Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Our-life-mobile-and-our-privacy
کالماہم ترینتازہ ترین

کیا یہ زندگی ہم جی رہے ہیں یا ہمارے موبائل؟

By Akhtar Rasool
اپریل 19, 2025 4 Min Read
0

دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دنیا کنچے، گلی کی کرکٹ، سہیلیوں کی دعوت، چائے کے ڈھابوں سے ہوتی ہوئی ایک اسکرین میں سمٹ گئی ہے۔ ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں زندگی کو جینے سے زیادہ ’ریکارڈ‘ کیا جا رہا ہے۔

اب ہر لمحہ، چاہے وہ سادہ سا ناشتہ ہو یا آپ کے بچے کی پہلی مسکراہٹ، صرف اسی وقت اہم ہے جب اسے دنیا کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

یہ شیئر کرنے کی کم بختی بھی عجیب ہے، کچھ اپنی زندگی کی جھوٹی تصویر پیش کر رہے ہیں اور اپنے فالوورز، دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ دکھا رہے ہیں کہ وہ کتنے خوش حال ہیں۔

کچھ نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ شاندار تعلق کی تصاویر لگانے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے، چاہے اصل میں جائیداد کی تقسیم کے جھگڑے چل رہے ہوں۔ کچھ نے کتاب پکڑ کر دو چار تصاویر لگانی ہیں اور چند ایک فلسفیانہ تبصروں سے خود کو ارسطو ثابت کرنا ہے، اور یہ سب کچھ شیئر کرنے کے نام پہ ہو رہا ہے۔

گھبرائیں نہیں آپ اکیلے نہیں، اس فہرست میں خود میں بھی شامل ہوں۔

میں حال ہی میں روم گئی۔ ایک خوابوں جیسا شہر، تاریخ اور حسن سے بھرپور۔ مگر وہاں کے چپے چپے کی ویڈیوز میرے پاس ہونے کے باوجود، لگتا ہے جیسے میں نے کچھ نہیں دیکھا۔

تریوی فاؤنٹین کی خوبصورتی تو انسانوں کے ہجوم میں کہیں کھو گئی تھی۔ سینکڑوں لوگ، ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر، صرف ایک تصویر کی تلاش میں تھے۔

یہی تجربہ استنبول میں ہوا۔ اس شہر کو میں نے پہلے یوٹیوب پر دیکھا، پھر انسٹاگرام پر، اور آخرکار اپنی آنکھوں سے۔۔ مگر دیکھنے کا زاویہ وہی رہا، جو سوشل میڈیا نے دیا۔

میں نے مارک وینز جیسے مشہور فوڈ وی لاگر کی بتائی گئی جگہوں سے کھانا کھایا، واقعی وہ ذائقہ دار کھانے تھے۔۔ لیکن کیا یہ میرا اپنا تجربہ تھا؟ یا بس کسی اور کی ہدایت پر کیا گیا روبوٹک دورہ؟

سوال یہ ہے کہ جب ہم کسی جگہ کو اپنی نگاہ سے نہیں دیکھتے، اپنی حس سے نہیں جیتے، تو کیا ہم وہاں واقعی گئے بھی ہوتے ہیں؟ اپنے فون کی گیلری کھول کر دیکھیں۔ وہاں وہ سینکڑوں تصاویر ہیں جن میں کھانا تو ہے، مگر ذائقہ کیا تھا، یہ یاد نہیں۔

بوندا باندی کے درمیان دھوپ نکلی تو قوس قزح بننے کی ویڈیو موجود ہے، لیکن وہ منظر آنکھوں نے کب دیکھا؟ وہ تو کیمرے کے لینز کی نظر ہو گیا تھا۔

سامنے عابدہ پروین نے تان لگائی ہے، ماحول میں سُروں کی خوشبو بکھری ہے، لیکن نہیں بھاڑ میں گئی سُروں کی خوشبو، ہمارے ہاتھ میں موبائل ہے اور ہم تصاویر لینے اور ریکارڈ کرنے پہ تُلے ہیں۔

وہ شاعری کا جادو، سُروں کی خوشبو میں جھومنے کا لمحہ سب موبائل کا اینگل درست کرنے میں کہیں کھو گیا۔

وہ لمحات جو کبھی ہم اپنے پانچوں حواسوں کے ساتھ چکھتے تھے، اب موبائل کی عینک کے ذریعے قید ہوتے ہیں۔ ان تصاویر اور وڈیوز لینے کی مصیبت میں ایک یہ بھی اضافہ کر لیں کہ کچھ بھی اپنے اصل کی طرح نہیں ہوتا۔

میں نے یہاں ناروے کے ایک علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی جھیل دیکھی، جس میں جامنی، لال اور گلابی رنگوں کے ساتھ سورج کی کرنیں پانی پہ پھیل رہی تھیں، سورج دو اونچے پہاڑوں کی اوٹ سے نیچے اتر رہا تھا، جھیل کا پانی ساکت تھا اور اس نظارے کی وسعت اتنی تھی کہ وہ پہاڑ کم از کم ساٹھ ستر کلومیٹر دور تھے۔

میں نے ایپل اور گوگل کے دو جدید ترین موبائل فونز سے اس منظر کی تصاویر لیں، درجنوں ویڈیوز بھی بنائیں مگر مجال ہے کہ اس اصل منظر کی خوبصورتی کا ایک فیصد بھی ان موبائل فونز کے قابو میں آسکا ہو۔

موبائل فون اصل دکھاتے ہی کہاں ہیں!

