 تک سندھ کی جھیلیں، دلدلی علاقے اور کھلے پانی کے ذخائر دنیا بھر کے…
بلوچ کے حقِ حکمرانی سے کیا مراد؟
جب بات بلوچ کے حقِ حکمرانی کی ہوتی ہے تو اکثر یہی سننے کو ملتا ہے کہ کب بلوچ کی بات نہیں سنی گئی، کب بلوچ کو فیصلہ کا حق نہیں ملا!؟ بلوچ کو ووٹ کا حق حاصل ہے، بلوچ رہنما پارلیمنٹ کا حصہ بھی ہیں۔۔! لیکن کیا یہ سچ ہے کہ بلوچستان کے حقیقی…
اور ہوا خاموش ہو گئی۔۔۔ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور میں بہتی جا رہی ہوں۔ تھم نہیں سکتی ہوں، کوئی سرائے میرے لئے نہیں بنی ہے۔ میرے لئے تو ہیں ارد گرد کے بکھرے مناظر۔۔ اب وہ چاہے جیسے بھی ہوں، ان سے نظریں نہیں پھیر سکتی میں۔ اپنے ساتھ لائی کچھ بھلی بری بوئوں کو ،راہ میں…
علم پر اجارہ داری کے نقصانات
علم کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ نئے خیالات اور افکار کے ذریعے معاشرے میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔ تاریخ میں قدیم دور سے موجودہ زمانے تک ہم علم کو ایک دوسری شکل میں بھی دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی ایک طبقہ اِس پر اپنی اجارہ داری قائم کر لے تو اُس…
اچھی نیند: صحت و سکون کی خاموش محافظ۔۔ پانچ سائنسی طریقے جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں!
دنیا بھر میں تندرستی کی تحریک زوروں پر ہے۔ ہم نت نئے ڈائٹ پلانز، ورزش کے لیے مہنگے جمز کی ممبرشپ، فوڈ سپلیمنٹس اور فٹنس گیجٹس پر پیسے اور وقت خرچ کرتے ہیں۔۔ پھر وہ گھر جاتے ہیں، رات گئے تک ٹی وی دیکھتے ہیں، موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ…
واپسی (افسانہ)
مہران کئی برسوں بعد لندن سے ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن واپس آ رہا تھا۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر پھیلے بادلوں کے اُس پار وہ بار بار اپنے گاؤں کی مٹی، کھیت، اور بچپن کی یادوں کو محسوس کر رہا تھا۔ اُس کے ذہن کے پردے پر وہی کچے راستے، وہی مٹی کی…
کیا یہ زندگی ہم جی رہے ہیں یا ہمارے موبائل؟
دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دنیا کنچے، گلی کی کرکٹ، سہیلیوں کی دعوت، چائے کے ڈھابوں سے ہوتی ہوئی ایک اسکرین میں سمٹ گئی ہے۔ ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں زندگی کو جینے سے زیادہ ’ریکارڈ‘ کیا جا رہا ہے۔ اب ہر لمحہ، چاہے وہ سادہ سا ناشتہ ہو یا آپ کے بچے…