حماس اسرائیل معاہدہ: حماس نے سب کو پسپا کر دیا
غزہ میں اسرائیل کی جنگ 15 ماہ کے بعد جنوری 2025 کو اپنے انجام کی طرف بڑھ گئی ہے۔ اس کا یہ انجام اس معاہدے کے نتیجے میں ہوا ہے جو اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان ثالثوں کی مدد سے ہوا ہے۔ معاہدے کے دو اصل فریق…
اداسی کا مسکراتا چہرہ: لوگوں کو ہنساتے کامیڈینز کے اندر کی درد بھری دنیا
امر جلیل کے مشہور سندھی ڈراما ’مٹیءَ جا مانڑھو‘ (مٹی کے آدمی) کا ایک مکالمہ ہے، ”میں وہ مسخرہ ہوں، جو دنیا کو ہنسا کر، پردے کے پیچھے جا کر رو پڑتا ہے۔۔“ یہ مکالمہ کامیڈینز کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کامیڈینز کی زندگی ایک…
کونپل (افسانہ)
سگیاں کے پنڈت جے رام کی لڑکی سینکری کے دل میں بچپن ہی سے جس چیز کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی، وہ سونے کے زیور تھے اور ان میں بھی طلائی کنگنوں پر تو جیسے اس کا دم نکلتا تھا۔ سگیاں کی بےچاری غریب دیہاتنیں تو چاندی کی بالیوں، چوڑیوں، کڑوں، کنٹھوں،…
زندگی کا مقصد
کسی بھی معاشرے میں زندگی کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ کچھ افراد کی دلچسپی اس میں ہوتی ہے کہ دنیاوی سہولتوں کو حاصل کیا جائے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ اور دولت اکھٹی کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق کو غصب کیا جائے۔ بدعنوانی، غبن اور رِشوت کے ذریعے اپنا…
اخلاقی زخم، احساسِ جرم۔۔ لڑنے سے انکار کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کا کیا کہنا ہے؟
”غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نہتے فلسطینی نوجوان کے قتل کا منظر میرے ذہن میں نقش ہو گیا ہے۔“ یہ کہنا ہے اسرائیل کے آرمڈ کورپس کے افسر 28 سالہ یوتم ویلک کا، جو ان اسرائیلی فوجیوں میں شامل ہیں جنہوں نے جنگ میں مزید حصہ لینے سے انکار کر دیا…
ممنوعہ علاقہ: کِھیْرتَھر نیشنل پارک
”زمین کوئی سرمایہ نہیں جس پر ہمارا مالکانہ حق ہو، بلکہ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اس کی عطا کردہ زندگی کے تحفے کے بدلے اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں وہ سوال ہے، جس کا ہمیں آخرکار سامنا کرنا ہوگا: کیا زمین محض اشیاء کا ذریعہ ہے، یا یہ ہمارے سب…
سرحدوں کے پار بھٹکتے کرغیز خانہ بدوشوں کے سفر کی کہانی
تاریخ کے صفحات پر کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، جیسے وہ ہوائیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کر ان پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ جیسے چٹان پر مسلسل قطرہ قطرہ ٹپکتا وہ پانی، جو اس پر اپنا نشان ثبت کرتا ہے۔ یہ بھی ایک اہسی ہی کہانی ہے۔۔ ایک قبیلے…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…