زندگی کے نشیب و فراز، لنڈے کے کپڑے، پھٹی بیڈ شیٹ، سٹیل کے گلاس، ادھڑا صوفہ، گھر کی دیوار سے اترتی رنگ کی پپڑی، ٹوٹے گملے، زنگ آلود مرکزی دروازے، سودا سلف سے پھیلا ہوا باورچی خانہ، چہرے کی جھریاں، ہونٹوں پہ پھیلتی لپ سٹک، بکھرا کاجل سب کچھ فلٹر ہو رہا ہے، ہر چیز پرفیکٹ دکھائی جا رہی ہے۔

یہ تحریر صرف سمارٹ فون سے پہلے کے دور کی پرانی یادوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس توجہ اور خوشی کے بارے میں ہے، جو ہم ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو دیتے تھے۔

شہر کے چوک میں لوگوں کو دیکھتے ہوئے چائے پینے کی خوشی، خریداری کرنے جائیں ڈھابے سے چھولے کی چاٹ یا حلیم کی پلیٹ کھانے کی خوشی، ایسی خوشیوں کو موبائل فون نگل گیا۔

ہم نے جینے سے زیادہ لمحے قید کرنے کی مشق شروع کر دی۔ وہ بھی صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ ان سوشل میڈیا ناظرین کے لیے جنہیں خود اپنے موبائل میں بھری پکچر گیلری سے فرصت نہیں۔

تصاویر لینے کا فرض ہم سب ایسے پورا کر رہے ہیں جیسے لمحہ گزارنا تب ہی معنی رکھے گا جب وہ سوشل میڈیا فالورز لائکس دیں گے سُرخ دل کے نشان بھیجیں گے۔

موبائل کو ایک طرف رکھ کر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا واقعی ہمیں ہر چیز کو کیمرے میں اتارنا ضروری ہے؟ یا کچھ لمحات کو جینا، محسوس کرنا، اور دل میں محفوظ رکھنا زیادہ اہم ہے؟

شاید وقت آ گیا ہے کہ لمحے اور یادیں کیمرے میں قید کرنے کے بجائے انہیں آزاد کریں۔ ہم اپنی نگاہوں کو خودمختار بنائیں، جو چاہیں دیکھیں، اپنے زبان کو ذائقے چکھنے کا موقع دیں۔ اس لمحے کو جینا سیکھیں۔ ہر منظر تصویر کے لیے نہیں ہوتا اور ہر تصویر سوشل میڈیا پہ ڈالنے کے لیے نہیں ہوتی۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

Abida Parveen concertauthentic experiencesauthentic storytellingbefore smartphonesbroken potscandid momentscaptured through lenschai dhabaschasing likescherishing realnesscracked wallsdigital detoxdigital lifedigital memoriesemotional disconnectioneveryday beautyFacebook realityfake happinessfalse relationshipsfamily disputesfiltered lifefood joys lostforgotten tastesfreedom from camerasfriends gatheringsguided experienceshappiness beyond postsimperfect realitiesInnocence LostInstagram cultureIstanbul experiencejoy of simplicitylens lifelife before social medialife documentationlive the momentliving for followersliving with sensesloneliness behind screensLost Childhoodlost real momentslost senseslost social gatheringslost spontaneitymemory vs recordingmental cluttermindful livingmissed momentsmissed music magicmobile addictionmobile over musicmobile overusemobile-free lifemoments captivitynature lost on phoneneighborhood funNorwegian lake viewnostalgia of 90soffline joysold memoriesold-school happinessphone camera limitationsphone galleryphotography obsessionquestion mobile userainbow videoreal beauty missedreal livingreal-world magicreality vs virtualreclaiming momentsrecord vs liverobotic travelRome experiencescreen addictionscreenless momentsselfie culturesense of wondersimple shoppingslow lifesmall joyssmartphone impactsocial media facadesocial media lifesocial media obsessionsoulfulness missingstaged memoriesstorytelling lossstreet cricket memoriesstreet tea stallssunset photographytourist crowdstravel without livingunfiltered momentsvirtual happinessworn out homesYouTube tourism
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Scientists-claim-to-have-found-strongest-evidence-of-life-beyond-Earth
Previous

سائنسدانوں کا زمین سے باہر زندگی کے ’مضبوط ترین ثبوت‘ ملنے کا دعویٰ

Urdu-short-stories-and-fiction
Next

واپسی (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme